جمعرات 29 جنوری 2026 - 11:22
تالیاں، ڈھول یا صلوات؛ دینی خوشی کا درست معیار کیا ہے؟

حوزہ/ دینی محافل میں تالیاں بجانا، ڈھول پیٹنا، شور و ہنگامہ اور ایسی حرکات ہیں جو مجالس کو لہو و لعب کی صورت دے دیں شریعت مطہرہ کی روح کے خلاف ہیں اور خود ہمارے فقہائے کرام نے ان امور سے اجتناب کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد پیغمبر اکرم (ص) کے ایک جز کا مفہوم ہے کہ ڈھول بجانے والے میدان حشر میں اندھے، گونگے اور بہرے وارد ہوں گے۔

تحریر: حسین حامد تنظیم المکاتب کشمیر

حوزہ نیوز ایجنسی| وَ مَا کَانَ صَلَاتُہُم عِندَ البَیتِ اِلَّا مُکَآءً وَّ تَصدِیَۃً فَذُوقُوا العَذَابَ بِمَا کُنتُم تَکفُرُونَ(سورہ انفال ایت ۳۵)(اور خانہ کعبہ کے پاس ان (کفار مکہ)کی نماز سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی پس اب اپنے کفر کے بدلے عذاب چکھو۔)

ائمہ طاہرین علیھم السلام کے ایام ولادت ہمارے لئے بے حد مسرت‘شکر اور تجدید عہد کے ایام ہیں۔یہ ایام خوشی منانے کے ساتھ ساتھ دین مبین کی روح ‘اسلامی وقار اور اہلبیت ؑ کے اسوہ ٔ حسنہ کوعملی زندگی میں لانے کے بہترین مواقع ہیں۔

بد قسمتی سے حالیہ برسوں میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض مقامات پر ان مقدس مناسبات کو ایسے طریقوں سے منایا جارہا ہے جو نہ اسلامی شعار کا حصہ ہیں اور نہ ہمارے دینی و تہذیبی تمدن کے شایان شان۔

دینی محافل میں تالیاں بجانا‘ڈھول پیٹنا‘شور و ہنگامہ اور ایسی حرکات جو مجالس کو لہو و لعب کی صورت دے دیں شریعت مطہرہ کی روح کے خلاف ہیں اور خود ہمارے فقہا کرام نے ان امور سے اجتناب کی تاکید فرمائی ہے۔ارشاد پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ایک جز کا مفہوم ہے کہ ڈھول بجانے والے میدان حشر میں اندھے‘گونگے اور بہرے وارد ہوں گے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قسم کی حرکات نہ صرف دینی محافل کا وقار مجروح کردیتی ہیں بلکہ بعض اوقات عام لوگوں کی نگاہ میں دین کی توہین کا سبب بھی بن جاتی ہیں جس سے ہمیں ہر حال میں بچنا چاہئے۔

فقہائے کرام کی رہنمائی کے مطابق‘خوشی کے ان مواقع پر نعرہ صلوٰت‘ اللہ اکبر ‘ماشاء اللہ‘ سبحان اللہ‘ لبیک یا رسول اللہ‘ لبیک یا علی ؑ‘ لبیک یا حسین ؑ‘لبیک یا اہلبیت ؑ اور دیگر جائز و باوقار نعروں کا اہتمام کیا جائے۔یہ نعرے نہ صرف شرعاً افضل ہیں، بلکہ محافل کو روحانیت اور وقار بھی عطا کرتے ہیں۔

ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان بابرکت ایام میں ائمہ معصومین علیھم السلام کی سیرت‘ اخلاق‘ تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کو بیان کریں‘موعظہ حسنہ کا اہتمام کریں اور اپنی عملی زندگی کو ان عظیم ہستیوں کے نقش قدم پر ڈھالنے کی کوشش کریں۔اہلبیتؑ سے محبت شور سے نہیں شعور سے ہے۔

آئیں ! دینی محافل کو لہو و لعب سے بچائیں۔خوشی ضرور منائیں مگر دین کے دائرے میں۔

اللہ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس کی حرمت کی حفاظت کرنے اور اسے خوبصورت انداز میں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَ مَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ. (القرآن) اور ہم پر تو بس واضح طور پر (پیغام) پہنچادینا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha