جمعہ 30 جنوری 2026 - 10:15
ایران کے حالات؛ مغربی میڈیا اور زمینی حقائق

حوزہ/ذہنوں کو تسخیر کرنا کسی بھی قوم کے دشمن کا ایک پرانا حربہ ہے، اس لیے کئی قسم کی سچی جھوٹی تھیوریز معرض وجود میں آچکی ہیں۔ ان میں سے ایک سازشی تھیوری ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مغربی خاص طور امریکی اور صہیونی میڈیا کے زیر اثر حالیہ ایران کے اندر ہونے والے احتجاجات اور شر پسندوں کی طرف سے کی گئی توڑ پھوڑ سے متعلق کئی قسم کی کانسپیرنسی تھیوریز پھیلائی گئی ہیں۔

تحریر: منظوم ولایتی

حوزہ نیوز ایجنسی| ذہنوں کو تسخیر کرنا کسی بھی قوم کے دشمن کا ایک پرانا حربہ ہے، اس لیے کئی قسم کی سچی جھوٹی تھیوریز معرض وجود میں آچکی ہیں۔ ان میں سے ایک سازشی تھیوری ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مغربی خاص طور امریکی اور صہیونی میڈیا کے زیر اثر حالیہ ایران کے اندر ہونے والے احتجاجات اور شر پسندوں کی طرف سے کی گئی توڑ پھوڑ سے متعلق کئی قسم کی کانسپیرنسی تھیوریز پھیلائی گئی ہیں۔

ذیل میں ان میں سے چند کا جواب دیا جاتا ہے:

ایک یہ کہ ایرانی عوام رجیم چینج چاہتے ہیں، دوسری یہ کہ ایرانی قوم اب ملائیت سے تنگ آ چکی ہے اور سیکولر حکمران کی خواہاں ہے، بلکہ بعض لوگوں کے بقول وہ مفرور شاہ کے بیٹے کو واپس لانا چاہتے ہیں اور تیسرا یہ ہے کہ ایران کی کرنسی ملک کی بدترین گراوٹ کی سطح پر ہے لہذا مہنگائی کی وجہ سے ایران مفلوک الحال ہوگا یوں ایران ڈیفالٹ کر جائے گا!!

جہاں تک پہلی تھیوری کا تعلق ہے کہ ایرانی عوام رجیم چینج چاہتے ہیں، اِس کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایران کے اندر انقلاب کے آغاز سے ہی کئی چھوٹے چھوٹے گروپس رہے ہیں جو اسلامی انقلاب کے خلاف ہیں۔ وہ بہانے کی تلاش میں رہتے ہیں اور موقع ملتے ہی اپنا غم و عرصہ نکال لیتے ہیں اور دشمن کے مقاصد کو عملی کرتے ہیں ۔ اِس کی ایک مثال چند ہفتے قبل کا عوامی پُرامن احتجاج کے رخ کو انتشار کی طرف بدلنا اور جلاو گھیراو ، تور پھوڑ اور پھر انسان کُشی کا ماحول بنانا ہے۔ پس یہ گروپ رجیم چینج چاہتا ہے لیکن یہ گروپ ایران کی مجموعی آبادی کا بمشکل 1 فیصد ہوگا۔ جس میں مجاہدین خلق اور بہائی عناصر سر فہرست ہیں اور انہیں عناصر کو مغرب بالخصوص امریکہ اور اسرائیل سپورٹ کرتے ہیں جیسا کہ حالیہ دنوں کھل کر ان کی حمایت کی۔ باقی ایرانی عوام اسلامی انقلاب اور ولایت فقیہ کے نظام کے ساتھ میدان میں کھڑے ہیں۔ اس کا ایک نمونہ حالیہ دنوں جب شرپسندوں کی طرف سے جلاو گھیراؤ ہوا تو کروڈوں کی تعداد میں ایرانی قوم نے سڑکوں پر نکل کر نظام اسلامی کی کھل کر حمایت کی اور نظام سے اپنی وابستگی کے نعرے لگائے۔

اب جہاں تک دوسری تھیوری کا تعلق ہے کہ ایرانی قوم اسلامی جمہوریت سے تنگ آگئے ہیں اور اپنے ملک میں سیکولر جمہوریت کا حتی دوبارہ پہلے والی بادشاہت چاہتے ہیں، اس میں اصلاح طلبان کا ایک گروپ سیکولر جمہوریت کا حامی ضرور ہے،لیکن وہ اسلامی انقلاب کا مخالف نہیں ہے بلکہ بعض امور جیسے امریکہ سے بات چیت کر کے پابندیوں کو ختم کروانے کا حامی ہے لیکن یہ گروپ کئی بار امریکہ سے مذاکرت کر کے پابندیاں نہیں ہٹوا سکا ہے، لہٰذا اب وہ بھی امریکہ سے گلہ مند اور ناراض ہیں۔ رہ گئے بادشاہت کے حامی تو کچھ فریب خوردہ مغربی ملکوں میں رہنے والے مختصر گروہ کے علاوہ کون آج کی جدید دنیا میں دوبارہ بادشاہی زنجیروں میں جکڑنا چاہتا ہے۔

اب تیسری تھیوری یہ ہے کہ ایران کی کرنسی بدترین گراوٹ کا شکار ہے، مہنگائی بہت زیادہ ہوگئی ہے، لہٰذا ملک کی حالت سری لنکا والی ہوگی، یہ جاننا ضروری ہے کہ ایران کے پاس وسائل اور تیل اور گیس کے ریسورسز بہت زیادہ ہیں اور پابندیوں کے باجود ایران کئی علاقائی ممالک سے ترقی میں آگے نکل چکا ہے اور کرنسی کی گراوٹ اور مہنگائی کی مشکل سے نکلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور پچھلے کئی عشروں سے نکل رہا ہے۔ اب بھی مہنگائی ضرور بڑھی ہے اور لوگ اعتراضات بھی کر رہے ہیں جس کو سننے کیلیے حکومت بھی تیار ہے۔

یاد رہے کہ یہ تینوں کانسپیرنسی تھیوریاں پچھلی چار پانچ دھائیوں سے چل رہی ہیں، لیکن ایران مختلف میدانوں کے اندر غیر معمولی ترقی کر چکا ہے، کوئی اور ملک اتنی پابندیوں کے باجود اس ترقی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ایسے میں حقیقت سے دور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی تھیوریز کو سمجھنے کی ضرورت ہے، تاکہ خواب کی دنیا سے باہر آیا جاسکے۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران کے اندر اب بھی پیٹرول، گیس اور بجلی کے بل وغیرہ اس قدر سستے ہیں کہ جس کا آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔پیٹرول لیٹر دس روپے پاکستانی ملتا ہے، بجلی، گیس کا ماہانہ اوسطاً بل سو ڈیڑھ سو روپے ہے، لہٰذا کئی ممالک سے ایران کے حالات مہنگائی کے باوجود اچھے ہیں۔

اب آتے ہیں معروضی جنگی حالت کی طرف؛ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور ایران آمنے سامنے آگئے ہیں۔البتہ یہ یاد رہے کہ جنگ آج سے نہیں انقلاب کے بعد سے جاری ہے۔ جنگ صرف تسلیحاتی نہیں ہوتی، بلکہ اقتصادی، فرھنگی اور تہذیبی و نظریاتی جنگ اسلحہ کی جنگ سے بھی اہم ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کی جنگ در حقیقت ایک سوچ اور نظرئیے کی جنگ ہے۔ایران کے اندر جو نظریہ حاکم ہے وہ مظلوم قوموں کی حمایت کا ہے، جبکہ امریکہ اپنی پون صدی کی جابرانہ سفاک بالادستی کو بدستور قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اب جب امریکی سامراج سے تنگ آکر یورپ اور افریقہ حتی میکزیک اور کینیڈا بھی چین کے قریب جانے کی کوشش کر رہے ہیں تو امریکی صدر ٹرمپ مختلف منفعلانہ اور عجولانہ اقدامات کے ذریعہ سے دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش میں ہیں کہ دیکھو امریکہ اب بھی دنیا کی سپر پاور ہے لہذا ہمارے حریف کے قریب جانے کی کوشش مت کرو۔

وینزویلا کے ساتھ جو کیا پھر گرین لینڈ کے حوالے سے جو کہہ رہا ہے اور کینیڈا کو جو دھمکیاں دے رہا ہے اور اب ایران کے ساتھ جنگ کیلئے تاریخ کا سب سے بڑا بحری بیڑا مغربی ایشیا (مشرق وسطی) میں پہنچا چکا ہے لہذا امریکہ ابھی اپنی سپر پاوریت کی دھاک بٹھانا چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اب ایران سے بڑی جنگ لڑ کر اب مغربی ایشیا (مشرق وسطی) میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا کانٹا صاف کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ پھلتا پھولتا رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب اسرائیل کی معکوس گنتی شروع ہوچکی ہے۔

اب اِس عالمی سیناریو میں پاکستان سمیت مسلمان ممالک کو امریکی اور اسرائیلی چھتری کے بجائے اس کے خلاف محاذ کی طرف سوچنا چاہیے وگرنہ ہم تاریخ کے مجرموں کے ساتھی قرار پائیں گے۔

پاکستان کی موجودگی قیادت کے فیصلے نہایت ہی تعجب آور ہیں کہ پہلے ٹرمپ کو نوبل امن ایوارڈ دلوانے کیلئے سر توڑ کوششیں کرتے رہے اور اب امریکہ کے نام نہاد "بورڈ آف پیس" میں شامل ہوگئے ہیں! جبکہ فلسطینیوں کے قتل میں اسرائیل کو کھل اسلحہ دے کر سفر ہزار معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں امریکہ سر فہرست ہے۔ نہیں معلوم کیوں اب بھی امریکہ کو ہی امن کا داعی سمجھتے ہیں اور اسی سے امن کی توقع رکھے بیٹھے ہیں۔ واقعا ہمارے حکمرانوں کے روئیے کو دیکھ کر میر کا یہ شعر یاد آتا ہے:

میرؔ کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب

اُسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha