پیر 5 جنوری 2026 - 06:47
مجاہدِہ کربلا حضرت زینبِ کبریٰ سلامُ اللہِ علیہا

حوزہ/جنابِ زینبِ کبریٰ سلامُ اللہِ علیہا کی عظمت صرف ایک عظیم خاتون کی نہیں، بلکہ ایک مکمل مکتبِ فکر، صبر و جہاد، اور حفاظتِ دین کی عظمت ہے۔ آپؑ نے کربلا کے بعد وہ کردار ادا کیا جس کے بغیر انقلابِ حسینیؑ تاریخ میں محفوظ نہ رہتا۔

تحریر: مولانا سید عترت حسین رضوی

حوزہ نیوز ایجنسی| جنابِ زینبِ کبریٰ سلامُ اللہِ علیہا کی عظمت صرف ایک عظیم خاتون کی نہیں، بلکہ ایک مکمل مکتبِ فکر، صبر و جہاد، اور حفاظتِ دین کی عظمت ہے۔ آپؑ نے کربلا کے بعد وہ کردار ادا کیا جس کے بغیر انقلابِ حسینیؑ تاریخ میں محفوظ نہ رہتا۔

آپ کی کچھ فضیلتوں کی جانب مختصراً اشارہ کیا جا رہا ہے:

نسب و تربیت:

دخترِ علیؑ و فاطمہؑ

نواسیٔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

وحی کے گھر میں پرورش، علم و عصمت کا فیضان

یہی وجہ ہے کہ آپؑ کے الفاظ میں نبوی حکمت اور علوی جلال جھلکتا ہے۔

علم:

(عالِمۃ غیر معلَّمہ)

امام زین العابدینؑ نے فرمایا:«أنتِ بحمدِ اللهِ عالِمَةٌ غيرُ مُعلَّمَة» آپؑ وہ عالمہ تھیں جنہیں کسی نے سکھایا نہیں، بلکہ الٰہی علم عطا ہوا۔

صبر:

کربلا کے بعد:

بھائی، بیٹے، بھتیجے، عزیز—سب قربان

قید، دربار، طعن و تشنیع

پھر بھی فرمایا:«ما رأيتُ إلا جميلاً»

یہ صبر نہیں، رضا اور یقین کی انتہا ہے۔

شجاعت:

کوفہ اور شام کے دربار میں بے خوف خطبے

یزید جیسے جابر کے سامنے کلمۂ حق

باطل کی ہیبت کو توڑ دیا

یہ وہ شجاعت تھی جو تلوار کے بغیر میدان فتح کر گئی۔

قیادت:

اسیرانِ اہلِ بیتؑ کی قائد

بچوں اور امام سجادؑ کی محافظ

حالات کے ہنگامے میں حسینی مشن کی نگہبان

عبادت:

شدید مصائب کے باوجود نمازِ شب ترک نہ ہوئی

عبادت میں استقامت نے بتا دیا کہ جہاد کا سرچشمہ بندگی ہے

پیغام:

جنابِ زینبؑ نے ثابت کیا

حق وقتی طور پر دب سکتا ہے، مٹ نہیں سکتا

عورت کمزور نہیں، اگر وہ زینبی کردار اپنائے

ظلم کے خلاف خاموشی جرم ہے

امیرالمؤمنین علیؑ اور سیدہ فاطمہ زہراؑ کی دخترِ نیک اختر، تاریخِ اسلام میں صبر، شجاعت، بصیرت اور جہادِ کلام کی زندہ مثال ہیں۔ اگر کربلا میں امام حسینؑ نے تلوار سے دین بچایا تو کربلا کے بعد زینبؑ نے زبان، خطبے اور قیادت سے اس دین کو زندہ رکھا۔

کوفہ کا خطبہ: ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی للکار

دربارِ یزید (شام): باطل کی بنیادیں ہلا دینے والا تاریخی خطبہ جو آپ نے دیا ہے اس کا ایک جملہ زبان زد عام وخاص ہے۔ “فَكِدْ كَيْدَكَ، وَاسْعَ سَعْيَكَ… فَوَاللّٰهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا”(تو اپنی سازش کر لے… خدا کی قسم! ہمارا ذکر مٹا نہیں سکے گا)

سب کچھ لٹنے کے بعد بھی فرمایا:“ما رأيتُ إلا جميلاً” یعنی یہ صبر شکست نہیں، رضائے الٰہی پر کامل یقین تھا۔ دنیا کی ساری خواتین کو آپ کا پیغام یاد رکھنا چاہئے ظلم کے مقابل خاموشی نہیں، حکمت کے ساتھ آواز بلند کرنا چاہیے۔

مصیبت میں صبرِ فعال (Active Patience)

حق کے لیے قیادت، کردار اور کلام یہ ہمیشہ جاری وساری رہنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha