جمعرات 1 جنوری 2026 - 22:29
اسلوبِ حیاتِ علیؑ؛ قرآنی اور اسلامی زندگی کا کامل نمونہ

حوزہ/کس قدر باعثِ سعادت ہے کہ ہم وارث و جانشین ختم المرسلین، امیر المؤمنین، امامِ متقین حضرت علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ سے زندگی کے ہر گوشے میں رہنمائی حاصل کریں—اطاعت و عبادت میں اخلاص، سیاست میں دیانت، عدل میں استقامت، مہربانی میں وسعت، محبت میں خلوص اور اخلاق میں بلندی۔ یقیناً حضرت علی علیہ السلام تمام بنی نوع انسان کے لیے بہترین رول ماڈل ہیں۔ آپ ؑ کا اسلوبِ حیات ہر دور کے مسلمانوں اور چاہنے والوں کے لیے کامل نمونہ اور روشن مینار ہے۔

تحریر: مولانا سید تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

علیؑ کے آنے کی سب کو خوشی نہیں ہوتی وہ بت شکن ہے بتوں کو برا ہی لگتا ہے!

تیرہ رجب المرجب، مولودِ کعبہ، مظہرِ فضل و کمال، سرچشمۂ عدل و انصاف، پیکرِ صبر و ثبات، امانتوں کے امین، شجاعت و شہامت، عزم و استقامت اور عبادت و اطاعتِ خدا اور رسولؐ کی زندہ مثال ، اسدُاللہ الغالب، غالب کل غالب و مطلوب کل طالب ،صاحب المفاخر و المناقب، مولی الکونین امام المشرقین والمغربین، امام المتقین، سید الوصین،امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولادتِ باسعادت و با برکت کے موقع پر تمام محبانِ امامت و ولایت کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔

کس قدر باعثِ سعادت ہے کہ ہم وارث و جانشین ختم المرسلین ،امیر المؤمنین ،امامِ متقین حضرت علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ سے زندگی کے ہر گوشے میں رہنمائی حاصل کریں—اطاعت و عبادت میں اخلاص، سیاست میں دیانت، عدل میں استقامت، مہربانی میں وسعت، محبت میں خلوص اور اخلاق میں بلندی۔ یقیناً حضرت علی علیہ السلام تمام بنی نوع انسانی کے لئے بہترین رول ماڈل ہیں آپ ؑ کا اسلوبِ حیات ہر دور کے مسلمانوں اور چاہنے والوں کے لیے کامل نمونہ اور روشن مینار ہے۔

قرآنِ مجید کی روشن آیات اور معصومینؑ سے منقول روایاتِ معتبرہ کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ جو شخص قرآنی و اسلامی طرزِ حیات اختیار کرنے کا خواہاں ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کا درس امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے حاصل کرے۔

بغیرِ حب علی ؑ، لطف ِزندگی کیا ؟ یہ زندگی تو ملی ہے برائے عشقِ علی ؑ

سید المرسلین ،رحمت العالمین ،خاتم النبین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کی نظر میں جو بھی حضرت علیؑ کا شیعہ بنا اور ان کے نقشِ قدم پر چلا، وہی کامیاب و کامران ہوا اور اسی کے لیے جنت کی بشارت ہے۔

''شیعة علّی ھم الفائزون''علیؑ کے شیعہ ہی کامیاب ہیں۔ (کنوز الحقائق صفحہ ٨٢- مجمع الزوائد : ج٩ ص ١٣١- فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ : ج٢ ص ١١٧ ص ١١٨-بشارت مصطفی : ص ١٩٧)

پس ہر مسلمان خاص کرعلی ابن ابیطالب علیہ السلام کے شیعوں اور محبوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امام علی علیہ السلام کے اسلوبِ زندگی کو سمجھے، پہچانے اور اپنے گفتار و کردار میں اسے عملی جامہ پہنائیں۔اس لئے کہ علی ؑ کے شیعہ ہونے کا مفہوم محض دعویٰ نہیں، بلکہ علیؑ کے نقشِ قدم پر قدم رکھنا اور عملی طور پر ان کی پیروی کرنا ہے۔

ہم اہلِ بیتؑ سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اہل بیت اطہار علیہم السلام کی مرضی کے مطابق نہیں چلتے ! شیعہ ہونا ایک بھاری اور ذمہ داری سے بھرپور مقام و مرتبہ ہے۔ اگر ہم واقعی امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے شیعہ بننا چاہتے ہیں اور امت کے پدرِ مہربان کی اطاعت کا عزم رکھتے ہیں، تو ہمیں اپنی اور اپنے لواحقین کی تعلیم و تربیت کے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو پر خاص توجہ دینا ہوگی۔

یہ پہلو درحقیقت ہمارے زمانے کا بھی امتحان ہے اور اس دنیا میں انسان کے لیے ہمیشہ سے جاری آزمائش بھی—اور وہ یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جامعُ الاضداد ہو۔ یعنی اس کے دل میں امید اور خوف، رجاء اور خشیت، محبت اور احتیاط ایک دوسرے کے ساتھ متوازن ہوں۔ نہ امید اتنی غالب ہو کہ انسان غفلت میں مبتلا ہو جائے، اور نہ خوف اس قدر چھا جائے کہ انسان مایوسی کا شکار ہو جائے۔ یہی وہ توازن ہے جو خداوندِعالم اپنے بندوں سے طلب کرتا ہے، اور یہی سیرتِ علویؑ کا نمایاں درس ہے۔

ذیل میں امامِ المتقین حضرت علی علیہ السلام کے اسلامی طرزِ حیات کی چند اہم اور بنیادی خصوصیات کا اجمالی ذکر کیا جاتا ہے:

1- حلال روزی اور رضائے الٰہی کا حصول

امام علیؑ کی زندگی کی سب سے نمایاں خصوصیت حلال روزی اور رضائے الٰہی ہے۔ آپؑ نے کبھی حرام کو اپنے دامن سے نہ لگایا اور جب بھی دو ایسے راستوں کے درمیان قرار پائے جن دونوں میں خدا کی رضا تھی، تو ہمیشہ کٹھن اور دشوار راستے کو اختیار فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کو رسولِ خدا ﷺ کا امین اور معتمد سمجھا جاتا تھا اور ہر نازک موقع پر آپؑ ہی سے مدد لی جاتی تھی۔

مولا ئے کائنات حضرت علی ؑ کی یہ سیرت موجودہ دور میں تمام مسلمانوں کو خاص کرعلی ؑ کے چاہنے والوں سے مخاطب ہے کہ وہ حلال روزی کمانے کے لیے اسلامی اور علوی اصولوں پر مبنی کاروبار، نوکری، زراعت یا دستکاری جیسے جائز ذرائع اپنائیں، سود، دھوکہ دہی، ملاوٹ، رشوت، جوا اور دیگر حرام کاموں سے پرہیز کریں، نیت خالص رکھیں، محنت سے کمائیں، شفافیت برتیں، اور حقوق العباد کا خیال رکھیں؛ یہ تمام طریقے رزق حلال کو یقینی بناتے ہیں اورخداو رسول ؑ اور اہل بیتؑ رسول ؑ کی خشنودی و رضا کا باعث بنتے ہیں۔

2- حق کی حمایت اور باطل سے عدمِ مصالحت

اسلوبِ علویؑ میں حق کی حمایت اور باطل سے عدمِ مصالحت ایک اٹل اصول ہے۔ آپؑ نے کبھی عدل کے مقابل کسی مصلحت کو قبول نہ کیا اور نہ ہی ظالم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا۔ آپؑ کا فرمان آج بھی تاریخ کے سینے پر نقش ہے کہ حق کے دشمن کے مقابلے میں نہ نرمی ہے اور نہ کمزوری۔ یہی قاطعیت حکومتِ علویؑ کا امتیاز بنی، اگرچہ یہی عدل دنیا پرستوں کو ناگوار گزرا۔اور یہ نہایت ہی معروف جملہ ہے کہ : قتل علی فی محراب المسجد لشدۃ عدلہ محراب؛محراب مسجد میں علی علیہ السلام کو ضربت، شدت عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔۔۔لہذاتاریخ ہمیشہ اس بات کی گواہ رہے گی کہ حق کی حمایت حضرت علی ؑ کی سیرت کا بنیادی حصہ رہاہے، وہ ایک مثالی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ انصاف، حقوق انسانی اور سچائی کا ساتھ دیا، اور اپنے اعمال سے دوسروں کو نصیحت کی۔

3- سیاستِ علویؑ کی بنیاد رضائے خداوندی

سیاستِ علویؑ کی بنیاد رضائے خداوندی پر استوار تھی۔ نہ شمشیر کی دھمکی آپؑ کو خوف زدہ کر سکی اور نہ نیزوں کی چمک آپؑ کے عزم کو متزلزل کر پائی، کیونکہ آپؑ کا سہارا یقینِ محکم اور توکلِ کامل تھا۔ وہ سیاست جو خدا کی رضا سے جڑی ہو، کبھی خوف و ہراس کا شکار نہیں ہوتی۔

۴- عدل و انصاف

عدل و انصاف حضرت امام علیؑ کی زندگی کی روح تھا۔ حضرت علیؑ کی نگاہ میں عدالت اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایک فریضۂ الٰہی اور ناموسِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ انسان اپنے سامنے ظلم و ستم ہوتے دیکھے اور خاموش تماشائی بن کر کھڑا رہے۔ ان کے نزدیک ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ظلم کے خاتمے اور عدل و انصاف کے فروغ کے لیے سعی و کوشش کرے۔

حضرت علیؑ قانون کے نفاذ میں خاندان پرستی یا ذاتی تعلقات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ چنانچہ جب آپؑ کے سگے بھائی جنابِ عقیلؑ نے بیت المال سے اضافی رقم کا مطالبہ کیا تو آپؑ نے اصول و انصاف کی خاطر سختی سے انکار کر دیا۔ آپؑ کا اعلان تھا کہ اگر یہ مال میرا ذاتی بھی ہوتا تب بھی میں مساوات سے کام لیتا، چہ جائیکہ یہ اللہ کا مال ہے۔ یہی عدل علویؑ تھا جو تقویٰ کے سب سے قریب تر تھا۔

۵- محروموں اور مظلوموں سے ہمدردی

حضرت امیرالمؤمنینؑ کا دل ہمیشہ محروموں اور مظلوموں کے ساتھ دھڑکتا تھا، اور آپؑ اپنی پوری زندگی میں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔آپؑ عوام کے درد کو اپنا درد سمجھتے تھے اور اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ حاکم شکم سیر ہو اور رعایا بھوکی۔ آپؑ کی شبیں فاقہ میں گزرتیں مگر معاشرے کے کمزور طبقے کے چہروں پر مسکراہٹ باقی رہے—یہی ہمدردی علویؑ تھی۔

۶- سادگی اور قناعت پسندی

باوجود اس کے کہ آپؑ کے پاس حلال ذرائع سے آمدنی موجود تھی، سادگی اور قناعت آپؑ کا شعار رہی۔ اقتدار ہو یا گوشہ نشینی، زندگی کا رنگ ایک ہی رہا۔ نہ محلات بنے، نہ خزانے جمع ہوئے، بلکہ پیوند لگا لباس اور خالی ہاتھ ہی آپؑ کی دنیاوی میراث تھی۔

۷-اطاعت و عبادت میں بندگی مجسم پیکر

عبادت کے میدان میں امام علیؑ بندگی کا مجسم نمونہ تھے۔ آپؑ نماز کو امانتِ الٰہی سمجھتے اور وقتِ نماز لرز اٹھتے، کیونکہ یہی شعورِ عبادت انسان کو حقیقی بندگی کے مقام تک پہنچاتا ہے۔

حتی آپؑ کی انگوٹھی کے نگین پر کندہ کلمات بھی توحید، استغفار اور عزتِ الٰہی کا درس دیتے تھے، تاکہ انسان ہر لمحہ خدا کو یاد رکھے۔ اسی طرح آپؑ کے نزدیک نیک اولاد دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھی—ایسی اولاد جو خدا کی اطاعت گزار ہو اور والدین کے لیے ذخیرۂ آخرت بنے۔

۸-اولاد سے محبت، شفقت اور باہمی ہمدردی

موجودہ دور میں اولاد کی تربیت کے لیے تربیتی اصولوں پر عمل، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال، اخلاقی اور روحانی اقدار، کھلا اور دوستانہ ماحول، اور تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کی تیاری ضروری ہے تاکہ بچے مضبوط معاشرے کے معمار بن سکیں، عصرِ حاضر میں بچوں کی اخلاقی تعلیم وتربیت کے لئےحضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی تعلیمات و ہدایات کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، آپ ؑ نے اپنی سیرتِ تابندہ کے ذریعے محبت، شفقت اور باہمی ہمدردی کو تربیتِ اولاد کی اساس قرار دیا اور اس امر کو واضح فرمایا کہ باپ محض نظم و سختی کا مظہر نہ ہو، بلکہ اولاد کے لیے جائے امان، پشت پناہ اور حوصلہ بخش رفیق بھی ہو۔ آپؑ کے گفتار و کردار نے معاشرے کو یہ درس دیا کہ علم کی جستجو اور اخلاقِ فاضلہ کی پرورش ہی انسان کی حقیقی عظمت کی ضامن ہے۔

آج کے پُرآشوب دور میں بھی حضرت علیؑ کی حیاتِ مبارکہ والدین، بالخصوص والدکے لیے ایک زندہ اور ہمہ گیر نمونہ ہے، جو آئندہ نسلوں کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر میں رہنمائی کا روشن مینار ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ امام المتقین ، امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کا طرزِ زندگی محض تاریخ کا ایک باب ہی نہیں بلکہ ہر دور کے انسانوں خاص کر مسلمانوں اور علی ؑ کے شیدائیوں کے لیے زندہ دستورِ حیات ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو اگر دل و عمل میں روشن ہو جائے تو انسان ہی نہیں بلکہ پوراملک و معاشرہ بھی سنور سکتاہے۔

سب سے بڑی یہی تو فضیلت علیؑ کی ہے سیرت جو ہے نبی کی وہ سیرت علی ؑکی ہے۔

بے شبہ کٹ رہی ہے عبادت میں زندگی جب تک نگاہ شوق میں صورت علیؑ کی ہے۔

جو عاشق رسولؐ ہے وہ عاشق علی ؑہے حب نبی کے ساتھ محبت علی کی ہے۔

منہ سے نکل ہی جاتا ہے مشکل میں یا علیؑ ہر دور میں جہاں کو ضرورت علیؑ کی ہے۔

منابع و ماخذ

الارشاد، ص ۲۵۵

المناقب، ج ۳، ص ۱۱۰٫

اسطوانه الحرس

نهج‌البلاغه، الخطب: ۲۴

نهج‌البلاغهْ، خ ۲۲

سوره مائده، آیه ۸؛ سوره انعام، آیه ۱۵۲٫

نهج‌البلاغهْ،، خ ۱۲۴

حلیهْ الاولیاء، ج ۱، ص ۷۱

نهج‌البلاغهْ،، نامه: ۴۵

المناقب ابن شهر آشوب، ج۲، ص۹۵

المناقب، ج۲، ص ۱۲۴؛ الاحزاب، آیه ۷۲

الخصال، ص ۱۹۹٫

تفسیرالصافی، ج۴، ص ۲۷

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha