جمعہ 2 جنوری 2026 - 11:10
آئینۂ تاریخ میں خورشیدِ ہدایت و میزانِ عدالت: سیرتِ مولائے متقیان، علی بن ابی طالب عليهما السّلام

حوزہ/ حضرت علی علیہ السلام کی سیرت آج بھی انسانیت کے لیے وہ آئینہ ہے جس میں جھانک کر فرد اور معاشرہ اپنی حقیقی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ قیامت تک آنے والے ہر صاحبِ دل کے لیے سیرتِ علویہ مشعل راہ اور منزلِ مقصود ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی I

تحریر: مقداد علی علوی

خانۂ ابدیت: ولادت باسعادت

نگاہِ تاریخ جب روئے عالم پر دوڑتی ہے تو ایک ایسا منظر دکھائی دیتا ہے جس کی مثال بسیطِ وجود میں ناپید ہے۔ چہار سو بتانِ جہاں سجدہ ریز ہیں، کعبہ کا غلاف اسود آسمان سے سرگوشیاں کر رہا ہے اور اچانک حقیقتِ مجسم، نورِ ازل کا پرتو، دیوارِ کعبہ شق ہوتی ہے اور 13 رجب المرجب،سن 30 عام الفیل کو علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی صورت میں انسانیت کو وہ گوہر نایاب عطا ہوتا ہے جس کی آب و تاب سے صدفِ جَوف کعبہ منور ہو جاتا ہے۔ یہ محض ولادت نہ تھی، بلکہ نور ولایت کی تجلّی تھی، تقدس کا عملی بیان تھا۔

آغوشِ نبوت: پرورشِ والا مقام

پھر وہ پرورش کہ جس کی نگرانی خود خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک میں تھی۔ آپ علیہ السلام نے شیریں زبانی، حکمتِ عالیہ اور اخلاقِ کریمانہ کا درس رسولِ رحمت دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں پاکر، یہاں سے شخصیت کی وہ بنیاد رکھی گئی جس پر بعد میں اسلام کا عظیم ترین علمی و اخلاقی شاہکار تعمیر ہونا تھا۔

نورِ ایمان کی تجلّی

جب صحرائے جہالت میں حق کی پہلی کرن پھوٹی، تو سب سے پہلے اس نور کو سینے سے لگانے والے ایک نوجوان تھے جن کے پیشِ نظر نہ دنیا کا لالچ تھا، نہ حکمرانی کی ہوس۔ حضرت علی علیہ السلام نے کلمۂ حق اس جرأت سے بلند کیا کہ بتوں کے ٹوٹنے کی آواز تاریخ کے صفحات میں گونجنے لگی۔ آپ علیہ السلام وہ واحد شخص ہیں جنھوں نے کبھی غیر اللہ کے آگے سر نہیں جھکایا۔ یہ نہ صرف پوری حیات علویہ کا امتیاز تھا، بلکہ بصیرتِ کاملہ کا آئینہ دار تھا۔

بحرِ علم: بابِ مدینۃ العلم

اَنَا مَدِینَۃُ العِلمِ وعَلَیٌّ بَابُھَا(میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں)یہ محض ایک فرمانِ نبویّ نہیں، بلکہ ایک حقیقت کا اعلان ہے۔ حضرت علی علیہ السلام علم کے وہ بحرِ بیکراں ہیں جس کی لہریں فقہ و تفسیر، حکمت و فلسفہ، ادب و بلاغت کے گوہر لے کر منزل بہ منزل رواں دواں ہیں۔ آپ علیہ السلام کا دیا ہوا علمی خزینہ، بطور خاص (نہج البلاغہ) محض ایک کتاب نہیں بلکہ حکمت و معرفت کا شاہکار ہے جسے قرآن کریم کے بعد عربی زبان کا سب سے بلیغ اور فصیح ترین متن قرار دیا جاتا ہے۔

شیرِ خدا: شجاعتِ بے مثال

اگر شجاعت کو کوئی لغت چاہے تو اسے حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کھول کر دیکھ لے۔ آپ علیہ السلام کی تلوار "ذوالفقار" صرف آہن کی تیغ نہ تھی، بلکہ ایمان کی تجسیم تھی۔ بدر کے میدان میں، اُحد کی ویرانی میں، خندق کی تنہائی کے عالم میں، اور خیبر کے قلعہ شکن موڑ پر، ہر جگہ آپ علیہ السلام نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی بہادری وہ ہے جو حق کے لیے ہو، ذاتی غرض کے لیے نہ ہو۔

عدلِ مطلق: خلافتِ علویہ

جب آپ علیہ السلام کی دستارِ خلافت سرِ اقدس پر سجی، تو دنیا نے دیکھا کہ انصاف محض ایک لفظ نہیں، ایک نظامِ زندگی بن سکتا ہے۔ آپ علیہ السلام کا دورِ حکومت اصولوں کی سر بلندی کا دور تھا۔ رشتے داری، قومی تعصّب، یا جاہ و منصب، کسی چیز نے آپ علیہ السلام کے میزانِ عدل کو متاثر نہ کیا۔ بیت المال میں سب برابر تھے، اور یہ اعلان تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا:

"اگر یہ میرے اپنے مال بھی ہوتے تب بھی میں برابر بانٹتا، یہ تو پھر اللہ کا مال ہے! تم میں کیسے تفریق ہو سکتی ہے؟"

اخلاقِ کریمانہ: انسانیت کا مُرقّع

حضرت علی عليہ السلام کی زندگی کا سب سے دل پذیر پہلو آپ علیہ السلام کا اخلاقِ عالیہ ہے۔ آپ علیہ السلام کے لیے حکمرانی، طاقت کا استعمال نہیں، بلکہ خدمت کا ذریعہ تھی۔ رات کی تاریکی میں محتاجوں کے گھر کھانا پہنچانا، یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھنا، دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کرنا، یہ وہ رنگ تھے کہ جن سے آپ علیہ السلام کی شخصیت کا مُرقّع مزیّن تھا۔

عبادت و تقویٰ: معراج بندگی کا نورانی پہلو

آپ علیہ السلام کی عبادت محض ظاہری حرکات نہ تھیں، بلکہ روح کی وہ پرواز تھی جو عالمِ ملکوت سے جا ملتی۔ نماز میں اس قدر محویت کہ تیرِ قاتل جسمِ اطہر میں پیوست ہو جاتا اور تیر نکالے جانے کا احساس تک نہ ہوتا۔ آپ علیہ السلام کی مناجاتیں، دعائیں اور کلماتِ حکمت انسان کو اس کی اصل منزل سے جوڑنے کا ذریعہ ہیں۔

شہادتِ عُظمٰی: محراب میں سرِ تسلیم خم

آخر کار وہ گھڑی آئی جب محرابِ عبادت میں، سجدۂ بندگی کی حالت میں، آپ علیہ السلام کے جسمِ اطہر سے فنا کا زہر ٹپکا،لبوں پہ فُزتُ بِربِّ الکَعبَة،خدا کی قسم میں کامیاب ہو گیا،جیسے الفاظ میں کامیابی کا قصیدہ جاری ہوا، اور 21 ماہ رمضان المبارک کو روحِ قدسی ملکوت اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔ یہ شہادت محض ایک واقعہ نہ تھی، بلکہ آپ علیہ السلام کی پوری زندگی کا منطقی انجام تھی، جو شروع بندگی سے ہوا، بندگی ہی میں اختتام پذیر ہوا۔

سِیرتِ علویہ: ہر دور کے لیے پیغام

حضرت علی مرتضٰی علیہ السلام کی سیرت محض ماضی کا واقعہ نہیں، بلکہ حال و مستقبل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ علیہ السلام نے ثابت کیا کہ:

💠علم اگر عدل سے ہم آغوش نہ ہو تو محض معلومات کا انبار ہے

💠طاقت اگر تقویٰ کے ساتھ نہ ہو تو ظلم بن جاتی ہے

💠حکمرانی اگر خدمت کی نیت سے نہ ہو تو آمریت بن جاتی ہے

💠 زندگی اگر مقصد سے خالی ہو تو محض زیست بن جاتی ہے

آپ علیہ السلام کی سیرت آج بھی انسانیت کے لیے وہ آئینہ ہے جس میں جھانک کر فرد اور معاشرہ اپنی حقیقی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ قیامت تک آنے والے ہر صاحبِ دل کے لیے سیرتِ علویہ مشعل راہ اور منزلِ مقصود ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha