حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے بورڈ آف پیس کے قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: بورڈ آف پیس کے قیام سے دنیا میں طاقت کا توازن بگڑے گا اور اکیسویں صدی کی دنیا جنگل میں تبدیل ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا: مہذب دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے عالمی ادارے اقوام متحدہ کی موجودگی میں متوازی نظام کے طور پر بورڈ آف پیس کے تحت مسئلہ فلسطین کو چلانا در اصل عالمی ادارے اقوام متحدہ کے اصولوں کے منافی ہے جن میں غاصب ریاستوں کے خلاف مقامی محکوم عوام کو ان کا خود ارادیت کا بنیادی حق دیا گیا ہے۔
علامہ شبیر میثمی نے کہا: دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے مذکورہ بورڈ کے قیام کو اقوام متحدہ کی جس قرارداد نمبر 2803 سے تعبیر کیا جا رہا ہے اس میں ویٹو پاورز چین اور روس کا حصہ نہ لینا اور فرانس کی مخالفت سمیت بعض یورپی اور دیگر ممالک کے ملے جلے ردعمل کا اظہار اس امر کا عکاس ہے کہ "دال میں میں کچھ نہیں بہت کچھ کالا ہے"۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس بورڈ کے قیام سے اکیسویں صدی کی مہذب دنیا کو جنگل میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس کے قانون کے تحت ہر طاقتور کمزور سے اس کے جینے کا حق چھین لیتا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا: مذکورہ بورڈ کے قیام سے دنیا میں طاقت کا توازن بگڑے گا اور بورڈ کے حق اور مخالفت میں دنیا واضح دو فریقین میں تقسیم ہو گی جو دنیاوی امن کے لیے خطرناک ہو گا۔
انہوں نے کہا: مسئلہ فلسطین پر پاکستان کی واضح اور دو ٹوک پالیسی رہی ہے بلکہ مسئلہ فلسطین اساس پاکستان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت تشویشناک امر ہے جو سفارتی و معاشی مجبوری کو ظاہر کرتی ہے۔ ضروت اس امر کی ہے کہ دنیا کے اسلامی و عوامی جمہوری ممالک طاقت کے اس بگڑتے ہوئے توازن کو بچانے کے لیے سر جوڑیں اور دنیا کو سامراجیت کی ماتحتی سے نکال کر آزاد اور خود مختار ممالک کی مہذب دنیا بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔









آپ کا تبصرہ