جمعرات 1 جنوری 2026 - 05:00
مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ حسین وحید خراسانی حفظہ اللہ

حوزہ/ شیعہ حوزات علمیہ کی تاریخ میں بعض نام ایسے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے بلکہ عہد، فکر اور روایت کی علامت بن جاتے ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ حسین وحید خراسانی دام ظلہ بھی انہی درخشاں ناموں میں سے ایک ہیں جن کی ذات علم و عمل، فقہ و معرفت اور عقل و عشقِ اہلِ بیتؑ کا حسین امتزاج ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | شیعہ حوزات علمیہ کی تاریخ میں بعض نام ایسے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے بلکہ عہد، فکر اور روایت کی علامت بن جاتے ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ حسین وحید خراسانی دام ظلہ بھی انہی درخشاں ناموں میں سے ایک ہیں جن کی ذات علم و عمل، فقہ و معرفت اور عقل و عشقِ اہلِ بیتؑ کا حسین امتزاج ہے۔

11 رجب سن 1339 ہجری کو نیشابور کی دینی اور علمی فضا میں آنکھ کھولنے والی یہ عظیم ہستی، آج قمِ مقدس میں تشیّع کی علمی میراث کی امین اور فقہ جعفری کا مضبوط ستون بن کر جلوہ گر ہے۔ آپ کا سفرِ علم نیشابور سے شروع ہو کر ری، مشہد، قم اور نجف اشرف جیسے عظیم علمی مراکز سے گزرتا ہوا اجتہاد کے بلند ترین مقام تک پہنچا—اور یہی سفر، درحقیقت اخلاص، ریاضت اور مسلسل جستجو کی داستان ہے۔

آیۃ اللہ وحید خراسانی دامت برکاتہ نے محض فقہی نصوص پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دین کے فکری و اعتقادی پہلوؤں کو بھی اسی گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ بیان فرمایا۔ تا کہ عقیدہ و عمل کے درمیان موجود مضبوط رشتہ کسی پر پوشیدہ نہ رہے۔

آپ کے اساتذہ میں استاد الفقہاء و المجتہدین آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئیؒ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن حکیمؒ اور دیگر جلیل القدر اکابر شامل ہیں، اور آپ کی شخصیت میں ان تمام علمی سلسلوں کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ نجف کی علمی فضا ہو یا قم کا حوزہ، آپ ہر جگہ تشنگانِ علم کے لئے چراغِ راہ بنے رہے۔

قم میں آپ کا درسِ خارجِ فقہ و اصول حوزوی دنیا کے پُررونق اور معتبر دروس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ درس محض علمی بحث نہیں بلکہ فکر، ادب، خشوع اور ذمہ داری کی ایسی درسگاہ ہے جہاں علم، تقویٰ کے سائے میں پروان چڑھتا ہے۔

مرجعیت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی آپ کی زندگی میں سادگی، زہد اور علمی انہماک نمایاں رہا۔ آپ کی تصانیف، خواہ فقہ و اصول میں ہوں یا اہلِ بیت علیہم السلام کی مظلومیت و عظمت کے بیان میں، سب اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ آپ کے قلم میں صرف علم نہیں بلکہ دردِ دل اور عشقِ ولایت بھی شامل ہے۔

آیۃ اللہ وحید خراسانی دامت برکاتہ کی شخصیت اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جب علم، اخلاص اور اہلِ بیتؑ سے سچی محبت یکجا ہو جائیں تو وہ انسان کو صرف عالم نہیں بلکہ عہد ساز بنا دیتے ہیں۔ آپ کا علمی و روحانی سرمایہ آج بھی تشیّع کی فکری سرحدوں کی حفاظت کر رہا ہے اور آنے والی نسلوں کو نورِ ہدایت عطا کر رہا ہے۔

الحمد للہ و لہ الشکر 11 رجب 1339 ہجری کو سینہ گیتی پر قدم رکھنے والی عظیم شخصیت آج 11 رجب 1447 ہجری کو 108 سال کی ہو گئی۔ کمال صرف یہ نہیں کہ آپ کی عمر مبارک طولانی ہے، بلکہ اس عمر میں بھی آپ اجتہاد و مرجعیت کی ذمہ داریوں کی بحسن و خوبی ادائیگی فرما رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارے دیگر مراجع کرام دام ظلہم بھی جو 100 سال کے قریب ہیں وہ اس اہم ذمہ داری کو کما حقہ ادا فرما رہے ہیں جب کہ عام انسان کے لئے 60 ، 70 سال میں کسی عام ذمہ داری کی بحسن و خوبی ادائیگی ممکن نہیں ہوتی، اسی لئے انہیں سبکدوش کر دیا جاتا ہے۔ لہذا مراجع کرام دامت برکاتہم سے کوئی عام انسان قابل مقائسہ نہیں ہے۔ جب ائمہ معصومین علیہم السلام کے عام نائبین سے مقائسہ ممکن نہیں تو خود معصوم سے مقائسہ کیسے ممکن ہوگا. جیسا کہ امیرالمومنین علیہ الاسلام کا فرمان ہے۔ "لا يقاس بآل محمد (صلى الله عليه وآله وسلم) من هذه الامة أحد"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha