جمعہ 30 جنوری 2026 - 23:20
بعض شعراء کے انحرافات!

حوزہ/شعر و شاعری محض الفاظ کی ترتیب یا مترنم آوازوں کا کھیل نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت فکری و تہذیبی ہنر ہے۔ زندہ اور مہذب قومیں ادب کی اس صنف کو اپنا قیمتی سرمایہ سمجھتی ہیں اور شعراء کو قومی شعور کے امین کے طور پر تسلیم کرتی ہیں؛ کیونکہ شعری کائنات صرف الفاظ کی بندش نہیں، بلکہ معانی و مفاہیم کا ایک بیکراں سمندر ہے جس میں تاریخ کی صدائیں، تہذیبوں کی بازگشت اور روایتوں کی حرارت محفوظ رہتی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر علی اصغر الحیدری

حوزہ نیوز ایجنسی| شعر و شاعری محض الفاظ کی ترتیب یا مترنم آوازوں کا کھیل نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت فکری و تہذیبی ہنر ہے۔ زندہ اور مہذب قومیں ادب کی اس صنف کو اپنا قیمتی سرمایہ سمجھتی ہیں اور شعراء کو قومی شعور کے امین کے طور پر تسلیم کرتی ہیں؛ کیونکہ شعری کائنات صرف الفاظ کی بندش نہیں، بلکہ معانی و مفاہیم کا ایک بیکراں سمندر ہے جس میں تاریخ کی صدائیں، تہذیبوں کی بازگشت اور روایتوں کی حرارت محفوظ رہتی ہے۔ شاعری دراصل وہ تاریخی دستاویز ہے جو جذبات کے قالب میں ڈھل کر نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔

اسلام نے شاعری کے اسی بامقصد اور افادیت آمیز پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تہذیبی سفر میں اسے قبول کیا اور اس کے مثبت استعمال کو فروغ دیا۔ جب شاعری نے دین کا جامہ اوڑھا تو اسے وقار اور استناد بھی حاصل ہوا۔ یوں شعراء نے مقدس مضامین، قدیسی رنگ اور روحانی ترکیبات کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا اور لفظوں کو معنی کی ذمہ داری سونپی۔

اسلامی شعری ادب ایک مستند اور بھرپور تاریخ رکھتا ہے، جس میں ہر دور کے بلند پایہ شعراء نے شاعری کو محض داد و تحسین یا درباری قربت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے فکری اور اعتقادی موقف کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ یہی سبب ہے کہ وہ درباری تملق اور وقتی مفاد سے دور رہے۔ میر انیس اور مرزا دبیر جیسے شعراء نے اپنی شاعری میں خلوص، للّٰہیت اور فکری صداقت کی ایسی مثال قائم کی کہ ان کا کلام بارگاہِ عصمت سے سندِ قبولیت حاصل کر سکا۔

تاہم، عصرِ حاضر کی مذہبی شاعری میں ایک تشویشناک صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔ شاعری کے پردے میں بعض ایسے عناصر داخل ہو گئے ہیں جو نہ فن کے ابتدائی رموز سے واقف ہیں اور نہ ہی اپنی فکری ذمہ داریوں سے آگاہ۔ ان کے کلام میں وزن کی شکست، مضامین کی سطحیت اور توارد و سرقہ کی کثرت اور مسلم عقائد سے سرکشی واضح ہے۔ دین و مذہب کی سربلندی ان کا مقصد نہیں، بلکہ ذاتی مفاد، شہرت اور جاہ طلبی ان کی اصل محرک بن چکی ہے۔ یوں مذہبی شاعری محض آلۂ تفریح اور بازیچۂ لفظ بن کر رہ گئی، جیسا کہ صدرِ اسلام کے بعض منافق عناصر مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

فنی کمزوریوں سے قطعِ نظر، بعض شعراء مضمون آفرینی اور جدت خیال کے شوق میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ شرعی حدود و قیود کو بھی پامال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اس نوع کی غیر مانوس اور بے بنیاد فکری جہتیں نہ کبھی ہماری تہذیبی روایت کا حصہ رہی ہیں اور نہ ہی ہماری تاریخی وراثت کا جزو رہی ہیں۔

ان فکری انحرافات اور اخلاقی مفاسد کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہیں، لیکن سب سے بنیادی سبب وہی ہے: کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ شہرت، عزت اور مال و دولت کے حصول کی ہوس۔

یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ شعراء کا معاشرے پر گہرا فکری و نفسیاتی اثر ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ اثر بعض اوقات غیر محسوس نظر آتا ہے، مگر چونکہ ہماری نئی نسل براہِ راست ان محافل، مقاصدوں اور مذہبی ادبی فضا سے جڑی ہوئی ہے، اور ان شعرا سے کسی نہ کسی سطح پر فکری و اعتقادی تشکیل حاصل کر رہی ہے، اس لیے یہ معاملہ محض ادبی نہیں بلکہ سماجی، اخلاقی اور تہذیبی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اگر اس رجحان کا بر وقت سدِ باب نہ کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت خوفناک، دور رس اور تہذیب شکن ثابت ہوں گے۔

عمومی طور پر ان شعرا میں یہ رویہ بھی نمایاں ہے کہ وہ شرعی حدود کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کی شاعری مقصدیت سے خالی ہوتی ہے۔ محض ہاؤ ہو، شور و غوغا اور سطحی جذباتیت کا بے ہنگم ملغوبہ۔

یہاں شعور کے بجائے شور، شعر کے بجائے شر اور تطہیرِ فکر کے بجائے عقائدِ مسلمہ ثابتہ کی بیخ کنی کو فکری جرأت کا نام دے دیا گیا ہے۔

اہلِ فن ان فکری اور فنی انحرافات سے واقف ہیں، مگر اکثر خاموشی کو مصلحت کا نام دے کر اظہارِ حق سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ یہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

بالآخر یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا: شعراء کے نام پر جہالت کو فروغ دینے اور نااہلوں کو آگے لانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ اس کا جواب نہ صرف ادبی مذہبی حلقوں کو دینا ہوگا بلکہ تاریخ بھی اس پر اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔

بعض نام نہاد شعراء کی فنی ناواقفیت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ ایک ہی شعر کے دونوں مصرعے الگ الگ بحور میں پڑھتے ہیں، اور انہیں اس بنیادی عروضی خطا کا بھی شعور نہیں ہوتا۔ وزن کی یہ شکست صرف فنی کمزوری نہیں، بلکہ فن کے وقار سے لاعلمی اور فکری بے ایمانی کی علامت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha