جمعہ 23 جنوری 2026 - 12:34
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری: ٹرمپ کے “بورڈ آف پیس” میں شمولیت فلسطینی حقِ خود ارادیت اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے

حوزہ/سینیٹ آف پاکستان کے قائد حزب اختلاف اور ایم ڈبلیو ایم کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے نام نہاد “بورڈ آف پیس” میں شمولیت ایک اخلاقی اور سیاسی طور پر ناقابلِ دفاع فیصلہ ہے، میں حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہوں جس کے تحت امریکی صدر ٹرمپ کے نام نہاد “بورڈ آف پیس” میں شمولیت اختیار کی گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سینیٹ آف پاکستان کے قائد حزب اختلاف چیئرمین مجلس وحدت مسلمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے نام نہاد “بورڈ آف پیس” میں شمولیت ایک اخلاقی اور سیاسی طور پر ناقابلِ دفاع فیصلہ ہے، میں حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہوں جس کے تحت امریکی صدر ٹرمپ کے نام نہاد “بورڈ آف پیس” میں شمولیت اختیار کی گئی؛ یہ فیصلہ نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے، بلکہ اصولی اور پالیسی کے اعتبار سے بھی ناقابلِ دفاع ہے۔ ابتدا ہی سے یہ منصوبہ شدید نقائص کا حامل رہا ہے۔ غزہ میں جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے نام پر پیش کیا جانے والا یہ فریم ورک درحقیقت فلسطینی عوام سے ان کا حقِ خود اختیاری چھیننے کے مترادف ہے۔ تعمیرِ نو، سلامتی اور سیاسی نظم و نسق کو بیرونی طاقتوں کے سپرد کرنا ایک واضح نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے انتظامی ماڈلز بالآخر خودمختاری اور قومی اختیار کو کمزور کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن کے دعوؤں کے برعکس، ٹرمپ کا یہ منصوبہ وقت کے ساتھ فلسطینیوں کے اس بنیادی حقِ خود ارادیت کو مجروح کرے گا جس کے تحفظ کا یہ دعویٰ کرتا ہے۔ پاکستان کی شمولیت اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ جس منصوبے کو ابتدا میں غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے بعد محدود تعمیرِ نو کے عمل کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اب اس کے دائرہ کار کو کھلم کھلا وسیع کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے مرکزی محرک کے بیانات اور مجوزہ چارٹر کے مندرجات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کے عزائم فلسطین سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے کردار کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ واضح اقوامِ متحدہ کی نگرانی کا فقدان اور بورڈ کے بڑھتے ہوئے اختیارات موجودہ کثیرالجہتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ اس منصوبے سے وابستگی اختیار کر کے پاکستان عملاً ایسے ڈھانچے کی تائید کر رہا ہے جو اقوامِ متحدہ کو پسِ پشت ڈال کر بین الاقوامی قانون کی جگہ شخصی سیاسی ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل پاکستان کے اپنے مؤقف سے متصادم ہے، خاص طور پر مسئلہ کشمیر پر، جہاں پاکستان ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی حیثیت پر انحصار کرتا آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دوہرا معیار قابلِ فہم نہیں، پاکستان ایک طرف جہاں اپنے مفادات کے لیے اقوامِ متحدہ کی مرکزیت پر زور دیتا ہے، وہیں دوسری طرف ایسے اقدامات میں شریک ہو رہا ہے، جو اسی ادارے کو کمزور کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ شمولیت فلسطینی کاز کے بھی منافی ہے، جس کی بنیاد ہمیشہ حقِ خود ارادیت اور اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ قانونی حیثیت پر رہی ہے، نہ کہ بیرونی مسلط کردہ نظامِ حکمرانی پر قلیل مدتی سیاسی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی فیصلے اکثر طویل المدت نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ ایک ایسے منصوبے سے وابستگی جو فلسطینی خودمختاری اور عالمی کثیرالجہتی نظام دونوں کو نقصان پہنچاتا ہو، پاکستان کی اخلاقی ساکھ اور تزویراتی ہم آہنگی کو کمزور کرے گی۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر پاکستان کو آنے والے وقت میں پشیمانی ہو سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha