منگل 6 جنوری 2026 - 13:22
ایران کی حالیہ صورتحال اور احتجاج: ایک تجزیاتی جائزہ

حوزہ/ ایران میں حالیہ احتجاج کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی طور پر اُجاگر کر کے مصنوعی ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم زمینی حقائق کے مطابق اس وقت تہران سمیت بڑے شہروں میں کسی منظم یا وسیع احتجاج کے شواہد موجود نہیں ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی احتجاجی سرگرمیوں کو عالمی میڈیا میں غیر معمولی اہمیت دی گئی، جس کے باعث صورتحال کو ضرورت سے زیادہ سنگین انداز میں پیش کیا گیا۔

ایران کی حالیہ صورتحال اور احتجاج: ایک تجزیاتی جائزہ

ایران میں احتجاج کی نوعیت اور عالمی میڈیا کا کردار

تہران میں ہونے والے حالیہ احتجاج کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی طور پر نمایاں کیا، جس کا مقصد ایک مخصوص نوعیت کا مصنوعی ہیجان (Hype) پیدا کرنا تھا۔ یہی عالمی میڈیا یورپ کے متعدد ممالک، جن میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس شامل ہیں، میں مہنگائی کے خلاف لاکھوں افراد کے مظاہروں اور پولیس کے سخت و پرتشدد رویّے کو مسلسل نظرانداز کرتا رہا ہے۔

ایران میں احتجاج کو اس غیر فطری انداز میں ابھارنے کی کوشش دراصل اسی حکمتِ عملی کا تسلسل معلوم ہوتی ہے جو ماضی میں وینزویلا کے خلاف آزمائی جا چکی ہے۔

تاجروں کا کردار اور احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

ابتدائی طور پر یہ احتجاج تاجر اور بزنس مین طبقے کی جانب سے شروع ہوا تھا، تاہم یہاں یہ نکتہ خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ وہ شخص یا طبقہ جس کے اربوں ڈالر کسی ملک کے اندر سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہوں، عموماً ریاست کے خلاف کسی منظم تحریک کا حصہ نہیں بنتا۔

بعد ازاں اس احتجاج کو شر پسند اور اجرت پر لیے گئے عناصر کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، جنہوں نے پولیس پر پتھراؤ، فائرنگ اور توڑ پھوڑ جیسے پرتشدد اقدامات کیے۔

احتجاج کے دوسرے روز سڑکوں پر ایسے عناصر بھی دیکھے گئے جنہوں نے کھلے عام ریاست مخالف نعرے لگائے۔ تاہم تاجر برادری نے جلد ہی اس صورتحال کو ایک منظم سازش کے طور پر بھانپ لیا اور تیسرے دن تک ان عناصر سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد ریاستی اداروں کی جانب سے صرف شر پسند گروہوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔

ایران کی حالیہ صورتحال اور احتجاج: ایک تجزیاتی جائزہ

موجودہ صورتحال اور سرحدی علاقوں کی حالت

موجودہ وقت میں تہران اور دیگر بڑے شہروں میں کسی بڑے یا منظم احتجاج کی اطلاعات موصول نہیں ہو رہیں۔ البتہ ایران کے بعض سرحدی علاقوں، بالخصوص کرد بیلٹ میں، چھوٹے چھوٹے گروہ—جو عموماً 20 سے 100 افراد پر مشتمل ہوتے ہیں—موٹر سائیکلوں پر آ کر عوامی یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں اور فوراً فرار ہو جاتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں کسی منظم عوامی تحریک کے بجائے محدود اور منتشر تخریبی کارروائیوں تک ہی محدود دکھائی دیتی ہیں۔

امریکی مداخلت اور تزویراتی اہداف

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے لیے ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم ممکن نہیں، اسی لیے وہ ایران کو داخلی طور پر کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وینزویلا کے صدر کو ہٹانے کی کوشش اور وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضے سے متعلق دھمکیاں امریکی طرزِ عمل کی نمایاں مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔

ایران میں حالیہ احتجاج کو بھی اسی حکمتِ عملی کی ایک کڑی کے طور پر اور ایک سیاسی بہانے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایران کی حالیہ صورتحال اور احتجاج: ایک تجزیاتی جائزہ

واضح رہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اپنے حالیہ بیان میں واضح طور پر کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاکہ اپنے مطالبات کو پر امن، واضح اور شفّاف اور غیر متشدد انداز میں پیش کریں۔ جبکہ تخریب کاری (اغتشاش) ایک انجنیئرڈ منصوبہ ہوتا ہے جس کا مقصد اصلاح کے بجائے تخریب، خوف و ہراس پھیلانا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، لوگوں کی جان و مال اور آبرو پر دست درازی کرنا، ہوتا ہے۔

حالیہ احتجاجات میں بھی یہ بات سامنے آئی جب تاجر اور عام عوام تخریب کاروں کے سامنے ڈٹ گئے جو پر امن احتجاج کو تخریب کاری میں بدلنا چاہتے تھے۔ جہاں کہیں احتجاج نے پر تشدّد رنگ اختیار کیا وہیں تاجر برادری اور عوام نے خود کو الگ کر لیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha