حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ علمائے مکتبِ اہلبیت پاکستان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید حسنین عباس گردیزی نے اپنے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ہم حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ قیادت قائم نام نہاد بورڈ آف پیس میں شامل ہوئی، جو نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع ہے، بلکہ اصولی، قانونی اور اسلامی مؤقف سے صریح انحراف بھی ہے؛ لہٰذا حکومت فوری طور پر اس نام نہاد بورڈ آف پیس سے علیٰحدگی اختیار کرے، اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کے تحت فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرے، اور اپنے تاریخی و اخلاقی مؤقف کی طرف واپس لوٹے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ابتدا ہی سے فلسطینی عوام کی حقِ خود ارادیت کے خلاف تھا۔ غزہ جیسے محصور اور مظلوم خطے کے لیے کسی بیرونی طاقت کے زیرِ انتظام انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا دراصل فلسطینی قوم سے ان کے اپنے مستقبل کا اختیار چھیننے کے مترادف ہے۔ تعمیرِ نو، سلامتی اور سیاسی نظم و نسق کو بیرونی قوتوں کے حوالے کرنا ایک نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جو تاریخ میں ہمیشہ ظلم، استحصال اور قبضے کو دوام دینے کا ذریعہ بنی ہے۔
انہوں نے مذید کہا کہ جس منصوبے کو ابتدا میں محض غزہ کی تعمیرِ نو کا ایک محدود انتظامی فریم ورک بتایا گیا تھا، وہ اب ایک وسیع سیاسی ایجنڈے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کے مرکزی سرپرستوں کے بیانات اور مجوزہ منشور اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کا مقصد فلسطین سے آگے بڑھ کر عالمی نظام میں اقوامِ متحدہ کی حیثیت کو کمزور کرنا اور شخصی طاقت کے ذریعے نئے فیصلے مسلط کرنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی واضح نگرانی کے بغیر کسی بھی ایسے فورم کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اس میں شمولیت انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ ایک طرف پاکستان کشمیر کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا علمبردار بنتا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ خود ایسے فورم کا حصہ بن رہا ہے جو اقوامِ متحدہ کو نظر انداز کر کے یکطرفہ عالمی نظم قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ کھلا تضاد ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔ مزید برآں، فلسطینی کاز ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور حقِ خود ارادیت پر قائم رہا ہے، نہ کہ بیرونی طور پر مسلط کردہ حکمرانی کے ماڈلز پر۔ غزہ کو ایک محدود علاقے میں محصور کر کے، فلسطینیوں کے قتلِ عام پر خاموشی اختیار کر کے اور نام نہاد امن فورس میں فلسطینی نمائندگی کے بغیر اسرائیل کو شامل کرنا دراصل ظلم کو قانونی تحفظ دینے کے مترادف ہے۔
صدرِ مجلسِ علمائے مکتبِ اہلبیت پاکستان نے واضع کیا کہ یہ فیصلہ نہ صرف فلسطین کے ساتھ غداری ہے، بلکہ پاکستان کے تاریخی اور اسلامی تشخص کے بھی منافی ہے۔ قلیل المدتی سیاسی مفادات کے لیے کیے گئے ایسے فیصلے قوموں کو دیرپا نقصان پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن میں واضح وعدہ ہے کہ ظلم کرنے والوں اور ظلم کا ساتھ دینے والوں دونوں پر اس کا عذاب نازل ہوتا ہے، اور جو قومیں ظلم پر خاموش رہتی ہیں وہ بھی اس انجام سے محفوظ نہیں رہتیں۔
علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوری طور پر اس نام نہاد بورڈ آف پیس سے علیحدگی اختیار کرے، اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کے تحت فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرے، اور اپنے تاریخی و اخلاقی مؤقف کی طرف واپس لوٹے۔
مجلسِ علما مکتبِ اہلِ بیتؑ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر سطح پر اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔









آپ کا تبصرہ