تحریر: ایس ایم شاہ
حوزہ نیوز ایجنسی| ایک اچھے سیاستدان کی بنیادی خصوصیات میں انصاف پسندی، امانت داری، پرہیزگاری، اخلاقِ حسنہ، علم و بصیرت، حق گوئی، احساسِ ذمہ داری، مشاورت، تواضع، عوام دوستی، غریب پروری، قانون کی پاسداری، ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا، سستا اور فوری انصاف، تحمل مزاجی، وعدہ وفا، مضبوط قوتِ ارادی، بروقت و برمحل فیصلہ سازی اور قائدانہ صلاحیت شامل ہیں۔ اگر تاریخِ انسانی میں ان تمام اوصاف کو کسی ایک شخصیت میں کامل صورت میں تلاش کیا جائے تو وہ بلا شبہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انسانیت کی سب سے جامع اور کامل شخصیت ہیں۔ آپ کی عظمت کا احاطہ نہ تاریخ کر سکی ہے اور نہ قیامت تک ممکن ہوگا۔ مولودِ کعبہ ہونے کے ناطے 13 رجب المرجب کی مناسبت سے حضرت علی علیہ السّلام کی سیاسی حیات کے چند روشن پہلو پیش کرنا اس تحریر کا مقصد ہے۔
آپ عدل و انصاف میں "صوت العدالۃ الانسانیۃ"، علم و بصیرت میں" انا مدینۃ العلم و علی بابھا، انا دار الحکمۃ و علی بابھا" آپ علم و حکمت کا دروازہ ہیں۔
تحمل مزاجی میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کا حق خلافت چھن جانے اور آپ کے در اقدس کو نذر آتش کرنے کے باوجود آپ نے پچیس سال تک گوشہ نشینی اختیار کی اور کبھی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہ طرزِ عمل Political Tolerance کی اعلیٰ مثال ہے۔
احساس ذمہ داری میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کے سامنے جب کھانا لایا جاتا تو فرماتے کہ میں کیسے سیر ہوکر کھانا کھاؤں شاید حجاز اور یمامہ میں کوئی ایک لقمے کے لیے ترس رہا ہو۔
غریب پروری میں راتوں کو اپنے پیٹھ پر غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کے گھروں تک ہر شب خوراک پہنچاتے تھے، حدیث نبوی کی رو سے " اقضی الناس علی" یعنی بہترین فیصلہ کرنے والے علی علیہ السلام ہیں۔
مولا علی علیہ السلام کی امانت داری کے لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ رات کے وقت آپ چراغ روشن کرکے امور حکومتی انجام دینے میں مصروف عمل تھے اتنے میں ایک شخص آپ سے ملنے آیا تو آپ نے اس چراغ کو گل کرکے ذاتی چراغ کو روشن کیا۔
احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ آپ گم نام طریقے سے کوفے کی گلیوں میں گھومتے تھے، تاکہ وہاں کے غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کی داد رسی کی جاسکے۔ حکومتی امور میں آپ کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ جب مصر کے حالات خراب ہوگئے تو آپ نے حضرت مالک اشتر کو وہاں کا گورنر بنایا۔ اسے ایک خط تھمایا جو بعد میں عہدنامہ مالک اشتر کے عنوان سے مشہور ہوا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ ہے: اپنے دل میں لوگوں کے لیے محبت پیدا کرو کیونکہ وہ یا تو تمہارے دینی بھائی ہے یا تمہارے ساتھ انسانیت میں مشترک ہے۔
آپ کی سادہ زیستی کا یہ عالم تھا کہ پرانے صاف ستھرے پیوند شدہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا اے مولا اگر آپ نیا لباس زیب تن کرتے تو آپ کی شخصیت کے مطابق ہوتا۔ فرمایا: یہ لباس دل کو فروتنی عطا کرتا ہے، تکبر سے محفوظ رکھتا ہے اور پرہیزگاروں کے لیے یہی کافی ہے۔
اگرچہ آپ سب سے زیادہ دانا اور عقلمند تھے لیکن حکومتی امور میں آپ بسااوقات لوگوں سے مشورہ بھی لیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے حکومتی کاموں کی خاطر ایک خاص مقام سے افراد کے چناؤ سے پہلے چند تجربہ کار لوگوں کو بلاکر وہاں کے لوگوں کی امانت داری اور اجتماعی امور میں ان کی کارکردگی کے حوالے سے استفسار کیا۔ ان سے رائے لینے کے بعد فرمایا: جو بھی بغیر کسی مشورے کے کسی ذمہ داری کو اپنے ذمہ لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو تباہی کے داہنے تک پہنچا دیتا ہے۔
مساوات کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ آپ مسجد سے نکلے تو ایک عمر رسیدہ فقیر لوگوں سے کچھ مانگ رہا تھا۔ لوگوں نے اہانت آمیز لہجے میں کہا کہ مولا! یہ شخص مسیحی ہے۔ امام علیہ السلام نے ان کی اس بات سے سخت ناراض ہوکے فرمایا: جب یہ جوان تھا تو تم لوگوں نے ان کی طاقت سے استفادہ کیا ہے۔ جب یہ کمزور ہوگیا ہے تو تم لوگ اسے چھوڑ دیتے ہو۔ یہ فرماکر بیت المال سے اس کا خرچہ دینے کا حکم دیا۔
بنابریں حضرت علی بن ابی طالبؑ کی شخصیت محض ایک مذہبی یا تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ آپ تاریخِ انسانی میں دانش پر مبنی سیاست (Wisdom-based Politics) کا نادر نمونہ ہیں۔ آپ کی سیاست اقتدار کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ حق، عدل، اخلاق اور انسانیت کے قیام کے لیے تھی۔ حضرت علیہ السّلام کی سیاست کا بنیادی ستون اصول پسندی تھا نا کہ مصلحت۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سیاست اگر اصول سے خالی ہو تو فریب بن جاتی ہے۔ آپ نے کبھی بھی حق کو مصلحت پر قربان نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے معاویہ جیسی مکار سیاست کا سہارا نہیں لیا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وقتی طور پر یہ طرزِ سیاست کامیاب ہو سکتی ہے۔ آپ کا مشہور فرمان ہے: اگر دینی اصول مانع نہ ہوتے تو میں سب سے بڑا سیاست دان ہوتا۔ یہ جملہ حضرت علی علیہ السلام کی دانشمندانہ سیاست کی واضح دلیل ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے نزدیک حکومت غنیمت نہیں، ذاتی حق نہیں، خاندانی میراث نہیں بلکہ الٰہی امانت ہے۔ اسی لیے خلافت قبول کرتے وقت فرمایا: اگر حق کا قیام اور باطل کا خاتمہ مجھ پر لازم نہ کیا جاتا تو میں حکومت قبول نہ کرتا۔ یہ فکر جدید سیاسی فلسفے میں Public Trust Theory سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاست کا مرکز عدلِ مطلق تھا۔ عدل ایسا کہ خلیفہ اور عام شہری برابر، مسلمان اور غیر مسلم قانون کے سامنے مساوی، امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے عہد خلافت میں ایک یہودی کے ساتھ زرہ کا مقدمہ قاضی شریح کے پاس پہنچا۔ آپ کے پاس گواہ نہ ہونے کے باعث فیصلہ یہودی کے حق میں ہوا، مگر علی علیہ السلام نے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ جس پر یہودی نے متاثر ہوکر آپ کی خلافت کو خلافت الہیہ قرار دے کر زرہ آپ کو واپس لوٹا دیا۔ یہ رویہ آپ کو Rule of Law کا بانی ثابت کرتا ہے۔ حضرت علی علیہ السّلام طاقت کو تلوار یا فوج سے نہیں، بلکہ اخلاقی اتھارٹی سے حاصل کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک ظلم وقتی طور پر طاقتور ہوتا ہے مگر عدل دائمی طاقت رکھتا ہے۔ اسی لیے آپ فرماتے تھے: حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ یہ جملہ سیاسی حکمت کا شاہکار ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی دیانت داری کا اعلیٰ ترین نمونہ حضرت عقیلؑ کا واقعہ ہے۔ بھائی ہونے کے باوجود بیت المال سے زائد دینے سے انکار کیا۔ دہکتی ہوئی سلاخ تھامنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ رشتہ قانون سے بالاتر نہیں، سیاست میں قرابت داری کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تصور آج کے دور میں Anti-Corruption Governance کی بنیاد ہے۔حضرت علی علیہ السلام اشرافیہ نواز سیاست کے سخت مخالف تھے۔ آپ کی سیاست عوام دوست، غریب نواز اور کمزور طبقے کی محافظ تھی۔ آپ خود راتوں کو اناج اٹھا کر یتیموں اور بیواؤں کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔ یہ محض ہمدردی نہیں، بلکہ Social Justice Policy تھی۔ حضرت علی علیہ السلام کا خط مالک اشتر کے نام دنیا کا ایک عظیم سیاسی و انتظامی منشور ہے۔ اس میں انسانی حقوق، گورننس، عدالتی شفافیت، فوجی اخلاقیات، عوامی فلاح و بہبود سب کچھ موجود ہے۔ آج بھی اقوامِ متحدہ اور جدید سیاسی مفکرین اسے Ideal Governance Charter مانتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے جنگ بھی اصولوں کے تحت لڑی۔ آپ خود سے جنگ کا آغاز نہیں کرتے تھے۔ زخمی پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی سیاست اخلاقی سیاست (Ethical Politics) کہلاتی ہے۔ مسجد میں حضرت علی علیہ السلام کی شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ سچی سیاست اکثر مظلومیت پر ختم ہوتی ہے، مگر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکر جارج جرداق نے کہا: “قتل علی لشدۃ عدلہ”علیہ السلام کو ان کے شدید عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ بنابریں حضرت علی علیہ السلام فقط سیاست دان نہیں، بلکہ سیاست کے استاد بھی ہیں۔ آپ کی سیاست ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، ذریعہ ہے۔ اصول کامیابی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ عدل سیاست کی روح ہے۔ اگر آج کی دنیا حضرت علی علیہ السّلام کی سیاست سے صرف چند اصول ہی اپنا لے تو ظلم کا خاتمہ، عدل و انصاف کا بول بالا اور انسانیت محفوظ ہو سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ