تحریر: محمد شعیب سبحانی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جو صرف ایک فرد نہیں ہوتیں، بلکہ ایک مکمل مکتب ایک ملت ایک زندہ فکر اور ایک متحرک پیغام ہوتی ہیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیھا بھی ایسی ہی ہمہ جہت کی شخصیت ہیں، اگر ان کی ذات کو ایک جامع عنوان میں سمیٹا جائے تو بے اختیار یہ کہنا پڑے گا کہ زینب دختر علی ہونے کے ساتھ ساتھ صفات پنجتن کا عملی پیکر بھی ہیں، ایسا پیکر جو میدان عمل میں ڈھل کر تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔
پنجتن پاک یعنی رسول خدا حضرت فاطمہ سلام اللّٰہ علیھا امام علی علیہ السّلام امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام دین اسلام کی وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کی صفات دین اسلام کی روح اور انسانیت کا سرمایہ ہیں حضرت زینب سلام اللّٰہ علیھا ان صفات کی مجسم تعبیر ہیں ان کی زندگی اس حقیقت کا گواہ ہے کہ پنجتن علیھم السّلام کی تعلیمات کتابوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایک باکردار خاتون کی صورت میں زمانے کے سامنے زندہ ہو کر سامنے آ گئیں۔
(1)رسول اللّٰہ کی صفت تبلیغ
رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی صفت تبلیغ حق اور پیغام دین مبین اور اس کی حفاظت حضرت زینب میں پوری آب و تاب سے جلوہ گر نظر آتی ہے کربلا کے بعد اگر زینب سلام اللّٰہ علیھا نہ ہوتیں تو امام حسین علیہ السّلام کی قربانی تاریخ کے اوراق میں نقش بر آب ہو سکتی تھی مگر دختر علی نے شام و کوفہ کے بازاروں میں خطبوں کلمات اور جرات اظہار کے ذریعے رسالت کے پیغام کو زندہ رکھا یہ وہی فریضہ ہے جو رسول اللّٰہ نے حکم خداوندی سے مکہ و مدینہ میں انجام دیا تھا فرق بس اتنا تھا کہ رسول اللّٰہ کو پتھر مار کر لہو لہان کرتے تھے زخمی کرتے تھے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر کچرا پھینکتے تھے لیکن ثانی زہرا زینب سلام اللّٰہ علیھا آپ کی نواسی پر پتھر کے ساتھ ساتھ آگ اور گرم پانی بھی پھینکتے تھے اس کے علاؤہ زینب بے مقنع و چادر تھی بے کجاوہ اونٹوں پر سوار تھی زینب کے سامنے نیزوں پر اٹھارہ بنی ہاشم کے نوجوانوں کے سر مبارک بھی تھے زینب کی اس جرئت کو دیکھ کر پوری دنیا حیران تھی کہ آپ سلام اللّٰہ علیھا پھر بھی پیغام دین میں مصروف تھی۔
(2) عصمت و حیا اور صبر زہراء
حضرت زینب کی سیرت میں یہ تمام صفات فاطمی نمایاں ہیں اسیری مصائب بھوک پیاس اور آپ کی آنکھوں کے سامنے بھائیوں کی شہادت بیٹوں کی شہادت خصوصاََ جن سے دل و جان سے بھی زیادہ محبت کرتی تھی امام حسین علیہ السّلام کی شہادت جو کہ ستر قدموں سے آنکھوں کے سامنے نبی کریم کے بوسہ گاہ کو شمر لعین کاٹ رہا تھا اور شہداء کے لاشوں کے مناظر یہ سب زینب کے دامن صبر کو متزلزل نہ کر سکے وہاں سنہ 11 ہجری میں زہرا وقت کے امام اور امامت کی حفاظت کے لیے ظلم کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی اور یہاں سنہ 61 ہجری کربلا میں ثانی زہرا وقت کے امام سجاد اور امامت کی حفاظت کے لئے ظلم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی 11 ہجری میں دشمن نے زہرا کا گھر جلانے کے لیے مسلمان جمع ہو گئے تھے جس گھر میں حسن و حسین زینب و کلثوم حضرت امام علی اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا موجود تھی اور سنہ 61 ہجری میں عصر عاشور خیموں میں امام سجاد کے علاوہ کوئی مرد باقی نہیں بچا تھا آپ بھی بیماری کے بستر پر پڑے ہوئے تھے بے ہوشی کی حالت میں تھے ایک خیمے میں تقریبا 80 خواتین اور بچے موجود تھے جنہیں چاروں طرف سے یزیدی مسلمانوں کے ایک جم غفیر نے گھیر رکھا تھا ان میں کوئی بھوکا ہے کوئی پیاسا ہے سب خوفزدہ اور پریشان حال ہیں اس حالت میں ایک ہی شخصیت نے اگے بڑھ کر ان کو سنبھالا تھا اور وہ شخصیت حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی تھی یہ جو کہا جاتا ہے کہ عاشورہ وہ دن ہے جب خون نے تلوار پر فتح حاصل کی یہ ایک حقیقت ہے اور یہ فتح اور کامیابی حضرت زینب کی وجہ سے نصیب ہوئی تھی ورنہ خون کربلا میں ختم ہو چکا تھا یہ جنگ کربلا کے میدان میں بظاہر حق کی شکست کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی لیکن جو چیز اس ظاہری شکست کو ایک دائمی فتح اور کامرانی میں تبدیل کرنے کا سبب بنی وہ حضرت زینب کی ذات بابرکت تھی بلاشبہ یہ سب حضرت فاطمہ سلام اللّٰہ علیھا کی تربیت ہی تھی کہ جس نے زینب کو دکھوں میں مصیبت ومصائب میں بھی وقار اور حیا کا استعارہ بنائے رکھا۔
(3) فصاحت و شجاعت و حق گوئی علی
یہ تمام صفات زینب کے خطبات میں بولتی ہوئی نظر آتی ہیں کوفہ اور شام کے درباروں میں زینب کا لہجہ اسلوب اور جرئت یہ سب علی کی بیٹی ہونے کا عملی ثبوت ہیں جہاں تلوار اٹھانا ممکن نہ تھا وہاں زینب نے کلام کو تلوار بنا دیا ایک جگہ کوفہ کے بازار میں کافیوں سے یوں مخاطب ہوتی ہے۔
( اے کوفہ والوں اے بے وفا اور غدار لوگو کیا تمہارے اندر بے ہودہ گوئی خود پسندی جھوٹ کنیزوں کی سے چاپلوسی اور دشمنوں کی طرح کینہ و عداوت کے سوا بھی کچھ ہے تمہاری مثال اس نادان عورت کی سے ہے جس نے اپنے دھاگے کو مضبوط طریقے سے کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا) جب اس طرح لہجہ علی اور فصاحت علی میں خطبہ دے رہی تھی تو ایک نابینا شخص نے پوچھا علی تو شہید ہو چکے تھے مگر علی کے لہجے میں کون خطبہ دے رہا ہے تو کسی نے کہا یہ علی کی شیر دل بیٹی ثانی زہرا زینب سلام اللہ علیہا ہے حضرت زینب نے دشمن کے درمیان دشمن سے ڈرے بغیر ان کے اعمال کو شجاعت سے بیان کیا اس دور میں ہم دشمن کی غیر موجودگی میں بھی ان کے خلاف کچھ نہیں بول سکتے ہیں کیونکہ ہم ڈرتے ہیں یوں علی کی شجاعت ایک نئے انداز میں جلوہ گر ہوئی۔
(4) حکمت ، حلم اور بردباری حسن
یہ حسنی صفات بھی زینب کے کردار کا حصہ ہیں شدید اشتعال انگیز ماحول میں بھی زینب نے جذبات پر عقل کو غالب رکھا اور ایسی باتیں کہی کہ جو دلوں کو ہلا دیتی تھی اور ضمیروں کو جگا دیتی تھی یہ وہی حسن علیہ السّلام کی حکمت ہے جو صلح کے پردے میں بھی دین کی حفاظت کرتی ہےاور آپ کی بہن یزید اور ابن زیاد کے درباروں میں اور شام کوفہ کے بازاروں میں جس حکمت سے اور جس علم و حلم اور بردباری سے خطبات زینب بنت علی نے دیا آج بھی تاریخ کے سینوں میں محفوظ ہیں۔
(5) استقامت،قربانی،باطل سے عدم مصالحت حسین
یہ حسینی صفات زینب کی رگوں میں دوڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے حسین علیہ السّلام نے کربلا میں سر دے کر حق کو زندہ کیا زینب نے اسیری میں حق بول کر اس قربانی کو دوام بخشا کسی شاعر نے خوب کہا ہے۔
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یکی حسین رقم کرد و دیگری زینب
اسی لیے بجا کہا جاتا ہے کہ زینب لباس خاتون میں حسینیت کا تسلسل ہیں اسی وجہ سے آپ سلام اللّٰہ علیھا کو شریکة الحسین کا لقب ملا یہ معمولی نہیں ہے یہاں پر یہ جملہ کہنا ہے جا نہیں ہو گا کہ زینب لباس خاتون اور دختر علی کی صورت میں دوسرا حسین ہے۔
پس یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا صفات پنجتن کا عملی پیکر ہیں وہ ایک ایسی ہستی ہیں جن میں رسالت کی پاسبانی فاطمی صبر علوی شجاعت حسنی حکمت اور حسینی استقامت ایک ساتھ جمع ہو گئی زینب ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ حق کی نمائندگی کے لیے تلوار ہمیشہ ضروری نہیں ہوتی ہے کبھی کردار کبھی زبان اور کبھی صبر ہی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔
یہی زینب کی عظمت ہے یہی دختر علی کا مقام اور یہی پنجتن کی صفات کا زندہ و جاوید پیکر ہے۔
وفات ثانی زہراء
اس عظیم ہستی کی وفات کے حوالے سے تاریخ کی کتابوں میں مختلف روایات ملتی ہیں ان میں جو تین مشھور روایات ہیں وہ یہاں پہ بیان کیا ہے حضرت زینب کے شوہر اور ابن عم مصر میں قیام پذیر تھے۔
اس لئے حضرت زینب نے اپنے شوہر کے ہاں مصر جانے کا فیصلہ کیا۔
اس کے بعد حضرت زینب کے متعلق تین احتمال پائے جاتے ہیں:
(1) مصر جاتے ہوئے شام میں آپ کی وفات ہوئی
قران الشهادة
(2)آپ نے مصر میں وفات پائی
(3) آپ کی وفات مصر سے واپسی پر شام میں واقع ہوئی تھی، جبکہ شیعوں میں یہ بات مشہور ہے کہ آپ شام میں تدفین ہیں البتہ یہ معلوم نہیں ہے کہ جاتے ہوئے وفات پائی تھی یا مصر سے واپسی پر وفات ہوئی تھی.
بحوالہ: کتاب قربان الشياده صفحه 59,60 آیت الله سید محمد صادق روحانی
آخر میں ایک شعر سے اس تحریر کا اختتام کرنا چاہوں گا:
بیعت کا نام جس نے لیا تھا امام سے
زینب زبان کاٹ کے لائی ہوں شام سے









آپ کا تبصرہ