حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملت جعفریہ پاکستان کی نمائندہ جماعتوں کے اہم اجلاس میں نام نہاد ’’ٹرمپ بورڈ آف پیس‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کے اعلان پر سخت تشویش غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اس اقدام کو غیر قانونی، غیر آئینی اور عوامی خواہشات کے منافی قرار دیا گیا۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ شیخ محمد صادق جعفری، علامہ نثار احمد قلندری، علامہ حیدر عباس عابدی، علامہ مبشر حسن، میثم عابدی، احسن مہدی، غیور عابدی، سروش زیدی،یاور عباس، عون سید، حیدر علی خان سمیت مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماء کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، تحریک بیداری امت مصطفیٰ (ص) کے رہنماؤں سمیت دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں رہنماؤں نے کہا: ٹرمپ امن بورڈ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، یہ بورڈ درحقیقت اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کو کمزور کرنے اور کمزور ہوتے امریکی مفادات کو عالمی سطح پر مسلط کرنے کی سازش ہے۔
انہوں نے کہا: اس فیصلے سے پاکستان کی خودمختار خارجہ پالیسی کو خطرہ لاحق ہے، اس بورڈ میں شمولیت پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان ہے اور اس سے پڑوسی و دوست ممالک سے دوری پیدا ہوگی،یہ بورڈ امریکی صدر کی ذاتی خواہشات پر مبنی ہے اور انہی کے ماتحت ہے، جو ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد بے معنی ہو جائے گا، پاکستان کو ایسے غیر مستحکم معاہدوں سے دور رہنا چاہیے۔
رہنماؤں نے مزید کہا: پاکستانی عوام کسی بھی ایسی عالمی سازش کو قبول نہیں کریں گے جو غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف دہشتگردی کو فروغ دیتی ہو۔ پاکستانی عوام اپنی فوج کو کبھی بھی غزہ کے مقاومتی گروہوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، اسرائیل، حماس کو ختم اور غیر مسلح کرنے میں ناکامی کے بعد، اب اسلامی فوجوں کو اس تنازعے میں گھسیٹنا چاہتا ہے، پاکستانی عوام اس سازش کا شکار نہیں ہوں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ملت جعفریہ پاکستان، دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو عوامی سطح پر اجاگر کرے گی اور اس کے خلاف پرامن مہم چلائے گی۔









آپ کا تبصرہ