حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدرِ جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی نے عالمی میڈیا کی رہبر معظم کے خلاف افواہ سازی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک صیہونی قلمکار کی جھوٹی اور من گھڑت تحریروں کو بنیاد بنا کر جس منظم انداز میں میڈیا نے دنیائے اسلام کے عظیم رہبر، مظلومین عالم کی امید اور عالمی مزاحمت کے فکری ستون آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ الله کے خلاف کردار کشی کی، وہ کھلی فکری دہشت گردی اور بیانیاتی جارحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب کسی قسم کی خوش فہمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ میڈیا کا ایک بڑا حصہ صحافت کے دائرے سے نکل کر عالمی استکبار، صیہونیت اور سامراجی طاقتوں کا آلۂ کار بن چکا ہے۔ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای پر حملہ دراصل مزاحمت، اسلامی خودداری، امت کی بیداری اور ظلم کے خلاف قیام پر حملہ ہے۔
آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ میڈیا کی اس منظم پروپیگنڈا مہم کا ایک واضح نمونہ ایران سے متعلق جھوٹے اور گمراہ کن بیانیے ہیں۔ مغرب نواز میڈیا ایران میں وسیع پیمانے پر بدامنی اور عدم استحکام کی تصویر کشی کر رہا ہے، جبکہ مختلف شہروں کے رہائشیوں سے براہِ راست رابطے اور زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ معمولات زندگی عمومی طور پر معمول کے مطابق ہیں، اور اگر کہیں کوئی خلل ہے بھی تو وہ محدود اور عارضی نوعیت کے چھوٹے واقعات تک محدود ہے۔ یہ تضاد واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ میڈیا کی پیش کردہ تصویر اور زمینی حقیقت کے درمیان گہرا فاصلہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی، سیاسی جبر، ناانصافی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا شکار ہیں، مگر میڈیا ان حقیقی مسائل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ سچ بولنے والی آوازوں کو دبانا اور طاقتور مفادات کے بیانیے کو مسلط کرنا اس کا مستقل وطیرہ بن چکا ہے۔
غزہ میں جاری صیہونی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ معصوم بچوں کی لاشیں، ماؤں کی آہیں اور تباہ شدہ اسپتال پوری انسانیت پر فرد جرم ہیں، مگر میڈیا ظالم اور مظلوم کے درمیان نام نہاد غیر جانبداری کا ڈھونگ رچا کر قاتلوں کو جواز فراہم کر رہا ہے، جبکہ مظلوم فلسطینی کی آواز کو جرم بنا دیا گیا ہے۔
صدرِ انجمنِ شرعی شیعیان نے کہا کہ رہبرِ انقلاب اسلامی آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ الله کا راستہ پوری انسانیت کا راستہ ہے، جو عدل، آزادی، خودداری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا پیغام دیتا ہے۔ ان کے خلاف پروپیگنڈہ دراصل اس نظریے کے خلاف ایک ناکام سازش ہے جو مظلوموں کو حوصلہ دیتا اور جابر نظاموں کو چیلنج کرنے کی جرات بخشتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر مٹایا نہیں جا سکتا اور حق و باطل کی اس بیانیاتی جنگ میں بالآخر حق ہی سربلند ہو کر رہے گا۔









آپ کا تبصرہ