حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ كچھ سالوں ميں قومى اور بين الاقوامى سطح پر متعدد واقعات پيش آئے ہيں جن ميں حالىہ واقعات اس كى ایک مثال ہيں۔ ان واقعات كى تحقيق اور تجزيے سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ شيطان بزرگ امريكا اور صهيونى رژيم كا شرپسندوں اور فسادىوں كو جنگى اور ميڈيائى وسائل سے لیس كرنے ميں كھلا ہاتھ ہے، اس كے علاوہ معاشى مشكلات اور ميڈيا پروپيگنڈہ بھى ديگر عوامل ہيں جو بيرونی طاقتوں كو جمہوری اسلامی ايران پر طمع و لالچی نظر ركھنے ميں مدد ديتے ہيں۔
حاليہ واقعات كے غير مرئى عوامل ميں معاشرے كے افراد كے ذہنوں ميں موجود اعتقادى اور سياسى شبہات ہيں، جن كى بنياد ميڈيائى پروپيگنڈہ، انتظامى ناروا طرز عمل اور غلط علمى نظريات وغیرہ شامل ہيں۔
دين اور دينى عقائد سے متعلق شبہات، خدا اور تخليق كے بارے ميں، پيغمبروں اور اماموں كے مقام كے بارے ميں، نظام جمہورى اسلامی اور رہبر معظم كے مقام سے متعلق شبہات، سماجى مسائل جيسے تعصب اور طبقاتى اختلاف، عورت كا مقام، روزمرہ امور سے متعلق شبہات وغيره بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔
مرکز مطالعات و پاسخگویی بہ شبہات حوزہ علمیہ نے ان شبہات كى تحقيق اور درجہ بندى كرتے ہوئے ان لوگوں سے گفتگو كى جن كا حالىہ فسادات اور گزشتہ سالوں كے واقعات ميں براہ راست حصہ تھا اور كتاب "از فتنہ تا شبہ" كو سوال و جواب كى شكل ميں شائع كيا ہے تاكہ يہ شبہات كا جواب بھی ہو اور واقعات كے تجزيے ميں ابہامات اور ذہنى گرہوں كو دور كرنے كى اہميت و ضرورت پر بھی توجہ دلائے۔
اس کتاب میں دلچسپى ركھنے والے افراد یہاں سے اس كتاب کو مفت ڈاؤنلوڈ كر سكتے ہيں:
https://media.hawzahnews.com/d/2026/01/20/0/2998267.pdf?ts=1768890200000









آپ کا تبصرہ