جمعرات 8 جنوری 2026 - 23:50
امریکی مذاکرات ایک جنگی حربہ؛ ونیزویلا کی صورتحال کے تناظر میں!

حوزہ/متفقہ وقت پر، مذاکراتی وفد کے بجائے، متعدد امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز کاراکاس میں صدارتی محل کے قریب اترے۔ وہاں سے امریکی خصوصی دستے (ڈیلٹا فورس کے ارکان کے طور پر شناخت کیے گئے) تیزی سے آگے بڑھے۔ اسی دوران، شہر کے دفاعی مقامات پر نشانہ بنائے گئے میزائل دھماکے ہوئے، جو بظاہر کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کو روکنے کے لیے تھے۔

تحریر:مولانا محمد احمد فاطمی

حوزہ نیوز ایجنسی|

بقول ڈاکٹر علامہ اقبال

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا

کاراکاس/واشنگٹن کے مابین جو کچھ حالیہ دنوں میں ہوا، اس نے باشعور جاہلوں کی عقل کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے اگر کوئی اس غفلت زدہ خودفریبی سے باہر نکلنا چاہے۔ حالیہ دنوں میں وینزویلا میں ایک ایسا منظر نامہ سامنے آیا ہے جس میں دو مخالف ممالک کے درمیان ڈرامائی انداز میں ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت، ممکنہ امن مذاکرات ایک قبضہ مافیا کی چال میں بدل گئی، اس نے امریکہ کی طرف سے بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں ایک پرانے شبہے کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے: کیا یہ مذاکرات ہیں یا پھر ایک جنگی چال؟

ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی سالوں سے انتہائی کشیدہ تھے، ہوگوشاویز ست صدر مادورو تک وینزویلا اور امریکہ کےسبین یاک سردجنگ سی صورتحال تھی

ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ٹیلی فون رابطہ کیا۔ پیشکش کی گئی اور ظاہر کیا کہ مذکرات ایک ایسا راستہ ہے جو کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے ساتھ وینزویلا کے صدر نے مذاکرات میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ جگہ کی بحث چھڑ گئی۔ امریکی طرف نے پہلے میامی کا نام لیا، جسے کاراکاس نے مسترد کر دیا۔ آخرکار، وینزوئلا کے دارالحکومت میں ملاقات پر اتفاق ہوا۔ شرائط پر بھی اتفاق ہو گیا، بشمول یہ کہ امریکہ اپنے وفد کی حفاظت خود کرے گا، جس میں فوجی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے آمد و رفت شامل تھی۔ محل میں داخلے کے راستوں سے لے کر مادورو کی سیکیورٹی فورسز کی غیر موجودگی تک، تمام تفصیلات طے پا گئیں۔

مگر مقررہ تاریخ پر، جو کچھ پیش آیا وہ سفارت کاری کا نہیں، بلکہ جنگی نظارہ تھا۔

متفقہ وقت پر، مذاکراتی وفد کے بجائے، متعدد امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز کاراکاس میں صدارتی محل کے قریب اترے۔ وہاں سے امریکی خصوصی دستے (ڈیلٹا فورس کے ارکان کے طور پر شناخت کیے گئے) تیزی سے آگے بڑھے۔ اسی دوران، شہر کے دفاعی مقامات پر نشانہ بنائے گئے میزائل دھماکے ہوئے، جو بظاہر کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کو روکنے کے لیے تھے۔

صدارتی محل کے احاطے میں، ایک مختصر مگر شدید جھڑپ ہوئی۔ وینزوئلا کے ذرائع کے مطابق، صدر مادورو کے 30 سے زیادہ محافظ ہلاک ہو گئے۔ امریکی دستے اندر گھسے، صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا، اور انہیں فوری طور پر ایک انتظار کر رہے ہیلی کاپٹر میں لے جایا گیا۔ تمام تر عمل میں، وینزوئلا کی باقاعدہ سیکیورٹی فورسز، جو پہلے ہی شہر کے اردگرد حملوں میں الجھی ہوئی تھیں، مؤثر طریقے سے بے اثر کر دی گئیں۔

یہ واقعہ، بین الاقوامی قانون اور سفارتی اعتماد کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ کیا امن مذاکرات کی آڑ میں فوجی کارروائی کا منصوبہ بنایا گیا تھا؟ کیا یہ ایک نئی امریکی حکمت عملی کا اشارہ ہے جہاں "مذاکرات" محض ایک حربہ بن کر رہ گئے ہیں؟

وینزوئلا کی عوام اور دنیا بھر کے بیدار انسانوں نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے اور اسے "غداری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے ہمیشہ کی طرح وینزویلا کو بھی باپ کی جاگیر سمجھ کر اس غیر قانونی اقدام پر ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

ایک بار پھر، دنیا کے سامنے یہ سوال ہے: جب ایک سپرپاور بات چیت کا ہاتھ بڑھاتا ہے، تو کیا یہ صلح کی پیشکش ہے، یا پھر جنگ کا ایک نیا اور خفیہ کوڈ؟ وینزوئلا کا یہ واقعہ اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ بعض اوقات، مذاکرات کی میز دراصل ایک جال ہو سکتی ہے۔

یہ وہی عمل ہے جو اس سے پہلے ایران میں امریکی پشت پناہی میں ہونے والے اسرائیلی جارحانہ حملے میں کیا گیا۔

جو لوگ اور اقوام آج تک امریکی مذاکرات اور امریکی خیرخواہی کے کھوکھلے نعرے کو حقیقی سمجھتے تھے، ان کےلیے اس میں یقیناً بڑا سبق ہے۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha