حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میرٹھ میں امام جمعہ و الجماعت مولانا سید حسین مہدی نے کہا کہ ایران محض ایک ملک یا جغرافیائی وحدت کا نام نہیں، بلکہ عصرِ حاضر میں ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی عملی تجسیم ہے۔ وہ سرزمین جہاں نظامِ حکومت کی بنیاد ولایتِ امیر المؤمنین علیہ الصلاۃ والسلام کی فکری چھاؤں میں رکھی گئی ہو اور جہاں سکہ امامِ رضا علیہ السلام کے نام کا چلتا ہو، وہاں عالمی استکبار اپنی تمام تر سازشوں، فتنوں اور اتھل پتھل کے باوجود بھی اس نظام کا بال بانکا نہیں کر سکتا؛ یہی وہ راز ہے جسے دشمن سمجھنے سے قاصر ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ایران پوری دنیا میں سر بلند، باوقار اور ثابت قدم نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات اور بعض بے گناہ شہریوں کی مظلومانہ شہادتوں نے اہلِ دل کو غمگین ضرور کیا ہے، مگر ان واقعات کو ایران کی کمزوری سمجھنا تاریخ، فکر اور حقیقت—تینوں سے ناواقف ہونے کے مترادف ہے۔ یہ واقعات کسی داخلی شکست کا اعلان نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن آج بھی ایران کو اسی طرح خطرہ سمجھتا ہے جیسے انقلابِ اسلامی کے اولین دنوں میں سمجھتا تھا۔
انہوں نے ان واقعات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مظلوم ایرانی شہری منافقین کے ہاتھوں شہید ہوئے—وہ منافق عناصر جو ایرانی نام رکھتے ہیں مگر نہ ایران کی روح سے واقف ہیں، نہ اسلام کی حقیقت سے اور نہ ہی اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت سے کوئی قلبی نسبت رکھتے ہیں۔
مولانا سید حسین مہدی نے کہا کہ انقلابِ اسلامی کے ظہور کے دن سے ہی استکباری طاقتیں، بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادی، اس نظام کو ناکام بنانے کے درپے رہے ہیں۔ کبھی اقتصادی پابندیاں، کبھی سفارتی دباؤ، کبھی ثقافتی یلغار، کبھی میڈیا کے ذریعہ ذہنی انتشار، اور کبھی داخلی بدامنی کے بیج—ہر حربہ آزمایا گیا۔ مگر ہر بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ یہ حقیقت نظر انداز کر بیٹھے کہ جس نظام کی جڑیں ولایت میں پیوست ہوں، اسے وقتی جھٹکوں سے گرایا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی اصل طاقت اس کے میزائلوں یا معیشت میں نہیں، بلکہ اس کی مرجعیت اور رہبریت میں ہے۔ مرجعیت اہلِ بیت علیہم السلام کی نیابت کا وہ مقدس سلسلہ ہے جو شیعہ معاشرے کو دینی، مذہبی، فکری، اخلاقی اور روحانی طور پر زندہ رکھتا ہے۔ اسی لئے مرجعیت پر حملہ دراصل ولایت کے قلعہ پر حملہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر باضمیر مؤمن اسے ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔ اسی طرح رہبریت کوئی وقتی سیاسی منصب نہیں، بلکہ زمانے کے فتنوں میں امت کی کشتی کو محفوظ راستہ دکھانے والی بصیرت کا نام ہے۔ رہبرِ انقلاب کی حکیمانہ قیادت نے ایران کو بارہا ایسے موڑ سے گزارا ہے جہاں دشمن جشنِ فتح منانے کی تیاری کر چکا تھا، مگر نتیجہ ہمیشہ اس کے برعکس نکلا۔ ولایت کی کشتی طوفانوں سے گزری، مگر کبھی ڈوبی نہیں—کیونکہ اس کا سہارا شاہ ولایت امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی امامت اور دعا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایران ان تمام سازشوں کے باوجود نہ صرف قائم ہے بلکہ فکری، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ دشمن چاہے جتنا شور مچائے، جتنا خون بہائے، جتنی اتھل پتھل پیدا کرے، وہ اس حقیقت کو بدل نہیں سکتا کہ جو ملک ولایتِ علی علیہ السلام کے زیرِ سایہ ہو اور جس کی پہچان سلطان عرب و عجم امام علی رضا علیہ السلام کے نام سے جڑی ہو، وہ محض ریاست نہیں رہتا—وہ ایک پیغام بن جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت کے ساتھ یہ تمام پردے اٹھیں گے، اور یہ بات سب پر آشکار ہو جائے گی کہ کن ہاتھوں نے فتنہ برپا کیا، کن چہروں نے نقاب اوڑھے اور کن قوتوں نے پسِ پردہ کھیل کھیلا۔ مگر تب تک ایران کا سفر جاری رہے گا، کیونکہ یہ سفر شہداء کے خون سے لکھا گیا ہے اور ایسے سفر رکاوٹوں سے نہیں رکتے۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
آندھی سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
آخر میں انہوں نے کہا کہ یہی دعا دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے کہ خداوندِ متعال رہبرِ انقلابِ اسلامی کو اپنی خاص حفظ و امان میں رکھے، مرجعیت کے وقار کو مزید بلند فرمائے، ایران کو ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی چھاؤں میں ہمیشہ سربلند رکھے، دشمنانِ اسلام کو رسوا کرے، اور اس مقدس نظام کو ظہورِ امامِ زمانہ صلوات اللہ علیہ و علی آبائہ الکرام تک قائم و دائم رکھے کہ ایران آج بھی،کل بھی اور ان شاء اللہ ہمیشہ—ولایت کی چھاؤں میں کھڑا رہے گا؛ مرجعیت کی پاسداری کے ساتھ اور رہبریت کی رہنمائی میں!









آپ کا تبصرہ