حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید اور دعا سے مولانا نجم الحسن کراروی صاحب اور مولانا فرزند علی خاصخیلی صاحب نے کیا، بعد ازاں حمد و منقبت برادر سجاد حسین ساجدی، فرحان علی سومرو اور حسنین حیدر نے پیش کی، جبکہ مرکزی صدر محترم عاشق حسین سھتو صاحب نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔

بعد ازاں سیرتِ سید الساجدین امام زین العابدینؑ کے موضوع پر تقاریر پیش کی گئیں اور یونٹس و مرکز کی سالانہ کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔
بہترین کارکردگی اور نمایاں خدمات انجام دینے والوں میں ادارے کی جانب سے حسنِ کارکردگی انعامات اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔


سہیل احمد مطہری صاحب (سیکریٹری مجلسِ نظارت) نے اپنے خطاب میں امام زین العابدینؑ کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امامؑ کی بنیادی ذمہ داری شیعانِ علیؑ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور صحیح اسلامی طرزِ فکر کو عام کرنا تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعۂ کربلا کے بعد امامؑ کا عظیم مقصد دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دوبارہ زندہ کرنا، مسخ شدہ دینی فکر کی اصلاح کرنا، اور توحید، نبوت اور امامت کے بنیادی افکار کو مستحکم کرنا تھا۔ صحیفہ سجادیہ اور رسالۃ الحقوق اس جدوجہد کی عظیم مثالیں ہیں۔
بعد ازاں اراکینِ مجلسِ نظارت کی نگرانی میں نئے مرکزی صدر کا انتخاب عمل میں آیا۔
اکثریتِ رائے سے برادر ایاز علی خاکی صاحب کو برائے سال 2026-27 نیا مرکزی صدر منتخب کیا گیا، جبکہ ان سے حلف قبلہ مولانا امداد حسین شجاعی صاحب نے لیا۔

منتخب مرکزی صدر برادر ایاز علی خاکی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ "میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ، محمد مصطفیٰ اور آلِ محمدؑ کا شکر ادا کرتا ہوں اور تمام معزز مومنین، علمائے کرام اور اراکینِ مجلسِ نظارت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اس مقدس ادارے کی یہ عظیم ذمہ داری سونپی۔ یہ میرے لیے باعثِ افتخار ہے کہ یہ ادارہ سید الشہداء امام حسینؑ کے فرزند امام زین العابدینؑ کے نام سے منسوب ہے۔ میں آپ سب سے امید کرتا ہوں کہ آپ ادارے کے ساتھ جڑے رہیں گے اور اس کی مزید وسعت کے لیے بھرپور تعاون کریں گے۔ میں آپ سب کا اور ادارے کا ایک خادم ہوں اور پوری کوشش کروں گا کہ امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کروں۔"
آخر میں اجلاس کا اختتام دعائے خیر اور امامِ زمانہؑ کی سلامتی و تعجیلِ فرج کے لیے خصوصی دعا سے ہوا جو مولانا محمد اسلم صادقی صاحب نے کروائی۔









آپ کا تبصرہ