تحریر: مولانا سید محمد کوثر علی جعفری،ممبر مسلم پرسنل لاء بورڈ جموں و کشمیر
حوزہ نیوز ایجنسی| بعض استعماری میڈیا ہاؤسز دانستہ طور پر یہ گمراہ کن تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وینزویلا کے حالیہ حالات کے بعد ایران کی قیادت خوف زدہ ہو چکی ہے اور بالخصوص آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے حوالے سے بے تکی، بے بنیاد اور اشتعال انگیز باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے نہ ایران کی تاریخ پڑھی ہے اور نہ ہی مکتبِ مزاحمت کی روح کو سمجھا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ میدان چھوڑ کر بھاگنے والے کون ہوتے ہیں اور میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے کون۔ جو علی ابنِ ابی طالبؑ کے پیروکار اور حسینؑ کے راستے کے مسافر ہوتے ہیں، وہ ظلم کے سامنے جھکنا نہیں جانتے۔ وہ جنگ کے میدان میں دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں، اور اگر دین و حق کا تقاضا ہو تو مسکرا کر جامِ شہادت نوش کر لیتے ہیں، مگر باطل کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے۔
آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای صرف ایران کے نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے رہنما ہیں۔ آج دنیا بھر میں اربوں جوان، عورتیں اور مرد ان کی بصیرت بھرے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔ وہ کربلا والے ہیں، حسینؑ والے ہیں، اور دینِ حق کی خاطر ہر قربانی دینا جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی باخبر، باوقار اور آزاد انسان ان کی توہین یا ان کے خلاف ہرزہ سرائی کو برداشت نہیں کر سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اپنی اخلاقی، سیاسی اور معاشی زوال کی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہ ظالم و جابر طاقت دنیا کی توانائی کو لوٹنے کے درپے ہے—چاہے وہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر ہوں یا مشرقِ وسطیٰ کے وسائل۔ اس کی پالیسیاں ہمیشہ جنگ، استحصال اور مداخلت پر مبنی رہی ہیں، اسی لیے یہ طاقت آج پوری دنیا کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
دنیا کے باشعور انسانوں کو چاہیے کہ وہ اس فریب زدہ پروپیگنڈے کو پہچانیں، حق و باطل میں تمیز کریں اور ظلم کے خلاف بیدار ہوں۔ تاریخ بار بار ثابت کر چکی ہے کہ باطل وقتی شور مچا سکتا ہے، مگر اس کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں، جبکہ حق، صبر اور استقامت کے ساتھ ہمیشہ سرخرو ہوتا ہے۔
آج بھی اور کل بھی ایک ہی راستہ ہے—مزاحمت۔ ایسی مزاحمت جو شعور، اتحاد، قربانی اور کربلا کے پیغام سے جڑی ہو۔ یہی راستہ اقوام کو غلامی سے نجات دلاتا ہے اور یہی پیغام ہے جو زمانے کے ہر یزید کے خلاف آج بھی زندہ ہے۔









آپ کا تبصرہ