جمعہ 2 جنوری 2026 - 21:05
ماڈرن ایجوکیشن اور حضرت امیر المؤمنین علی (ع)

حوزہ/عصرِ حاضر میں یہ تصور عام ہو چکا ہے کہ دینی تعلیم اور عصری (جدید) علوم ایک دوسرے سے جدا، بلکہ متصادم ہیں۔ مدارس اور یونیورسٹیوں کو الگ الگ خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے؛ ایک کو دینی اور دوسرے کو دنیوی کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم نے اسلامی فکر میں ایک مصنوعی دوئی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں مذہبی طبقہ جدید علوم سے دور ہوتا جا رہا ہے اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ دینی شعور سے بیگانہ بنتا جا رہا ہے۔

تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی

حوزہ نیوز ایجنسی| عصرِ حاضر میں یہ تصور عام ہو چکا ہے کہ دینی تعلیم اور عصری (جدید) علوم ایک دوسرے سے جدا، بلکہ متصادم ہیں۔ مدارس اور یونیورسٹیوں کو الگ الگ خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے؛ ایک کو دینی اور دوسرے کو دنیوی کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم نے اسلامی فکر میں ایک مصنوعی دوئی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں مذہبی طبقہ جدید علوم سے دور ہوتا جا رہا ہے اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ دینی شعور سے بیگانہ بنتا جا رہا ہے۔

لیکن اسلامی فکر، خصوصاً حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی تعلیمات، اس تقسیم کو بنیادی طور پر رد کرتی ہیں۔ اسلام میں علم کی درجہ بندی دینی اور دنیاوی خانوں میں نہیں بلکہ نافع اور غیر نافع کے معیار پر کی گئی ہے۔ جو علم انسان اور معاشرے کے لیے مفید ہو وہ دینی ہے، خواہ وہ مدرسہ میں پڑھا جائے یا یونیورسٹی میں۔ اس قاعدہ کے تحت سائنس، طب، انجینئرنگ، معاشیات اور قانون سب دینی علوم کے دائرے میں آتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد انسانی فلاح اور سماجی عدل ہے۔

حضرت علیؑ فرماتے ہیں: قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ ہر انسان کی قدر و قیمت اس کے علم اور مہارت سے ہے” (نہج البلاغہ، حکمت 81)۔یہ فرمان اس تصور کو مکمل طور پر منہدم کر دیتا ہے کہ صرف علم فقہ یا عبادت ہی دینی قدر رکھتےہیں۔ حضرت علیؑ کے نزدیک انسان کی دینی قدر اس کی اس علمی و عملی صلاحیت سے متعین ہوتی ہے جس سے وہ معاشرے کی خدمت کرے، چاہے وہ ڈاکٹر ہو، انجینئر ، قاضی یا معلم ہو۔

قرآن مجید علم کی وحدت کو نہایت صراحت سے بیان کرتا ہے: هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (سورہ الزمرآیہ 9)۔

قرآن علم کو صرف فقہ یا عبادات تک محدود نہیں کرتا، بلکہ کائنات، تاریخ، فطرت اور خود انسان کو بھی میدانِ علم قرار دیتا ہے۔ یوں اسلامی تصورِ علم ایک ہمہ گیر تصور ہے جو مادی اور روحانی دونوں جہتوں کو یکجا کرتا ہے۔

حضرت علیؑ کا یہ قول: العِلْمُ سُلْطَانٌ- علم اقتدار ہے” (غرر الحکم) اس بات کو واضح کرتا ہے کہ علم محض عبادتی فضیلت نہیں بلکہ سماجی، سیاسی، سائنسی اور تہذیبی طاقت کا سرچشمہ بھی ہے۔ جو قوم علم میں آگے ہوتی ہے، وہی تاریخ، معیشت اور سیاست میں بھی قیادت کرتی ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے فرامین کی روشنی میں عصری علوم وہ تمام شعبے ہیں جو انسانی زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔ کلاسیکی اسلامی روایت اور جدید علمی تعبیر کو یوں جوڑا جا سکتا ہے کہ علمُ الہندسہ آج انجینئرنگ، فنِ تعمیر اور شہری منصوبہ بندی (Engineering, Architecture, Urban Planning) کی صورت میں شہروں، پلوں اور انفراسٹرکچر کی بنیاد بنتا ہے؛ علمُ الحساب ریاضی اور شماریات (Mathematics and Statistics) کی شکل میں سائنس، معیشت اور ٹیکنالوجی کو منظم کرتا ہے؛ اور علمُ النجوم آج Astronomy اور Space Science کے ذریعے کائنات کے قوانین کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔

اسی طرح علمُ الطب جدید Medical Sciences کے طور پر انسانی جسم اور علاج سے وابستہ ہے، علمُ السیاسہ Political Science اور Governance کے ذریعے ریاست اور عدل کو منظم کرتا ہے، علمُ الاقتصاد (Economics) دولت کی پیداوار اور منصفانہ تقسیم کے اصول دیتا ہے، علمُ العمران Urban Planning کی صورت میں انسانی آبادیوں کی تنظیم کرتا ہے، اور علمُ القضاء جدید Law اور Judiciary کے ذریعے انصاف کو قائم رکھتا ہے۔ یہ سب علوم اسلامی تہذیب میں علومِ نافعہ کہلاتے تھے، یعنی وہ علوم جو خدا کی مخلوق کے فائدے کا ذریعہ بنیں، اس لیے وہی حقیقی دینی علوم ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام نے ان علوم کو صرف نظری سطح پر نہیں بلکہ عملی طور پر بھی دینی فریضہ بنایا۔ آپؑ نے کائنات میں غور و فکر کو عبادت قرار دیا اور نہج البلاغہ کے خطبات (خطبہ 1، خطبہ 91) میں تخلیق، فلکیات، فطرت اور انسانی جسم پر سائنسی انداز میں گفتگو کی۔ اسی طرح آپؑ نے بیت المال، ٹیکس، فوجی تنخواہوں اور عدلیہ کو منظم حسابی اصولوں پر قائم کیا (نہج البلاغہ، مکتوب 53)، جو جدید Public Finance اور Administrative Accounting کے عین مطابق ہے۔

عہدنامہ مالک اشتر میں حضرت علیؑ نے گورننس، عدلیہ، پولیس اور عوامی بہبود کے جو اصول دیے، وہ آج کی Political Science اور Constitutional Law کی بنیادوں سے ہم آہنگ ہیں۔ معاشیات کے میدان میں آپؑ کا سود، ذخیرہ اندوزی اور طبقاتی استحصال کے خلاف موقف جدید Economic Justice اور Welfare Economics کی اخلاقی بنیادوں کا عین عکس ہے۔

اسی علوی تصورِ علم کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں بیت الحکمہ، دارالترجمہ، رصدگاہیں اور طبی جامعات قائم ہوئیں۔ بیت الحکمہ ایک Research University اور Think Tank تھا، دارالترجمہ Knowledge Transfer Center ، رصدگاہیں Space Science Institutes اور طبی جامعات جدید Medical Universities کے ہم معنی تھیں۔ یہ سب ادارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضرت علیؑ کے نزدیک علم، چاہے وہ طب ہو یا فلکیات، سب دین کا حصہ ہے۔

اس مقالے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ علم کو دینی اور دنیاوی خانوں میں بانٹنا اسلامی فکر کی روح کے خلاف ہے۔ علوی تصورِ علم میں اصل معیار نفع اور انسانی فلاح ہے، نہ کہ زبان، ادارہ یا تدریسی میڈیم۔ جو علم انسان کو خدا کی معرفت، معاشرتی عدل، سائنسی فہم اور تہذیبی ترقی کی طرف لے جائے، وہی حقیقی دینی علم ہے چاہے وہ مدرسہ میں پڑھایا جائے یا یونیورسٹی میں۔

حضرت علی علیہ السلام کی سیرت اور فرامین یہ ثابت کرتے ہیں کہ علمِ طب، ریاضی، فلکیات، سیاست، معیشت، انتظام اور حکمرانی سب عبادت کے دائرے میں آتے ہیں، کیونکہ یہ انسان اور معاشرے کی خدمت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ بیت الحکمہ، دارالترجمہ، رصدگاہیں اور طبی جامعات علوی فکر کے وہ عملی مظاہر تھے جنہوں نے اسلامی تہذیب کو دنیا کی عظیم ترین علمی تہذیب بنایا۔

یوں یہ مقالہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ آج جسے ماڈرن ایجوکیشن کہا جاتا ہے، وہ دراصل اسی علوی تصورِ علم کا تسلسل ہے، فرق صرف زبان اور اصطلاحات کا ہے، مقصد آج بھی وہی ہے: انسان، علم اور خدا کے درمیان ہم آہنگی۔ میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہم السلام کی ولادت کے موقع پر تمام اہل اسلام اور حق پسندوں کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں: اَللّٰھمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ، اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو علم کو عبادت سمجھتے ہیں، عقل کو ایمان سے جوڑتے ہیں اور تحقیق کو خدمتِ خلق کا وسیلہ بناتے ہیں۔ پروردگار! ہمیں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے نورِ علم، عدل اور حکمت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما تاکہ ہماری تعلیم عبادت بن جائے اور ہماری عبادت تہذیب کی بنیاد۔آمین یا رب العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha