۶ تیر ۱۴۰۱ |۲۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 27, 2022
رہبر انقلاب

حوزہ/ رہبر معظم کے بیانات اور اصطلاحات فقط ملکی و جغرافیاٸی نہیں ہیں۔ آپ کے نظریات دینی الٰہی و آفاقی ہیں۔ ہمیں چاہٸے کہ ہم اپنے افکار کو رہبر معظم کے افکار کے ترازو میں تولیں۔اپنی وابستگیوں اور مصلحتوں کے داٸروں سے نکل کر رہبر کے بصیرت سے لبریز فکری داٸرے میں داخل ہوجاٸیں تاکہ یہ افکار ہمارا کردار بن سکیں۔

تحریر: محمد بشیر دولتی

تمہید
حوزہ نیوز ایجنسیاستعمار اس وقت دنیا کو میڈیا اور اپنے آلہ کاروں کے ذریعے سے کنٹرول کر رہا ہے۔ استعماری اہداف کے لٸے میڈیا ہی کے ذریعے ذہن سازی، فرد سازی اور معاشرہ سازی کیا جارہا ہے۔ استعماری بیانیے کو دجالی میڈیا کے ذریعے قبول عام بنا کر کسی بھی معاشرے کے رہن سہن، تہذیب و تمدن ، ثقافت اورحکومت کو تبدیل کیاجاتا ہے۔ استعماری طاقت کے مقابل میں بیانیہ بنانا اور اسے قبول عام بنانا ناممکن کی حدتک مشکل ہے۔ چونکہ استعماری سوچ اور نقشے کے خلاف بیانیہ اور نظریہ بنانے کے لٸے ایک مضبوط پاور بینک کا ہونا پھر اس بیانیہ یا نظریے کو قبول عام بنانے کے لٸے میڈیا اور طاقت کا ہونا ضروری ہے۔ مضبوط پاور بینک نہیں ہے تو ایک عظیم ہمہ جہت بابصیرت لیڈر کا ہونا ضروری ہے جو اپنی قوت بصیرت ، قوت بیان اور جرأت و ہمت کے ذریعے نظریہ پردازی کرئے اور ایسابیانیہ جاری کرئے جو استعمار کے باطل ہتھکنڈوں کو ناکام بناسکے۔
پوری دینا میں ایسی ایک ہی شخصیت ہے جو اپنی بصیرت، شجاعت، ہمت و زیرکی و دلنشین سخن گوئی کے ذریعے استعمار کے باطل نظریات اور مکروہ عزاٸم کو خاک میں ملاسکتی ہے اس عظیم شخصیت کو دنیا سید علی خامنہ ای
کے نام سےجانتی ہے۔
آپ نے اپنی دوربین نگاہوں اور باریک بین بصیرتوں اور پراثر تقریروں سے ایسے افکار و اصطلاحات کو جنم دیا ہے جو عالمی استکبار کے شب و روز کے مکر و فریب اور ناپاک عزاٸم اور شیطانی افکار کے لٸے خط بطلان اور سیسہ پلاٸی دیوار ثابت ہوۓ ہیں۔
یہاں ہم اختصار کے ساتھ رہبر معظم کی چند بصیرت سے لبریز اصطلاحات کو بیان کریں گے۔ یہ اصطلاحات تمام اسلامی دنیا کے ممالک ، عوام اور نوجوانوں کے علاوہ عالم انسانیت اور ہر مستضعف طبقے کے لٸے کافی مفید اور سودمند ہیں۔ بالخصوص عالم استکبار کی جولان گاہ بنے ہمارے ملک کے لٸے نہایت مفید ہے۔

1.جہاد تبیین
استعمار اور دشمن کے منفی پروپیگنڈوں اور باطل دعوٶں کے مقابل میں رہبر معظم نے جو نظریہ اور بیانیہ قرآن و حدیث سے اخذ کر کے پیش کیا اسے جھاد تبیین کہتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ
بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ ؕ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ۔۔ (جنہیں) دلائل اور کتاب دے کر بھیجا تھا اور (اے رسول) آپ پر بھی ہم نے ذکر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو وہ باتیں کھول کر بتا دیں جو ان کے لیے نازل کی گئی ہیں اور شاید وہ (ان میں) غور کریں۔
(سورہ نحل آیت 44)
رہبر کے اس بیانیے کے ذیل میں اگر ہم سیاست و تدبر اسلامی سمیت اسلام کے آفاقی بیان کو بہتر انداز میں تبیین کریں ، استعماری اہداف اور سازشوں کے مقابلے میں پاکستان میں ایک بہترین استعمار مخالف دینی معاشرہ وجود میں لایاجاسکتا ہے۔

2.بصیرت و دشمن شناسی
رہبر کے نظریات اور اصطلاحات میں ایک اہم ترین اصطلاح اور نظریہ، بصیرت اور دشمن شناسی ہے۔آپ اپنی تقاریر میں ان دونوں پر بہت زور دیتے ہیں۔ بصیرت یعنی انتہاٸی بارک بینی سے اپنے فریضے کو پہچان کر اسے بہتر و مناسب انداز میں ادا کرنا۔ دشمن شناسی میں رہبر کے مطابق اصلی دشمن وہی ہے جسے قرآن نے ہمارا دشمن قراردیا ہے۔یعنی ظلم و بربریت کرنے والے یہود و نصارا اور استعماری طاقتیں ہی اصل دشمن ہیں۔ ان کے علاوہ کوٸی دشمن نہیں ہاں دشمن کے آلہ کار ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے شام میں مقاومتی طاقتوں کو حکم دیا تھا کہ داعشی دہشت گردوں کا بھی کم سے کم جانی نقصان ہو چونکہ یہ ہمارا اصل دشمن نہیں بلکہ دشمن کے آلہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے افغان طالبان سے بھی حدلامکان برادرانہ و دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کی تاکید فرماٸی۔ ہم بھی پاکستان میں اسی نظریئے کے تحت شیعہ گروہ ایک دوسرے کو اپنا دشمن کہہ کر ایک دوسرے کے تشخص خراب کرنے کی بجاۓ تمام تر تنظیمی و شخصی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر باہمی اتفاق سے دیگر مکاتب فکر کے افراد سے بھی تعلقات پیدا کر کے اصل ملک اور دین کے اصل دشمن طاقتوں کے خلاف جہاد تبیین کے ساتھ عملی جدوجہد کریں گے تو ہمارے معاشرے میں بھی بھاٸی چارگی کے ساتھ استعماری طاقتوں اور ان کے آلہ کاروں کو کمزور کرسکتے ہیں۔

3.استقلال و آزادی
بیانیہ گام دوم میں سے پانچواں اہم نظریہ استقلال و آزادی ہے۔ رہبر کے اس نظریئے کے مطابق استعماری طاقتوں کے نظرۓ اور رویئے کے برعکس ملت کی آزادی و آزاد حکومت اور آزاد خارجہ پالیسی ہے ۔ یہ نظریہ عین اسلامی و دینی نظریہ ہے۔ اگر ہم رہبر کے اسی نظرۓ اور فلسفے پر ہی عمل پیرا ہو جاٸیں تو آج پاکستان کی حالت اتنی ابتر نہ ہوتی۔ آج آزادی و استقلال کا نعرہ بلند کرنے والے اپنے ہی ملک میں معتوب اور غلامی و بھیگ کا اعتراف کرنے والے ہم پر مسلط نہیں ہوتے۔

4.عزت ملی
رہبر معظم نے انقلاب کے بعد ایک دینی معاشرے کی تشکیل کے لٸے جن سات چیزوں کو نہایت اہم اور ضروری قرار دیا انہیں بیانیہ گام دوم کہا جاتا ہے۔ان میں چھٹے نمبر پر عزت ملی ہے۔ یہ فقط ایران سے مخصوص نہیں بلکہ عالمی استعمار امریکہ و اسراٸیل کے مقابل میں دیگر تمام ممالک و ملت بھی باعزت و آبرومند ہیں۔ رہبر کے نزدیک آبرومندانہ زندگی اور پالیسی تمام قوموں اور ملکوں کا حق ہے۔ مگر افسوس آج پاکستان کی ملی عزت و آبرو کو پاٸمال کیا گیا مگر ایسے میں رہبر کے نظریات و افکار کی روشنی میں پاکستانی عوام کے ملی عزت و حرمت کی پاسداری کے بجاۓ شعوری و غیر شعوری طور پر استعماری ہتھکنڈوں پر خاموش حمایت کی گٸی۔ نظریاتی و فکری افراد کو چاہٸے کہ رہبر کے نظریات و اصطلاحات کو اپنی تقریروں ، تحریروں اور مقالوں سے نکال کر خود بھی عمل کریں اور معاشرے میں بھی عملی کرنے کی کوشش کریں تو یقینا ہمارے معاشرے کو استعمار زدگی سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

5.جہاد کبیر
ہم نے اب تک جہاد اکبر اور جہاد اصغر سنا اور پڑھا تھا لیکن رہبر معظم نے دشمن کے مقابل میں دشمن کے کسی بھی بات کو تسلیم نہ کرنے اور دشمن کی ہمہ جہت مخالفت کرنے کو جہاد کبیر قراردیا۔ سیاست و اقتصاد سمیت کسی بھی میدان میں دشمن کی اطاعت نہیں کرنی ہے۔رہبر معظم کا یہ نظریہ اور بیانیہ بھی ہمارے ملک کے لٸے انتہاٸی مفید ہے۔ جہاد کبیر ہی کے بیانیہ پر عمل کرتے ہوۓ آج انقلاب اسلامی ایران سمیت حزب اللہ، حماس، انصاراللہ اور حشد شعبی جیسی تنظیمیں کامیابی کے ساتھ اپنے اپنے ملکوں میں اپنے ملک اور عوام کی خدمت و حفاظت کے ساتھ دین الٰہی کی سربلندی اور ایک دینی معاشرے کی تشکیل میں مصروف عمل ہیں۔ یہ تنظیمیں میدان سیاست سمیت کسی بھی میدان میں عقب نشینی کر کے دشمن کے لٸے کھلا میدان چھوڑنے اور دشمن کے ہاں میں ہاں ملانے کے لٸے آمادہ نہیں۔ اگر شیعیان پاکستان بھی اسی طرز فکر و طرز عمل کے ساتھ باہم متحد ہوکر سیاست و معیشت سمیت تمام میدانوں میں دشمن کے مقابل میں سعی و کوشش کریں تو ہم بھی دشمن کی راہوں کو مسدود کرتے ہوۓ سیاسی و اقتصادی میدان میں اپنے ملک و دین کی حفاظت کرسکیں گے۔

نتیجہ
رہبر معظم کے بیانات اور اصطلاحات فقط ملکی و جغرافیاٸی نہیں ہیں۔ آپ کے نظریات دینی الٰہی و آفاقی ہیں۔ ہمیں چاہٸے کہ ہم اپنے افکار کو رہبر معظم کے افکار کے ترازو میں تولیں۔اپنی وابستگیوں اور مصلحتوں کے داٸروں سے نکل کر رہبر کے بصیرت سے لبریز فکری داٸرے میں داخل ہوجاٸیں تاکہ یہ افکار ہمارا کردار بن سکیں ۔ چونکہ ہمارا کردار ہی ہمارے معاشرے کو دینی و ولاٸی بنا سکتا ۔خدا ہم سب کو رہبر کے نورانی نظریات و طاغوت شکن اصطلاحات کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے۔آمین

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 0 =