ہفتہ 3 جنوری 2026 - 10:49
مولود کعبہ؛ مطلوب خدا و رسولِ خدا

حوزہ/ابھی اس خاتون کی دعا مکمل ہی ہوئی تھی کہ دیوار کعبہ نے مسکرا کر اپنی آغوش میں لے لیا، گویا معراج حبیب کے لئے آسمان کے دروازے وا ہوئے یا دریا نے کلیم اللہ کو راستہ دیا، خانہء خدا علی کا زچہ خانہ بنا، زچہ کی خدمت کے لئے مریم و آسیہ اور حوران جنت تشریف لائیں، رحمت خدا گہوارہ بنی، علم خدا سے غذا آئی، عدالت الہی نے عصمت کا لباس پہنایا۔

تحریر: دانش عباس خان

حوزہ نیوز ایجنسی| خلیل و ذبیح کے پاک و پاکیزہ ہاتھوں نے کعبہ کی چہاردیواری بحکم خدا خاص طہارت کے اہتمام کیساتھ بلند کر دیا تھا، لیکن خالق یگانہ کا خود سے منسوب کیا ہوا یہ کاشانہء ارضی سالہا سال سے مصنوعی خداؤں کا پایتخت بنا ہوا تھا کہ جو کسی بت شکن کے قدموں کا چشم براہ تھا، ادھر آمنہ کی تمناؤں کا چراغ پورے نور و ضیاء پر تھا مگر کسی پروانہء جمال کے نہ ہونے کی وجہ سے افسردہ معلوم ہوتا تھا، یتیم عبداللہ کی کفالت مومن آل قریس جناب ابوطالب اور آپ کی زوجہ گرامی جناب فاطمہ بنت اسد نے اپنی اولاد سے بڑھ انجام دیا، ایک دن اس شفیق چچا نے اپنی زوجہ سے فرمایا: *میں اس بچہ کے کاندھوں پر نبوت و رسالت کا بار دیکھ رہا ہوں اور اس کا وزیر و وصی تمہارے بطن سے جلد متولد ہوگا۔*(۱)

بالآخر وہ مبارک وقت آگیا جب فاطمہ بنت اسد اپنے سینہ و پہلو کے درمیان ایک جلیل القدر امانت رکھے ہوئے تھیں کہ جس کے ادا کرنے کی تحریک درد زہ کی تکلیف کی صورت میں شروع ہوئی تو آپ بتوں سے نہیں بلکہ خدائے وحدہ لاشریک سے برکت حاصل کرنے کے لئے پشت خانہء کعبہ کے قریب آئیں اور فرمایا: پروردگارا! میں تجھ پر ایمان رکھتی ہوں، تیری بھیجی ہوئی کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے جد ابراہیم خلیل کے کلام کی تصدیق کرتی ہوں کہ جنھوں نے اس بیت عتیق کی تعمیر فرمائی، پس اس معمار کعبہ کا واسطہ اور میرے شکم میں پروان چڑھنے والے مولود کا واسطہ کہ اس ولادت کو آسان بنا دے۔(۲)

ابھی اس خاتون کی دعا مکمل ہی ہوئی تھی کہ دیوار کعبہ نے مسکرا کر اپنی آغوش میں لے لیا، گویا معراج حبیب کے لئے آسمان کے دروازے وا ہوئے یا دریا نے کلیم اللہ کو راستہ دیا، خانہء خدا علی کا زچہ خانہ بنا، زچہ کی خدمت کے لئے مریم و آسیہ اور حوران جنت تشریف لائیں، رحمت خدا گہوارہ بنی، علم خدا سے غذا آئی، عدالت الٰہی نے عصمت کا لباس پہنایا۔

دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے سجدہء خالق انجام دیا، طاق کعبہ پر قائم شدہ بت سرنگوں ہوگئے کیوں کہ بت شکن کی آمد تھی، رمز توحید اور راز قدرت قدرتی پردوں میں جلوہ نما تھا، انسانی ہاتھ قفل کھولنے یا توڑنے سے عاجز و توان تھے، ادھر جان عبداللہ نومولود کا شوق دیدار لئے ہوئے بیت الشرف سے روانہ ہوئے، بھائی کا بھائی سے کیا عجیب ربط! جیسے ہی خانہء خدا کے قریب پہونچے دیوار کعبہ نے پھر زیر لب مسکرا کر تازہ مولود کیلئے راستہ دے دیا ادھر فاطمہ بنت اسد اپنے نور نظر کو دامن چھپائے، کلیجہ سے لگائے قبلہء اسلام سے باہر آئیں گویا چاہ کنعان سے یوسف نکلے یا گلاب سے خوشبو نکلی یا ابر سے آفتاب نکلا یا رات کی تاریکی میں نور سحر چمکا، آتے ہی بچہ ہمک کر آغوش رسالت میں آگیا گویا ایک امانت تھی جو اصل مالک کے سپرد کی جا رہی تھی، ابھی تک تو نومولود نے آنکھوں کو موند رکھا تھا لیکن جیسے خوشبوئے رسالت مشام امامت تک پہونچی تو آنکھوں کو کھول دیا، علی رخ محمد کا مشاہدہ کر رہے تھے، اسلام کی قسمت مسکرا رہی تھی، توحید بالیدہ ہو رہی تھی، تھوڑی ہی دیر میں غذائے روحانی کی طلب میں دہن کو کھول دیا رسالت نے امامت کے دہن میں زبان رکھ دی گویا دو دہن تھے مگر ایک زبان تھی ، الفاظ الگ الگ تھے نبوت و امامت میں فرق تھا ایک بانئ اسلام تھا تو دوسرا محافظ اسلام، اس محافظ اسلام نے آتے ہی اسلام کی چار چیزوں کی حفاظت کا اعلان کیا: بتوں کو توڑ کر توحید پروردگار کا اعلان کیا، زبان رسالت چوس کر تحفظ رسالت کا اعلان کیا، قرآن حکیم کی تلاوت کرکے قرآن کی عظمت کا اعلان کیا اور کعبہ میں پیدا ہوکر کعبہ کی حرمت کا اعلان کیا۔

۱۔اصول کافی، ج۱، ص۴۰۹، ح۱۲۲۷

۲۔بحارالانوار، ج۳۵، ص۱۶

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha