منگل 6 جنوری 2026 - 18:56
رہبر انقلاب اسلامی کے خلاف پروپیگنڈہ دراصل ایک نظریے کے خلاف ہے

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ‌ای کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ درحقیقت ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک نظریے کے خلاف ہے۔ یہ اس فکر کو دبانے کی کوشش ہے جو مظلوموں کو حوصلہ دیتی ہے، جو استکباری نظام کو چیلنج کرتی ہے اور جو انسان کو اس کی اصل پہچان سے جوڑتی ہے۔

تحریر: مولانا محمد ندیم عباس علوی، مجلس وحدت المسلمین پاکستان (شعبۂ اصفہان) کے مسئولِ تحقیق و تعلیم

حوزہ نیوز ایجنسی | رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کا راستہ نہ صرف ملتِ اسلامیہ بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی قیادت کسی مخصوص خطے، قوم یا مسلک تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر فکری، اخلاقی اور انقلابی راستہ ہے، جو ظلم کے خلاف قیام، عدل کے قیام اور مظلوم انسانوں کے دفاع پر مبنی ہے۔

آیت اللہ خامنہ‌ای نے اپنی فکر، کردار اور قیادت کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ اصل قیادت وہی ہوتی ہے جو طاقت کے مراکز کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کا علم بلند رکھے۔ ان کا پیغام انسانیت، خودداری، آزادی اور مزاحمت کا پیغام ہے۔ وہ دنیا کو یہ باور کراتے ہیں کہ اقوام کی عزت و وقار اسلحے یا دولت سے نہیں، بلکہ فکری استقلال، اخلاقی استقامت اور ظلم کے خلاف جرات مندانزدانہ موقف سے حاصل ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے مظلوم—خواہ وہ فلسطین کے ہوں، یمن کے ہوں، لبنان کے ہوں یا کسی اور خطے کے—آیت اللہ خامنہ‌ای کی آواز میں اپنی آواز سنتے ہیں اور ان کی قیادت میں امید کی کرن دیکھتے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ‌ای کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ درحقیقت کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، بلکہ ایک نظریے کے خلاف ہے۔ یہ اس فکر کو دبانے کی کوشش ہے جو مظلوموں کو حوصلہ دیتی ہے، استکباری نظام کو چیلنج کرتی ہے اور انسان کو اس کی اصل پہچان سے جوڑتی ہے۔ جب آیت اللہ خامنہ‌ای کے خلاف جھوٹا اور منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے تو دراصل مظلوموں کی توانا آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ ظلم کا نظام بلا روک ٹوک قائم رہ سکے۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کی دنیا میں میڈیا، سیاست اور طاقتور ادارے اکثر سچ کو مسخ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ‌ای کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد عوام کو حقائق سے دور رکھنا اور مزاحمت کے نظریے کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ آیت اللہ خامنہ‌ای کا راستہ اسی سچ کے تسلسل کا نام ہے۔

ان کی قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ امت کو فرقہ واریت، قوم پرستی اور ذاتی مفادات سے نکال کر مشترکہ انسانی اور اسلامی اقدار کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ وہ اتحاد، بیداری اور فکری خودمختاری پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو سماجی انصاف، سیاسی شعور اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔

آج جب دنیا میں طاقتور کمزوروں کو کچل رہے ہیں، وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرایا جا رہا ہے، ایسے میں آیت اللہ خامنہ‌ایؒ کا موقف ایک مضبوط دیوار کی مانند ہے۔ ان کی فکر مظلوموں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں، اور یہ کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل انسانیت ہے۔

لہٰذا ہمارا یہ واضح اور غیر متزلزل مؤقف ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای کا راستہ انسانیت کا راستہ ہے۔ ان کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ دراصل حق کے خلاف ایک سازش اور مظلوموں کی آواز دبانے کی ناکام کوشش ہے۔ تاریخ خود فیصلہ کرے گی کہ کون حق پر تھا اور کون باطل کے ساتھ کھڑا تھا—اور ہمیں یقین ہے کہ حق ہمیشہ سربلند رہتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha