تحریر: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
انسانیت کے ارتقاء پر جانے کے لیے اگر کوئی محکم و مستحکم وسیلہ ہے تو آپ کی ذات والا صفات ہے بشریت اگر اسکے غبار قدم کو بھی چشم عقیدت میں سرمہ لگا لے تو سرمایہ شعور و معرفت کا وہ دھنی ہو جائے گا امام کائنات نے اتحاد ملت کے لیے جتنی بڑی قربانی دی ہے اسے پوری دنیا نے اپنی خلقت کے آغاز سے ابھی تک نہیں دی ہوگی اور نہ کوئی دے سکتا ہے اس قربانی کی سرخی کو دیکھنا ہے تو شفق کی لالی کو نگاہوں میں گواہ کے طور پر بسانا پڑےگا گردش لیل و نہار شاہد ہیں محراب و منبر گواہ ہیں۔
شھر کوفہ کے بام و در یہاں کی رہگزر اس خاک کا ذرہ ذرہ افلاک کی بلندیوں تک گویا ہے کون ہے جس نے سب سے بڑے متکلم کو پچیس برس خاموش دیکھا جسکی چار سالہ خطابت نے ہزاروں صفحات پر مشتمل نہج البلاغہ کو جنم دیا اگر وہ امت کے سامنے تینوں حکومتوں کے دور اقتدار میں عرشہ منبر سے چشمہ فیضان زبان کو جاری رکھتا تو امت مسلمہ کے پاس اس وقت کس قدر سرمایہ علم و معرفت ہوتا اسکا اندازہ بھی بشریت کا ذہن لگانے سے قاصر ہے اس سے بڑی قربانی راہ اتحاد میں خطیب منبر سلونی کے سوا کون دے سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں خطیب منبر بھی اور ادیب امت بھی، مالک علم لدنی ، اور میدان جہاد کا مجاہد وہ تلوار سے میدان میں سرکشوں کا سر قلم کرتا ہے تو عدالت میں انصاف کے قلم سے مجرموں کے سر قلم کرنے کا حکم صادر کرتا ہے۔
ایک ہی وقت میں فاقہ کش بھی ہیں اور دریاے جود و سخا بھی مختصر یہ ہےکہ جس ذات میں متضاد صفات حمیدہ متحد ہو جائیں اسے غالب کل غالب مطلوب کل طالب علی ابن ابی طالب علیہ السلام کہتے ہیں۔
جس کا قلم انصاف لکھتا ہے جس کی ذوالفقار انصاف کرتی ہے خواہ دوست ہو یا دشمن آپ علیہ السلام کی عدالت میں فیصلہ سب کا برابر ہے مگر مجرم سزا کے بعد ہرزہ سرائی کے بجائے نغمہ سرائ کرے تو شکوہ شکر میں بدل جائے شکایت مدحت کا پیراہن زیب تن کرلے عدالت کے فیصلہ پر محبت کا غلبہ، عقیدت کا چھلکتا ہوا جام اہل خرد کو نظر آنے لگتا ہے کاٹی ہوئی انگلیاں جوڑ دی جاتی ہیں، مگر ذہن بشری میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ جب جوڑنی تھی تو کاٹی کیوں اور جب کاٹ ہی دی تھی تو جوڑی کیوں ؟؟؟
آئیے اس کا جواب تلاشنے سے پہلے اک نظر اس واقعہ پر خلاصتا ڈال لی جائے۔
اصبغ ابن نباتہ کہتے ہیں کی میں اک روز امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے پاس مسجد کوفہ میں گیا جہاں لوگوں کا ایک جمع غفیر تھا اور وہاں اک شخص اپنے جرم کا اعتراف کر رہا تھا کہ اس نے چوری کی ہے جبکہ امام علیہ السلام نے اس سے تین بار پوچھا کیا تونے چوری کی ہے اس نے ہر بار اقرار کیا۔
گویا اس مجرم نے عدالت کی دہلیز پر انصاف کی دستک دی دل اور دماغ کی کشمکش جسے نفس کی جنگ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اسکی کامیابی کا سر نہاں یہی ہےکہ وہ کشکول طلب پھیلائے انصاف کا متلاشی ہے اعتراف جرم میں نگاہیں جھکی ہیں وجود لرزہ براندام ہے آنکھوں میں اشک ندامت ہے، چہرے پر غم و الم کے آثار ہیں مگر دل مطمئن ہے نفس ارشادی ہے شعور کی آواز زندہ ہے ایمان و ایقان و عرفان کی چمک دمک ابھی باقی ہے شرمندگی کا پسینہ پیشانی سے چھلک رہا ہے پیش امام ع پشیمان کھڑا ہے مگر نگاہ انصاف سے دیکھ رہا ہے اس سرعت و عجلت میں ہے کہ مجھے پاک کردیں۔
یہ احساس بیدار ہے کہ جرم کی نجاست نے روح کے پیرہن کو نجس کردیا ہے جسے عصمت کا آب انصاف ہی پاک کر سکتا ہے۔
ادھر جیسے ہی اعتراف جرم کے الفاظ دہن مجرم سے نکلے مولا نے تین بار کے اقرار کے بعد ذوالفقار حیدری نفاذ شریعت فرمائی ایک ہاتھ کی انگلیاں کاٹی اور اپنے دست الہی سے انگلیاں اٹھا کر اس شخص کے دوسرے ہاتھ پر رکھ دیں مجرم چشم و ابرو کے اشارہ سے شکر کے پیمانہ جھلکا تا رہا سکون و اطمینان سے سزا پا کر خاموش نگاہی سے روانہ ہوا نہ چہرہ پر اضمحلال نہ لبوں پر شکوہ نہ پیشانی پر شکن نہ دل میں بغاوت نہ سزا کے بعد عدل سے نفرت بس زیر لب تبسم سجا کر دہلیز عدالت سے خارج ہو گیا ابن کوا جیسا منافق جب راہ میں ملا اس نے پوچھا یہ انگلیاں کس نے کاٹی شاید منافق کا شہر لب یہ اعتراض تھا کہ جسکی مودت کا دم بھر تے تھے اسی نے کاٹی ہیں تو بس یہ سنتے ہی حبشی غلام نے مدحت کے قصیدے شروع کردیے انصاف کا اعتراف، عدالت سے محبت، کٹی ہوئی چاروں انگلیاں ہاتھ پر ہیں اور اس ید اللہ کی تعریف کر رہا ہے جس نے دو انگلیوں سے باب خیبر اکھاڑا اک تفصیلی فضائلی مدحت نامہ ہے جسے ہم سیف انصاف اور زبان اعتراف میں ذکر کر چکے ہیں۔
گرچہ میرا ذہن اس سوال میں الجھا ہوا ہے کہ جب انگلیاں کٹ رہی تھیں تو درد کا احساس کیوں نہیں ہوا کونسی شئی ہے جو قوت درد پر قوت احساس کو غلبہ عطا کر گئی تو جوابا۔ عرض ہیکہ یہ بات امت مسلمہ بڑی آسانی سے سمجھ لے کی اگر اپ کی نظر میں قرآن کافی ہے کا بے تکا نعرہ لگ ہی گیا ہے تو ذرا ان ایات پر بھی غور کر لیں۔
سورہ یوسف آیت نمبر 30–31 ﴿وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾ ﴿فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا ۖ إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ﴾(آیت 30)اور شہر کی عورتوں نے کہا: عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے، اس کی محبت اس کے دل میں گھر کر گئی ہے، بے شک ہم اسے صریح گمراہی میں دیکھتی ہیں۔(آیت 31)
پس جب اس (زلیخا) نے ان کے مکر کی بات سنی تو اس نے انہیں بلا بھیجا، ان کے لیے تکیے دار مسندیں تیار کیں، اور ہر ایک کو ایک چھری دی، پھر کہا: (یوسف سے) ان کے سامنے آ جاؤ۔
جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو وہ اس پر مبہوت رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں، اور کہنے لگیں: اللہ پاک ہے! یہ انسان نہیں، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔
یہ واقعہ حسنِ یوسفؑ کی تاثیر اور زلیخا کے موقف کی نفسیاتی توجیہ کو نہایت مختصر مگر گہری قرآنی اسلوب میں واضح کرتا ہے—جہاں طنز، امتحان، اور اعتراف سب ایک ہی منظر میں سمٹ آتے ہیں۔) مگر ہمارا مقصود کچھ اور ہی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہیکہ جب مصر کی حسیناؤں نے زلیخا پر لبوں کی کمانوں سے لفظوں کے طنز آمیز تیر برسائے اور مجروح زلیخا نے یہ پیش نہاد رکھی کہ اس کے دیدار کی تاب لا سکو تو طنز کرو لہذا جب حضرت یوسف صدیق کے حسن کے جلوے بکھرے تو بگڑی ہوئی شہزادیاں ملک زادیاں اپنے ہاتھوں سے ہاتھوں پر چھریاں چلاتی رہیں مگر درد کے احساس پر حسن کے دیدار کی جلوہ نمائی کا غلبہ ایسا ہوا کہ چھری کی دھار سے لہو کی دھار تک کا لمحاتی سفر صدیوں تک عشق و شغف، حسن و جمال کا سبق پڑھا گیا۔
تو جب بے دین حسینائیں دیدار حسن کے انہماک میں درد کو فراموشی کے نہاں خانوں میں سجا سکتی ہیں تو جہاد بالنفس کا مجاہد جو جسم کے زخم سے روح کی طہارت کا متقاضی ہے جب اس کی انگلیوں کو حضرت علی علیہ السلام جیسا منصف و برحق امام کاٹ رہا تھا تو اسکی نگاہیں اس فخر یوسف کے حسن کے جلوہ مجازی کو دیکھ رہی تھی اور عشق و شغف کی نظر کا یہ نظارہ اسے وادی درد سے نکال کر وادی سکون و اطمینان میں لے گیا اور جب مولا نے ایک ہاتھ سے انگلیاں قلم کیں اور ابن کوا نے مدح سرائی کا واقعہ سنایا تو آپ نے قلم مودت و رحمت سے عدالت کی عبارت لکھی۔
انگلیاں کاٹی تاکہ جرم کی لذت کو سزا کی اذیت برداشت کرنا پڑے اور انگلیاں جوڑی اس لئے کی گناہ سرزد ہونے کے بعد مایوسی دامن گیر نہ ہو جائے اور بتایا کہ ہماری عدالت دنیا طہارت اور آخرت میں شفاعت کی ضمانت بن جائے۔
انگلیاں نہ کاٹتے تو ہر مجرم جری بن جاتا اور انگلیاں نہ جوڑتے تو دنیا ولایت کی حقیقت سے آشنا نہ ہوتی۔
انگلیاں نہ کاٹتے تو قرآن کی آیت السارق و السارقة فاقطعوا ایدیھما
چور اور چورنی کے ہاتھ (انگلیاں)قلم کر دو تشنہ تعبیر رہ جاتی اور انگلیاں نہ جوڑتے تو آیت مودت
قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودة فی القربیٰ کے معانی و مفاہیم واضح نہ ہوتے۔
اگر انگلیاں نہ کاٹتے تو علی کی عدالت کی توہین ہوتی اور انگلیاں۔ نہ جوڑتے تو ذکر مدحت کی اجرت کی توقیر نہ ہوتی۔
انگلیاں نہ کاٹتے تو قلم عدالت کی روشنائی خشک ہو جاتی۔
اور انگلیاں۔ نہ جوڑتے تو علی کے قلم قدرت کا اندازہ نہ ہوتا۔
اگر انگلیاں نہ کاٹتے تو سیف انصاف کی دھار ماند پڑ جاتی اور انگلیاں۔ نہ جوڑتے تو رمز عشق سے دنیا آشنا نہ ہوتی۔
انگلیاں نہ کاٹتے تو منافقین کو اعتراض کا موقع ملتا اور انگلیاں۔ نہ جوڑتے تو ابن کوا جیسے منافق کو منھ توڑ جواب نہ ملتا۔
انگلیاں کاٹنا علی کے عدل کا تقاضا تھا کہ آپ امام عادل ہیں حاکم ہیں امام المتقین ہیں اور حکم قرآنی ہے: اعدلوا ھو اقرب للتقوی انصاف کرو کہ عدالت تقوی سے سب سے زیادہ قریب ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ قول حضرت کے عدالت کی شہرت کا گواہ ہے مشہور: قتل علی بشدة عدله
علی علیہ السلام اپنی شدت عدالت کی وجہ سے قتل کئے گئے، لہٰذا عدل کا تقاضا تھا کہ انگلیاں قطع کی جائیں
اور انگلیاں جوڑنا علی ع کے فضل کا تقاضا تھا کہ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں: الہی عاملنا بفضلک و لا تعاملنا بعدلک پروردگار ہمارے ساتھ فضل سے کام لینا عدل سے نہیں اور مولا کائنات مظہر ایات کردگار ہیں اس لئے ان سے فضل کا مظاہرہ ضروری تھا تاکہ بندگان خدا عبد کے فضل سے معبود کے فضل کا اندازہ لگا لیں، لہٰذا عدل کہتا ہے انگلیاں قطع کی جائیں اور فضل کہتا ہے انگلیاں وصل کی جائیں اور آخر کلام اس واقعہ کا یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ جب منافق ابن کوا نے بتایا کہ وہ آپ کی مدح سرائی کر رہا ہے تو آپ ع نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو بھیجا کہ جاؤ اپنے چچا (بعض نسخ میں ہے )کو بلا کر لاؤ گویا امام علیہ السلام غلام کو بلانے کے لئے کسی غلام کو نہیں بھیجا اور نہ ہی صرف ایک بیٹے کو بھیجا عصمت کی حکمت تو معصوم ہی جانیں مگر بات اتنی تو سمجھ میں آتی ہیکہ جب کوئی شخص حضرت علی کے فضائل کا بیان کرنے والا ہو جائے مداح جناب امیر ع ہو جائے تو اسے امام وقت امام مستقبل کے ذریعہ سے بلا کر یہ پیغام ابدی دیتا ہے کہ ذاکر علی علیہ السلام کی عظمت کیا ہے اسے لفافہ کے ترازوں میں نہ تولنا بلکہ عصمت کے استقبال سے جوڑنا۔
ہاں مگر جب دنیا درد اٹھا کر شکایت کرے تو وہ مرحلہ اور ہے یہاں انگلیاں کٹی ہوئی ہیں مگر زبان پر مدحت کے نغمے ہیں جب عقیدہ اتنا محکم و متقن ہو تو در سخاوت سے فقط جھولیاں نہیں بھرتیں بلکہ باب خیبر اکھاڑنے والی انگلیوں سے انگلیوں کے جوڑنے کی خیرات بانٹی جاتی ہے۔
مدح حیدر کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی اور یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اس نے صرف مدح سرائی کی ہے تبلیغ دین نہیں کی ہے پیغام ہدایت نہیں دیا ہے بس ہادی کی تعریف کی ہے مگر پھر بھی عطا کی ادا قابل تامل ہے اہل خرد کے لئے جو صرف تبلیغ کا ڈھول صبح و مساء پیٹا کرتے ہیں اور عمل کے ترازو میں جنت بیچا کرتے ہیں ان کے لئے بھی اک لمحہ فکریہ ہے ہم عمل کی حیثیت و کیفیت اور عظمت و ثواب کے منکر نہیں مگر محبت و ولایت کے پیمانہ اور ہیں اور عمل و ثواب کی دنیا اور ہے۔
رب کریم ہمیں جب تک زندگی رکھنا محمد وآل محمد کی محبت پر قائم و دائم رکھنا۔
ہمیں سیرت مولائے کائنات پر چلنے کی توفیق عنایت فرمانا۔
ولادت با سعادت امیر مملکت مودت تمام موالیان مولائے متقیان کو مبارک ہو!









آپ کا تبصرہ