حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے ایک تفصیلی بیان میں رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کی شخصیت اور قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خداوندِ متعال رہبرِ معظم کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ وہ ایسے شیر ہیں جو دھماکوں سے نہیں ڈرتے، اس لیے دشمنوں کی دھمکیاں انہیں خوف زدہ نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ ظالم یہ حقیقت بھول رہا ہے کہ جب شیر زخمی ہوتا ہے تو وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ شہداء کی قربانیوں نے ملتِ ایران کو کمزور نہیں بلکہ مزید طاقت، حوصلہ اور عزم عطا کیا ہے۔ ان کے بقول، رہبرِ معظم کی قیادت ہمارے عہد میں شجاعت، استقامت، فتح اور نصرت کی عملی تصویر ہے۔
مولانا ابو القاسم رضوی نے اپنے حالیہ دورۂ ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایران کا سفر یادگار رہا۔ تہران ہو یا قم، جمکران ہو یا مشہد، ہر جگہ زندگی رواں دواں نظر آئی۔ قم اور مشہد کے مقدس مزارات زائرین اور نمازیوں سے بھرے ہوئے تھے، جبکہ شہادتِ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے موقع پر روضۂ امام علی رضا علیہ السلام کا صحن عزاداروں سے معمور تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شبِ مبعث اور روزِ مبعث کی روح پرور رونقیں ناقابلِ فراموش تھیں۔ برفباری، بارش اور سرد ہواؤں کے باوجود زائرین کا عظیم ہجوم اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ عوامی زندگی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے بعض ذرائع ابلاغ جو تصویر پیش کر رہے ہیں، وہ زمینی حقائق سے بالکل مختلف ہے۔
مولانا سید ابو القاسم رضوی نے کہا کہ ایران میں ہوائی اڈے، ٹرین سروس، ریلوے اسٹیشن، دکانیں، ریسٹورنٹس اور بازار سب معمول کے مطابق کھلے اور فعال نظر آئے۔ افسوس کا مقام ہے کہ میڈیا کی آنکھیں بند ہیں۔ اگر وہ خود ایران آنے کی زحمت کرتے تو سچ دیکھ بھی لیتے اور سن بھی لیتے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میڈیا اپنی ساکھ درست کرے، کیونکہ آج دنیا میں کرپشن جس تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس میں سب سے بڑا کردار بدعنوان میڈیا کا ہے۔









آپ کا تبصرہ