حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی معروف و عروس البلاد ممبئی کی مرکزی مسجد، مسجد ایرانیان کے امام جماعت سید نجیب الحسن زیدی نے اپنے بیان میں ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں پر شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا بال بھی بیکا ہوا تو دنیا دہل جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمِ تشیع اور بالعموم عالمِ اسلام، آج کے دور میں مختلف مسائل اور چیلنجوں سے دوچار ہے۔ بیرونی دشمن اور عالمی استکبار اسلامِ ناب، خصوصاً تشیع کو کمزور کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے درپے ہیں اور اس راہ میں وہ کسی بھی رکاوٹ سے دریغ نہیں کرتے؛ جیسے منفی میڈیا پروپیگنڈا، فوجی جارحیت، اقتصادی پابندیاں، اشتعال انگیزی اور تفرقہ بازی۔
انہوں نے کہا کہ اندرونی طور پر بھی عالمِ اسلام میں کچھ لوگ جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، بظاہر تبرائی بنتے ہیں، جبکہ تکفیریت کو درپردہ تقویت دینے اور اس کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں۔ خود شیعوں کے درمیان بھی کچھ جاہل یا شاید دشمن کے ایجنٹ افراد اور گروہ ہیں جو شیعہ سنی اختلاف کو گہرا کرتے ہیں، نفرت اور کینے کی آگ بھڑکاتے ہیں؛ انہیں اس سے مطلب نہیں کہ سیرتِ معصومین علیہم السّلام کیا ہے، انہوں نے مخالفین کے ساتھ کس قسم کے برتاؤ کو روا رکھنے کی تلقین کی ہے۔
مولانا نے کہا کہ آج اگر دیکھا جائے شیعہ معاشرہ، شیعہ کی شناخت کے حوالے سے مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے:
پہلا گروہ: وہ لوگ جو شیعہ عقائد، بلکہ خصوصیات تک سے دستبردار ہو کر سلفیت کے قریب ہو گئے ہیں یہ لوگ مسلمات تشیع پر سوال اٹھاتے ہیں، ان کے یہاں توسل، زیارت عاشورہ حدیث کساء سبھی پر اعتراض پایا جاتا ہے احراق بیت سیدہ کونین سلام اللہ علیہا جیسے حساس مسائل پر بھی یہ دریدہ دہنی سکھاتے نظر آتے ہیں۔
دوسرا گروہ: وہ افراد جو دین کی مغربی تعبیر کو قبول کر کے لبرلزم اور ہیومینزم کی طرف جھک گئے ہیں۔
تیسرا گروہ: روایتی علماء کا وہ طبقہ جو خود دو حصوں میں ہے: ایک لچکدار اور دوسرا غیر لچکدار۔ لچکدار طبقہ وحدتِ اسلامی کے خلاف نہیں مگر شیعہ اصولوں پر سختی سے قائم ہے۔ غیر لچکدار طبقہ اگرچہ شیعہ اصولوں کا سختی سے دفاع کرتا ہے مگر اس کا رویہ افتراق انگیز اور تعصب آمیز ہے یہ وہ افراد ہیں جو اہل سنت کے ساتھ اختلافی نکات کو زیادہ اچھالتے ہیں۔
چوتھا گروہ وہ ہے جو خود کو انقلابی کہتا ہے، لیکن اخلاق و انسانی اقدار سے بہت دور ہے یہ لوگ صرف کھوکھلے نعرے لگاتے ہیں۔ شہید قاسم سلیمانی و دیگر شہداء کی یادیں خوب بڑھ چڑھ کر مناتے ہیں اور عشرہ محرم و فاطمیہ میں ایسے غائب ہوتے ہیں ٹیلسکوپ سے بھی دکھائی نہیں دیتے؛ ہر وقت حاشیے میں الجھے رہنا اصولوں کو چھوڑ کر فرعیات میں پڑے رہنا ان کا شعار ہے۔
ان میں ایک اور پانچواں گروہ ہے جو انقلابی اور اعتدالی طبقہ ہے جو نہ افراط میں مبتلا ہے نہ تفریط میں۔ یہ استکباری سازشوں کو پہچانتا ہے، ان کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، مذاہبِ اسلامی کے درمیان تقریب اور ہم آہنگی کا قائل ہے، مگر ساتھ ہی شیعہ اصولوں سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہ تمام شہدائے کرام کو عقیدت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کی بازگشت کربلا کی طرف قرار دیتا ہے اور کربلا و امام حسین علیہ السّلام کو تمام شہداء کی روح و جان قرار دیتا ہے یہ شہدائے مزاحمت کی بات بھی کرتا ہے اور شہدائے کربلا کے سلسلے سے بھی غافل نہیں رہتا اور دونوں میں ہرگز تقابل نہیں کرتا سطحیات سے پرہیز کرتا ہے۔
مولانا نے مزید کہا کہ حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای اسی گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی سوچ نہ مغرب زدہ ہے، نہ وہابی، نہ تکفیری۔ وہ شیعہ اصولوں کے محافظ ہیں مگر ساتھ ہی وحدتِ امت پر زور دیتے ہیں اور مشترکات کو بنیاد بنا کر عالمِ اسلام میں ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایک پرآشوب دنیا میں جہاں اکثر مذہبی رہنما بڑی بڑی داڑھی و عمامے کے ساتھ وقتی مفادات کے کھیل میں مصروف تشیع کی بنیادوں کو بسا اوقات کھوکھلا کر کے خود کو تشیع کے مصلح چہرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں، آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای جیسی معتدل انقلابی شخصیت کی اہمیت دو چنداں ہو جاتی ہے اور ان کی عوام کے دلوں میں مقبولیت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ وہ ایران سے زیادہ اس سے باہر، خاص طور پر ہندوستان، پاکستان افغانستان، لبنان عراق و دیگر مغربی و یورپی ممالک جیسے متنوع معاشروں میں اتنی عزت کیوں رکھتے ہیں؟ یہ سوال اس وقت اور نمایاں ہوا جب امریکہ کے موجودہ صدر کی گستاخانہ باتوں پر نہ صرف ایران، بلکہ دنیا بھر کے عوام نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی مزاحمتی شخصیت اور انسانی نگاہ ہے۔ فلسطین، یمن اور عراق و لبنان کے مظلوموں کے ساتھ ان کی عملی حمایت انہیں مظلوموں کی آواز بناتی ہے۔ خصوصاً افغان بچوں کے لیے ان کا وہ تاریخی حکم کہ “کوئی افغان بچہ، چاہے اس کے پاس قانونی کاغذات نہ ہوں، تعلیم سے محروم نہ رہے” — یہ فیصلہ ہزاروں خاندانوں کے لیے امید اور وقار کا باعث بنا اور اس نے واضح کیا کہ مرجعیت کا تعلق کسی خاص جغرافیے سے نہیں ہے۔
مولانا سید نجیب الحسن زیدی نے کہا کہ ہندوستان کے شیعوں میں بھی مرجعیت کی اپنی قداست اور آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی ایک الگ عزت ہے؛ یوں تو شیعہ مکتبِ فکر میں مرجعیت محض ایک فقہی مرکزیت کا حامل باب علم نہیں، بلکہ ایک روحانی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی کا منبع ہے۔ مرجعِ تقلید وہ شخصیت ہوتی ہے جس پر عوام اپنے دین، عبادات، معاملات اور حتیٰ کہ سماجی و اخلاقی رویوں میں بھروسہ کرتے ہیں۔ ہندوستان جیسے کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ملک میں، جہاں اقلیتیں پہلے ہی حساس حالات سے دوچار ہوتی ہیں، مرجعیت کا احترام اور اس کی قداست اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ ہندوستان کے شیعہ صدیوں سے علم، رواداری اور امن کے علمبردار رہے ہیں۔ ممبئی لکھنؤ، حیدرآباد، دہلی اور کشمیر جیسے مراکز میں شیعہ علماء نے نہ صرف مذہبی، بلکہ سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ ایسے ماحول میں مرجعیت کی توہین صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ پورے مذہبی نظام کی توہین کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای صرف ایران کے رہبر ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے شیعوں کے لیے آفتاب علم و فقاہت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی بے شمار شیعہ انہیں ایک فکری، اخلاقی اور سیاسی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں تین بڑی خوبیاں نمایاں ہیں:
1-دینی استقامت
2-سیاسی بصیرت
3-انسانی ہمدردی
یہی اوصاف انہیں محض ایک قومی رہنما نہیں، بلکہ ایک عالمی اسلامی شخصیت بناتے ہیں۔ہندوستانی شیعہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو اس لیے عزت دیتے ہیں، کیونکہ وہ وحدتِ امت کے علمبردار ہیں۔ وہ مظلوموں کی حمایت کو صرف نعرہ نہیں، بلکہ عملی پالیسی بناتے ہیں۔ وہ تشیع کو افراط و تفریط سے بچا کر اعتدال کی راہ پر رکھتے ہیں۔ وہ مرجعیت کو سیاست کی آلودگی سے پاک رکھتے ہیں۔ افغان بچوں کے لیے تعلیم کا دروازہ کھولنا ہو، فلسطین کے حق میں ڈٹ جانا ہو یا یمن کے مظلوموں کی حمایت یا ہندوستان کے مسلمانوں کو لیکر ان کی فکر مندی یہ سب باتیں ہندوستانی شیعوں کے دل میں ان کے لیے احترام بڑھاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی توہین ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرجعِ تقلید کی توہین درحقیقت شیعہ عقیدے کی توہین ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ دینی، اخلاقی اور سماجی جرم ہے۔ جو لوگ آیت الله العظمیٰ خامنہ ای کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں یا ان کے قتل کی دھمکی دیتے ہیں، وہ نہ صرف ایک فرد، بلکہ ایک پورے مکتبِ فکر کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ ہندوستانی شیعہ ایسے ہر عمل کو شدید ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی اہانت ناقابلِ برداشت ہے اور ان کے خلاف قتل کی دھمکی دینا ایک گھناؤنا، بزدلانہ اور دہشت گردانہ عمل ہے۔ یہ قتل کی دھمکی صرف ایک شخص کو نہیں، امن کو نشانہ بنانا ہے۔
مولانا نے کہا کہ آیت الله العظمی خامنہ ای جیسے مرجعِ تقلید کو قتل کی دھمکی دینا دراصل: عالمی امن کو نشانہ بنانا ہے
مذہبی جذبات کو بھڑکانا ہے
فرقہ وارانہ آگ کو ہوا دینا ہے
ہندوستان کا شیعہ معاشرہ مرجعیت کے احترام کو اپنی شناخت کا حصہ جانتا ہے۔ ہندوستان کے شیعہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ مد ظلہ کو اسی وجہ سے پسند کرتے ہیں کہ وہ آپس میں تصادم کو روکتے ہوئے تعاون پر زور دیتے ہیں شور نہئں شعور پھیلاتے ہیں؛ یہی وجہ ہےکہ ہندوستان کے شیعہ پوری قوت سے اعلان کرتے ہیں: ہم مرجعیت کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔ ہم آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی اہانت اور ان کے خلاف ہر قسم کی دھمکی کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ہم وحدت، امن اور عزتِ انسانیت کے ساتھ کھڑے ہیں اور تا دم حیات کھڑے رہیں گے۔









آپ کا تبصرہ