حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی شہرت یافتہ خطیب و مبلغ، ممتاز دینی و فکری شخصیت، حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا وصی حسن خان (فیض آباد) عصرِ حاضر کے اُن علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تبلیغ، صحافت، میڈیا اور بین الاقوامی امور پر گہری نظر رکھی ہے۔
مولانا نے برسوں ایران میں قیام کے دوران انقلابِ اسلامی، ایران۔عراق جنگ، سماجی و سیاسی تبدیلیوں اور عوامی مزاج کو قریب سے دیکھا، جب کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے بھی خطے اور عالمی سیاست کا عمیق مشاہدہ کیا۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
زیرِ نظر انٹرویو میں حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا وصی حسن خان نے میڈیا پالیسی، ایران کی داخلی صورتِ حال، عوامی شعور، تعلیم، طب، ٹیکنالوجی اور ہندوستان و ایران کے تقابلی حالات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
حوزہ: سب سے پہلے یہ بتائیے کہ بعض اردو نیوز پلیٹ فارمز کی پالیسی اور ان کی خبروں کے اثرات کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
مولانا وصی حسن خان: دیکھئے، مسئلہ صرف خبر دینے کا نہیں بلکہ خبر کو کس زاویے سے پیش کیا جا رہا ہے، اصل بات یہ ہے۔ بعض ادارے دانستہ یا نادانستہ ایسے موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جن سے ماحول میں اشتعال پیدا ہو۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ میں ایک معمر خاتون سے غیر ارادی غلطی ہوئی، مگر خبر کو اس انداز سے پیش کیا گیا جیسے کوئی دانستہ جرم کیا گیا ہو، حالاں کہ تحقیق سے واضح ہوا کہ وہ تقریباً 65 سال کی خاتون تھیں اور ان کا کوئی بدنیتی پر مبنی عمل نہیں تھا۔ جب حقیقت سامنے آئی تو معاملہ خود بخود ٹھنڈا ہو گیا۔
حوزہ: کیا ایسی خبریں بین الاقوامی سطح پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟
مولانا وصی حسن خان: بالکل ڈالتی ہیں۔ بعض اوقات ایسی خبریں ایران، ہندوستان اور حتیٰ کہ وزارتِ خارجہ تک پہنچ جاتی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ بعض معاملات میں غیر ملکی میڈیا نے بھی انہیں اچھالا۔ اس لیے ذمہ دار صحافت بے حد ضروری ہے، کیونکہ ایک غلط خبر سفارتی سطح تک مسئلہ بنا سکتی ہے۔
حوزہ: آپ نے ایران میں عوامی حمایت کو قریب سے دیکھا ہے، حالیہ حالات میں عوام حکومت کے ساتھ کیوں نظر آتے ہیں؟
مولانا وصی حسن خان: یہ ایک غیر معمولی منظر ہے۔ دنیا میں عموماً بحران کے وقت عوام حکومت کے خلاف نکل آتے ہیں، مگر ایران میں تقریباً اکثریت حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں:
ایک، ایرانی قوم کی فطری محنت پسندی اور قومی غیرت؛
دوسری، دین اور وطن سے وابستگی۔
یہ جذبہ نیا نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط ایرانی تاریخ میں رچا بسا ہے۔
حوزہ: انقلاب سے پہلے اور بعد کے حالات میں عوامی رویے کا کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
مولانا وصی حسن خان: انقلاب سے پہلے حکومت دین سے متصادم پالیسیوں پر عمل پیرا تھی، جیسے کشفِ حجاب وغیرہ، جس کے خلاف عوام اور علماء کھڑے ہوئے۔ آج صورت حال مختلف ہے؛ آج حکومت دینی تشخص کے ساتھ کھڑی ہے، اسی لیے عوام بھی ساتھ ہیں۔ علماء کا کردار اس میں بنیادی ہے، کیونکہ ایرانی عوام ہمیشہ علماء کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
حوزہ: کیا موجودہ دور میں ایران میں جاری دشمن کے پروپیگنڈوں کا عوام پر کوئی اثر ہوا؟
مولانا وصی حسن خان: جزوی طور پر، ہاں۔ کچھ افراد متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر معاشی دباؤ اور بیرونی میڈیا کے پروپیگنڈے کی وجہ سے، مگر مجموعی طور پر اکثریت آج بھی دین اور قیادت کے ساتھ ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دینی فضا ختم ہو گئی ہے۔
حوزہ: ایران کی ترقی کو آپ کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟
مولانا وصی حسن خان: میں سات برس ایران میں رہا ہوں۔ ترقی اس قدر تیز ہے کہ بعض علاقوں میں پرانی گلیاں پہچاننا مشکل ہو گیا۔
دین کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، تعلیم اور طب میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی ہو یا میڈیکل سائنس، ایران نے ثابت کیا کہ پابندیوں کے باوجود ترقی ممکن ہے۔
حوزہ: تعلیم اور میڈیکل کے میدان میں ایران کا مقام آپ کے مشاہدے میں کیسا ہے؟
مولانا وصی حسن خان: یہ ایک اہم موضوع ہے۔ ایران سے ایم بی بی ایس کرنے والے کئی طلبہ نے ہندوستان میں امتحانات کامیابی سے پاس کیے، جب کہ دیگر ممالک سے پڑھ کر آنے والوں کو کئی بار ناکامی ہوئی۔
ایران میں تعلیم کم خرچ اور اعلیٰ معیار کی ہے۔ یہی حال علاج کا ہے؛ وہ علاج جو ہندوستان میں لاکھوں میں ہوتا ہے، ایران میں بہت کم خرچ میں ممکن ہے۔
حوزہ: آپ کے خیال میں اس مثبت تصویر کو دنیا تک کیوں نہیں پہنچایا جا سکا؟
مولانا وصی حسن خان: یہ ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ہم نے اپنی کامیابیوں کو مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا۔ جب تک عام آدمی کو یہ نہ بتایا جائے کہ ایران تعلیم، علاج اور ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے، تب تک غلط فہمیاں باقی رہیں گی۔ یہ کام میڈیا، خصوصاً ذمہ دار اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔
حوزہ: آخر میں آپ اہلِ علم اور نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
مولانا وصی حسن خان: میرا پیغام یہ ہے کہ موجودہ حالات کو غنیمت جانیں، علم میں اضافہ کریں، تحقیق کریں اور حقیقت کو پہچانیں۔ جذبات کے بجائے شعور کے ساتھ فیصلے کریں۔ یہی قوموں کی بقا اور ترقی کا راستہ ہے۔









آپ کا تبصرہ