بدھ 7 جنوری 2026 - 07:00
ولایتِ فقیہ اور ہم پاکستانی شیعہ

حوزہ/عالم اسلام خصوصاً شیعہ دنیا میں "ولایت فقیہ" ایک ایسا نظریہ ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے نہ صرف علمی و فقہی حلقوں میں بحث کا مرکز رہا ہے، بلکہ عملی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی ایک اہم قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس نظریے نے ایک نظام حکومت کی شکل اختیار کی اور آیت الله العظمٰی امام خمینیؒ اور ان کے بعد آیت الله العظمٰی سیّد علی خامنہ ای اس نظام کے "ولی فقیہ" یا "رہبر معظم" کے طور پر ساری دنیا کے ایک بڑے شیعہ حلقے کے لیے نہ صرف سیاسی راہنما، بلکہ شرعی حجت و مرجع کی حیثیت اختیار کر گئے۔

تحریر: مولانا محمد احمد فاطمی

حوزہ نیوز ایجنسی| عالم اسلام خصوصاً شیعہ دنیا میں "ولایت فقیہ" ایک ایسا نظریہ ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے نہ صرف علمی و فقہی حلقوں میں بحث کا مرکز رہا ہے، بلکہ عملی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی ایک اہم قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس نظریے نے ایک نظام حکومت کی شکل اختیار کی اور آیت الله العظمٰی امام خمینیؒ اور ان کے بعد آیت الله العظمٰی سیّد علی خامنہ ای اس نظام کے "ولی فقیہ" یا "رہبر معظم" کے طور پر ساری دنیا کے ایک بڑے شیعہ حلقے کے لیے نہ صرف سیاسی راہنما، بلکہ شرعی حجت و مرجع کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اس کا ایک واضح اظہار پاکستان کے شیعہ مکتب فکر میں دیکھنے میں آتا ہے، جہاں کی ایک کثیر تعداد ان کی قیادت کو محض سیاسی نہیں، بلکہ اعتقادی و شرعی اطاعت کے درجے میں تسلیم کرتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے شیعہ شہری، ولی فقیہ کی "ولایت"، "دفاع" اور "اطاعت" کو کس بنیاد پر اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں؟

ولایتِ فقیہ کی دینی حیثیت

ولایت فقیہ کی دینی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے "ولایت" کے تصور کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے زمین پر اپنی حجت قائم رکھنے اور شریعت کی صحیح تشریح و تطبیق کے لیے نبوت و امامت کا سلسلہ جاری رکھا۔ امامت ایک اصول دین ہے، یعنی یہ عقیدے کا بنیادی ستون ہے۔ امام معصومؑ کی ولایت (قیادت و سرپرستی) کا تعلق حاکمیتِ الٰہیہ سے ہے۔ غیبتِ کبریٰ کے دور میں یہ سوال پیدا ہوا کہ معاشرے کی دینی و دنیاوی رہنمائی کا فریضہ کون سنبھالے گا؟

اس سوال کے جواب میں علمائے شیعہ اس نظریے پر پہنچے کہ امام معصومؑ کے نائب عام کی حیثیت سے ایک مجتہد، عادل، باحواس، زمانہ شناس، مدبر فقیہ معاشرے کی رہنمائی اور انتظامی امور کی نگرانی کا حق رکھتا ہے۔ یہ ولایت، امام معصومؑ کی ولایت کا تسلسل اور اس کی تفویض کردہ ہے۔ امام خمینیؒ نے اس نظریے کو منظم شکل دی اور استدلال کیا کہ جس طرح نبیؐ اور امامؑ معاشرے کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی امور میں ولایت رکھتے تھے، اسی طرح ان کے نائب عام (فقیہ) بھی اس ولایت کے حقدار ہیں، کیونکہ حکومت کا قیام، حدود کا نفاذ، دشمن کے مقابل دفاع اور معاشرے کے نظم کو برقرار رکھنا شرعی واجبات ہیں، اور انہیں معطل نہیں چھوڑا جا سکتا۔

اس کی دینی حیثیت ایک اعتقادی ضرورت کے تحت ایک فقہی نظریہ کی ہے جو عقلی اور نقلی دونوں طرح کے دلائل پر مبنی ہے:

ایک منظم معاشرے کے لیے ایک حاکم اور نظام حکمرانی کا ہونا عقل کی بدیہی بات ہے۔ اسلامی معاشرہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ غیبت امامؑ کے دور میں بھی معاشرے کو عدل و انصاف، احکام شریعت کے نفاذ اور دشمن کے مقابلے کے لیے ایک رہنما کی ضرورت ہے۔ عقل حکم کرتی ہے کہ اس منصب کے لیے سب سے زیادہ لائق شخص وہ ہے جو شریعت کا عمیق علم رکھتا ہو (فقیہ)، عادل ہو اور انتظامی صلاحیتوں سے مالا مال ہو۔

متعدد روایات میں ائمہ معصومینؑ نے فقہا کو "حاکم" (مثلاً مقبوله عمر بن حنظله)، "امین الرسل"، "حجتی علیکم و انا حجة الله" جیسے القابات سے نوازا ہے، جن سے فقہا کی مرجعیت اور قضاوت کے ساتھ ساتھ عمومی رہنمائی کا حق بھی مستفاد ہوتا ہے۔

اس لیے، پاکستانی شیعہ اسے ایک مضبوط شرعی و فقہی نظریہ سمجھتے ہوئے، جو امامت کے اصل اعتقاد کی عملی تکمیل ہے، قبول کرتے ہیں۔ یہ ان کے نزدیک دین کا حصہ ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات اور اس پر عملدرآمد کا طریقہ فقہی اجتہاد کے دائرے میں آتا ہے۔

اطاعت امام معصومؑ اور نائب امام کی فقہی و شرعی حیثیت

شیعہ عقیدے کے مطابق اطاعتِ امام معصومؑ واجب شرعی ہے اور اس کا تعلق اللہ اور رسولؐ کی اطاعت سے جڑا ہوا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ" (اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہیں)۔ شیعہ تفسیر کے مطابق "اولی الامر" سے مراد ائمہ معصومینؑ ہیں۔

غیبت کے دور میں، ائمہؑ کی احادیث کے مطابق، فقہا ان کے نائب ہیں۔ جس طرح غیبت صغری میں کسی خاص نمائندے (نائب خاص) کی اطاعت امامؑ کی اطاعت ہے، اسی طرح غیبت کبریٰ میں نائب عام (فقیہ عادل) کی اطاعت بھی، اس کے دائرہ اختیارات میں، امامؑ کی اطاعت کے تسلسل میں شرعاً واجب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ فقیہ معصوم ہے، بلکہ یہ کہ اس کے بیان کردہ فرامین و شرعی احکام اور اس کی حکومتی ہدایات (جسے "احکام ولایی" کہتے ہیں) کی اطاعت واجب ہے، کیونکہ وہ شریعت کے دائرے میں امامؑ کی نیابت کر رہا ہے۔

اس طرح، اطاعت کی یہ شرعی حیثیت تسلسلِ ولایت کے تصور پر مبنی ہے۔ ولایت ایک زنجیر ہے: اللہ → رسولؐ → امامؑ → فقیہ عادل۔ لہٰذا، رہبر معظم کی اطاعت محض ایک سیاسی رہنما کی اطاعت نہیں، بلکہ ایک شرعی حجت کی اطاعت ہے، جس کا تعلق دین کے تحفظ اور معاشرے کی اسلامی تشکیل سے ہے۔ پاکستانی شیعہ اس فقہی موقف کو مانتے ہوئے، اپنے عقیدے کے تقاضے کے طور پر ولایت فقیہ کی اطاعت کو ضروری سمجھتے ہیں۔

ایک شیعہ کے لیے ولایتِ فقیہ کی اطاعت کی شرعی حیثیت

ایک عام شیعہ مکلف کے لیے ولایت فقیہ کی اطاعت کی حیثیت مختلف طبقات میں تقسیم ہوتی ہے:

ذاتی عبادات میں: ہر مکلف اپنی ذاتی عبادات (نماز، روزہ، حج وغیرہ) میں اپنے مرجع تقلید (اگر رہبر معظم کو مرجع نہ مانتا ہو) کی تقلید کرتا ہے۔ یہاں رہبر معظم کی اطاعت کا عام مقلد پر کوئی خاص التزام نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ وہ انہیں اپنا مرجع سمجھتا ہو۔

اجتماعی و حکومتی امور میں: یہ وہ جگہ ہے جہاں ولایت فقیہ کی اطاعت کی شرعی حیثیت واضح ہوتی ہے۔ دفاع، خارجہ پالیسی، اسلامی معیشت کے کلی اصول، امت مسلمہ کے وحدتی معاملات، دینی تعلیمات کے تحفظ کے عالمی پہلو وغیرہ میں رہبر معظم کے احکام اور ہدایات (احکام ولایی) کی اطاعت واجب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ امور ایک مرکزی قیادت کے بغیر مؤثر طریقے سے انجام نہیں پا سکتے۔ تمام شیعہ مراجع (چاہے وہ ولایت فقیہ کے نظریے کے حامی ہوں یا نہ ہوں) اس بات پر متفق ہیں کہ دفاعِ اسلام و مسلمین اور اجتماعی واجبات کی انجام دہی میں ایک مجتہد عادل کی پیروی ضروری ہے۔

ایران کی داخلی پالیسیوں میں: ایک غیر ایرانی شیعہ کے لیے ایران کی روزمرہ کی داخلی پالیسیوں کی اطاعت کا التزام نہیں ہے، کیونکہ وہ ایرانی شہری نہیں۔ تاہم، اگر رہبر معظم کسی عالمی اسلامی مسئلے پر (مثلاً، فلسطین کے دفاع پر، یا توہین رسالت کے خلاف موقف پر) حکم یا اعلان کریں، تو اس کی حمایت اور اس کے مطابق عمل کرنا ہر اس شیعہ کے لیے جو انہیں حجت شرعی سمجھتا ہے، مستحب مؤکد بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہو سکتا ہے۔

پاکستانی شیعہ عملی طور پر اس تفریق کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کے قوانین کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، لیکن جب بات عالمی سطح پر اسلام اور شیعہ مکتب کے تحفظ، وحدت اور ترقی کی آتی ہے تو وہ رہبر معظم کی رہنمائی کو حتمی شرعی رہنمائی سمجھتے ہوئے اس کی پیروی کرتے ہیں۔

دفاعِ رہبرِ معظم

شیعہ فقہ میں دفاع ایک اہم شرعی فریضہ ہے۔ دفاع صرف جسم یا مال تک محدود نہیں، بلکہ دین، عقیدہ اور شرعی حجت کا دفاع بھی اس میں شامل ہے۔ چونکہ رہبر معظم کو ایک شرعی حجت سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان کی جان، مال، آبرو اور مقام کا دفاع بھی شرعی لحاظ سے اہم ہے۔

اس دفاع کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں:

فکری و علمی دفاع: اگر کسی محاذ (میڈیا، سوشل میڈیا، علمی مجالس) پر رہبر معظم پر ناحق تنقید، ان کی توہین یا ان کے نظریہ ولایت فقیہ پر علمی لیول پر بے بنیاد حملہ ہو، تو ایک مکلف پر واجب ہے کہ وہ حسب استطاعت علمی، منطقی اور مؤدبانہ طریقے سے اس کا جواب دے۔ خاموشی اختیار کرنا گویا حق کے خلاف مدد کرنا ہے۔

عملی و جسمانی دفاع: اگر رہبر معظم پر کسی قسم کی جسمانی جارحیت کا خطرہ ہو یا وہ کسی جنگ و جدل کی زد میں ہوں، تو ان کا دفاع کرنا ہر اس شخص پر واجب عینی ہو جاتا ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کسی دوسرے مسلمان یا دینی عالم کی جان بچانا واجب ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔

· یہ دفاع عقل و منطق کی بنیاد پر ہو، جذباتی ہرگز نہ ہو۔

· یہ فرقہ واریت، تشدد یا فساد کا باعث نہ بنے۔

· یہ دفاع، دشمن کے مقابلے میں ہو

رہبر معظم خود وحدت اسلامی کے سب سے بڑے داعی ہیں اور پاکستانی شیعہ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ رہبر معظم کے دفاع کو اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہیں، لیکن اس کا اظہار پرامن، قانونی اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے کرتے ہیں، نہ کہ کسی قسم کے فساد یا غیر قانونی اقدام سے۔

پاکستان سے محبت (حب الوطنی) اور ولایت فقیہ کی اطاعت

یہ وہ نکتہ ہے جس پر سب سے زیادہ بحث کی جاتی ہے۔ مخالفین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستانی شیعہ کی ولایت فقیہ سے وابستگی ان کی قومی وفاداری پر سوالیہ نشان ہے۔ حالانکہ یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

دائرہ کار کا فرق: ولایت فقیہ کی اطاعت کا بنیادی دائرہ عقیدتی، دینی و عالمی اسلامی امور ہے۔ جبکہ حب الوطنی کا تعلق قومی وطنی و سیاسی امور سے ہے۔ ایک پاکستانی شیعہ پاکستان کے آئین و قوانین کی پابندی کرتا ہے، اس کی فوج میں خدمات انجام دیتا ہے، اس کی ترقی کے لیے کام کرتا ہے، ٹیکس ادا کرتا ہے اور ہر مشکل وقت میں ملک کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ اس کی قومی وفاداری ہے۔ دوسری طرف، دینی سوالات، عالمی سطح پر مظلوم مسلمانوں (کشمیر، فلسطین، یمن وغیرہ) کے حقوق، اور دینی تعلیمات کے تحفظ کے لیے وہ اپنے شرعی رہنما کی رہنمائی لیتا ہے۔ یہ دونوں دائرے الگ الگ ہیں اور ایک دوسرے کے متضاد نہیں۔

رہبر معظم کا ہمیشہ واضح موقف: امام خمینیؒ اور آیت اللہ خامنہ ایؒ نے ہمیشہ تمام مسلم ممالک، بشمول پاکستان، کی خودمختاری، سالمیت اور استحکام کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف کسی بھی اقدام کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔ ان کا مؤقف یہی رہا ہے کہ تمام مسلمان ممالک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے ساتھ، باہمی تعاون اور وحدت کے ساتھ رہیں۔ لہٰذا، خود رہبر معظم کی ہدایات ہی قومی وفاداریوں کو تقویت دیتی ہیں، انہیں کمزور نہیں کرتیں۔

حب الوطنی ایمان کا حصہ: شیعہ فقہ میں حب الوطنی کو ایک مثبت قدر تسلیم کیا جاتا ہے، بشرطیکہ یہ وطن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہ ہو۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، اس لیے اس سے محبت اور اس کی خدمت ایک دینی فریضہ بھی ہے۔

دوہری وفاداری کا غلط تصور: وفاداری کا تعلق حقوق و فرائض سے ہے۔ ایک شہری اپنے ملک کے ساتھ وفاداری رکھتے ہوئے بھی اپنے مذہبی رہنما کی فکری رہنمائی قبول کر سکتا ہے۔ جس طرح ایک کیتھولک عیسائی ویٹیکن کے پوپ کی مذہبی رہنمائی مانتا ہے لیکن اپنے ملک کا وفادار شہری ہوتا ہے، یا جس طرح دنیا بھر کے سنی مسلمان الازہر یا دیگر بین الاقوامی اداروں کی فکری رہنمائی لیتے ہیں، اسی طرح پاکستانی شیعہ کا ولایت فقیہ کی مذہبی قیادت کو تسلیم کرنا ان کی قومی وفاداری کے منافی نہیں۔

خلاصہ

پاکستانی شیعہ کی ولایت فقیہ کی اطاعت ایک گہرے اعتقادی، فقہی اور استدلالی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ امامت کے اصل عقیدے کی عملی تعبیر ہے، جس میں ولی فقیہ کو غیبت امامؑ کے دور میں دینی و اجتماعی امور میں شرعی نائب سمجھا جاتا ہے۔ اس اطاعت کا دائرہ کار بنیادی طور پر دینی، عالمی اور امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل سے متعلق ہے، نہ کہ پاکستان کی داخلی سیاست یا قوانین سے۔ پاکستانی شیعہ اپنے وطن سے گہری محبت رکھتے ہیں اور اس کی ترقی و دفاع میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حب الوطنی اور ولایت فقیہ کی اطاعت میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ دونوں ایک ہی مقصد یعنی اسلام اور مسلمانوں کی عظمت اور استحکام کے حصول کے لیے دو متوازی اور ہم آہنگ شاہراہیں ہیں۔ ان کا یہ موقف ان کے پختہ ایمان، فقہی ادراک اور باضمیر پاکستانی شہری ہونے کی واضح دلیل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha