حوزہ نیوز ایجنسی I
تحریر: ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری
سیاست کی تعریف
لفظ سیاست لغوی اعتبار سے ملک کو داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ رکھنے، اقتدار کو سنبھالنے، اور ریاست کے دفاع و حفاظت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
لیکن یہاں سیاست سے مراد محض اقتدار کا حصول یا اسے برقرار رکھنا نہیں، بلکہ وہ اصول اور ضوابط ہیں جن پر سیاست کی تدبیر اور پاسداری استوار ہوتی ہے۔
وہ اصول جن کی پیروی امام علی علیہ السلام کرتے تھے، سراسراخلاقی اقدار پر مبنی تھے۔ امام علیؑ کی حکومت میں ہر قسم کی اصلاح اور تبدیلی کا سرچشمہ یہی اصول تھے۔ آپؑ بار بار ان اصولوں پر تاکید فرماتے اور حکومت و سیاست میں ہر اس روش کی نفی کرتے جو ان اقدار سے ہم آہنگ نہ ہوتی، کیونکہ آپؑ اسلامی حکومت کے مستقبل کے بارے میں فکرمند تھے اور ذاتی مفادات کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے تھے۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک سیاست دان مکر و حیلہ، وقتی مفادات اور نمائشی اقدامات کے ذریعے لوگوں کو اپنے قریب کر لیتا ہے اور بظاہر امن و امان قائم ہو جاتا ہے، لیکن ایسی سیاست نہ دیرپا ہوتی ہے اور نہ ہی پائیدار نتائج دیتی ہے۔
اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
"اگر دین اور تقویٰ نہ ہوتا تو میں عرب کا سب سے زیادہ چالاک اور ہوشیار شخص ہوتا۔
1۔ قانون کی پاسداری اور بالادستی
امیرالمؤمنینؑ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصی شاگردوں میں سے تھے۔ اپنی پوری حکومت کے دوران آپؑ نے ہر لمحہ قانون کی پاسداری کی اور ذرہ برابر بھی اس سے انحراف نہیں کیا۔
عدل کا عملی نمونہ:
نجاشی ایک معروف شاعر تھا جو امام علیؑ کی شان میں اشعار کہتا اور اپنے کلام کے ذریعے شامیوں کے پروپیگنڈے کا جواب دیتا تھا۔ اس کے اشعار میدانِ جنگ میں سپاہِ علیؑ کے حوصلے بلند کرنے کا سبب بنتے تھے۔
لیکن ایک دن اس نے شراب نوشی جیسے گناہ کا ارتکاب کیا اور اس کا جرم ثابت ہو گیا۔ امام علیؑ نے اس کے سابقہ کردار یا خدمات کو آڑے نہ آنے دیا اور عدل و قانون کے مطابق اس پر حد جاری کی۔ یہ تھا علیؑ کا انصاف۔
2۔ سچائی اور صدق محوری
سچ بولنا اور جھوٹ سے اجتناب تمام اخلاقی اقدار میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ایک سیاست دان کے لیے سچائی کی اہمیت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
امام علی علیہ السلام کی سیاست، جوانی سے لے کر شہادت تک، صدق، راست گوئی اور حق بیانی پر مبنی رہی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپؑ کو صدیقِ اکبر کا لقب عطا فرمایا۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:"
"علیؑ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مجھ پر ایمان لایا، قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے، وہ صدیقِ اکبر ہیں، امت کے فاروق ہیں اور حق کو باطل سے جدا کرنے والے ہیں۔"
امام علیؑ نے اپنی سیاست کے پہلے دن سے لے کر آخری لمحے تک اسی اصول پر عمل کیا۔ بسا اوقات آپؑ کی سچائی اور حق گوئی کے باعث ظاہری حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپؑ نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
خلافت کا اہم تاریخی واقعہ:
خلیفۂ دوم کی وفات کے بعد چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ نئے خلیفہ کا انتخاب کیا جا سکے۔ اس کمیٹی میں یہ افراد شامل تھے:
علی بن ابی طالبؑ، عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، زبیر بن عوام اور طلحہ بن عبیداللہ۔
طلحہ نے عثمان کے حق میں، زبیر نے علیؑ کے حق میں، اور سعد بن ابی وقاص نے عبدالرحمن کے حق میں دستبرداری اختیار کی۔ یوں تین افراد باقی رہ گئے اور ہر ایک کے پاس دو ووٹ تھے۔
عبدالرحمن بن عوف نے اعلان کیا کہ وہ خلافت سے دستبردار ہو کر ان دونوں میں سے ایک کی بیعت کریں گے۔ پھر انہوں نے امام علیؑ سے کہا:
"میں آپ کی بیعت اس شرط پر کرتا ہوں کہ آپ کتابِ خدا، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور شیخین کی سیرت پر عمل کریں۔
امام علیؑ نے فرمایا:
"میں کتابِ خدا، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اپنے علم و اجتہاد کے مطابق عمل کروں گا۔"
آپؑ نے شیخین کی سیرت کو بطور شرط قبول نہ کیا۔ جب عبدالرحمن نے یہی شرط عثمان کے سامنے رکھی تو عثمان نے فوراً قبول کر لی، اور یوں خلافت عثمان کو مل گئی۔
یہاں امام علیؑ کے لیے ممکن تھا کہ وہ وقتی طور پر شرط قبول کر لیتے اور بعد میں اس پر عمل نہ کرتے، لیکن آپؑ نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ سچائی اور اصول پسندی ہی آپؑ کی سیاست کی بنیاد تھی۔









آپ کا تبصرہ