تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی | زندگی ہمیشہ ہموار، پرسکون اور یکساں راستے پر نہیں چلتی۔ ہر معاشرے، ہر خاندان اور ہر فرد کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب اچانک خوابوں کے محل چکناچور ہو جاتے ہیں سوچے گئے منصوبوں پر پانی پھر جاتا ہے آنے والے کل کے لئیے انسان نے جو پروگرامنگ کی ہے ہوا ہو جاتی ہے سب کچھ بکھر جاتا ہے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں اور انسان خود کو ایک ایسے موڑ پر کھڑا پاتا ہے جہاں آگے کا راستہ دھند میں گم ہو جاتا ہے۔ کبھی یہ لمحہ ایک لاعلاج بیماری کی خبر بن کر آتا ہے، کبھی برسوں کی محنت سے کھڑی کی گئی معاشی بنیاد ایک جھٹکے میں ڈھے جاتی ہے، اور کبھی گھر کی وہ ہستی دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے جو پورے خاندان کا ستون ہوتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات اس کیفیت کو “نقطۂ صفر” (Zero Point) کہتے ہیں؛ یعنی وہ مقام جہاں انسان محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ تھا، مادی ہو یا جذباتی، سب جل کر راکھ ہو گیا ہے، اور اب اسے اسی راکھ پر بیٹھ کر نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے۔
ایسے ہی حالات میں، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے چھوڑے ہوئے نقوش ہمیں ایک غیر معمولی اور ہمہ گیر اسوہ فراہم کرتے ہیں۔ حضرت زینبؑ وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے تاریخ کے سب سے بڑے انسانی، اخلاقی اور روحانی اور انسانی اقدار و ویلوو کے امتحان کو کربلا میں نقطۂ صفر پر کھڑے ہو کر نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے حق کی ابدی فتح میں بدل دیا۔ البتہ یہ نقطہ صرف ہم اور آپکے سمجھنے کے لئیے ہے ورنہ جناب زینب ع کی زندگی میں خدا کے ہوتے ہوئے کسی نقطہ صفر کا وجود نہیں
ہم نے کوشش کی ہے پیش نظر تحریر میں اسی سوال کا جواب تلاش کیا جائے جو آج کے ہزاروں شیعہ خاندانوں، بالخصوص بر بر صغیر کی خواتین کے دلوں میں موجود ہے:
“ٹوٹنے کے بعد دوبارہ کیسے اٹھا جائے؟”
جناب زینبؑ: صرف غم کی علامت نہیں، بلکہ استقامت کی معلمہ ہیں اسی رخ سے ہمیں اس عظیم ذات کو دیکھنے کی ضرورت ہے
بدقسمتی سے ہماری مذہبی مجالس میں حضرت زینبؑ کو اکثر صرف گریہ، مصیبت اور مظلومیت کے زاویے سے پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کی شخصیت اس سے کہیں زیادہ جامع، متحرک اور انقلابی ہے۔ حضرت زینبؑ درحقیقت تاب آوری (Resilience)، بحران میں خودکو سنبھالے رکھنے اور زندگی کی ازسرنو تعمیر کی سب سے کامل مثال ہیں۔
ہمارے شیعہ معاشرے میں، جہاں خواتین ایک طرف مذہبی شعور، مجالس و محافل دینی پروگرامز، تربیتِ اولاد اور گھریلو نظام کی محافظ ہیں اور دوسری طرف سماجی، معاشی اور تعلیمی دباؤ کا سامنا بھی کرتی ہیں، سیرتِ زینبؑ ایک زندہ اور عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے آپکے نقوش حیات کے کچھ اہم نقوش حسب ذیل ہیں
1-: شعوری قبولیت
انسانی نفسیات کے مطابق کسی بڑے صدمے کا پہلا ردِعمل انکار (Denial) ہوتا ہے۔ ہم ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ عزیز دنیا سے چلا گیا، شادی ٹوٹ گئی یا مالی سہارے ختم ہو گئے۔ لیکن حضرت زینبؑ کے کردار کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ہجوم مصائب کے باوجود خود کو انکار یا مفلوجی کے حوالے نہیں کیا کہ وہ کہیں میرے پاس کچھ نہیں رہا کچھ نہیں بچا اب کچھ نہیں ہو سکتا بلکہ عصرِ عاشور، جب بھائی، بیٹے، بھتیجے اور عزیز ایک ایک کر کے شہید ہو چکے تھے، جب خیمے جل رہے تھے اور اسیری مقدر بن چکی تھی—حضرت زینبؑ نے حقیقت کو تسلیم کیا، مگر شکست کو قبول نہیں کیا۔
یہی قبولیتِ فعال (Active Acceptance) ہے:
*“میں جانتی ہوں کہ حالات نہایت دردناک ہیں، مگر میں زندہ ہوں، اور میری ذمہ داریاں باقی ہیں۔”*
ہمارے معاشرے میں جب کسی خاندان کا کفیل دنیا سے چلا جاتا ہے تو اکثر مائیں اندر ہی اندر ٹوٹ جاتی ہیں۔ سیرتِ زینبؑ ہمیں سکھاتی ہے کہ غم مناؤ، آنسو بہاؤ، مگر زندگی کو روک مت دو۔
2-: بحران میں ترجیحات کا تعین
بحران انسان کو منتشر کر دیتا ہے۔ مگر حضرت زینبؑ نے ہمیں سکھایا کہ شدید ترین حالات میں بھی ترجیحات کا شعور ضروری ہے۔
عاشور کے بعد آپکا
پہلا فرض: امامِ وقت (امام سجادؑ) کی جان کی حفاظت تھا
دوسرا فرض: بچوں اور خواتین کو ایک جگہ اکھٹا کرنا تھا اور آپنے اسے بخوبی نبھایا ۔
شوہر کی وفات کے بعد ماں کا فرض بچوں کا نفسیاتی تحفظ ہے لیکر اکثر مائیں بحران کا شکار ہو جاتی ہیں معیشت کے مسائل اتنے سنگین ہو جاتے ہیں کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے
جبکہ معاشی بحران میں پہلا کام بچوں کو عدمِ تحفظ کے احساس سے بچانا ہے جب ایک خاتون کسی ایسے ہی حالات میں ٹوٹ جائے بکھرنے لگے تو عزم زینبی سہارا بن جات ہے
زینبی طرزِ فکر کہتا ہے:
“ابھی رونا نہیں، ابھی خود کو سنبھالنا ہے۔”
3-: مصیبت کو معنی دینا (Meaning Therapy)
حضرت زینبؑ کا تاریخی جملہ:
“ما رأیتُ إلّا جمیلاً”
محض ایک نعرہ نہیں بلکہ فکر و شعور کی معراج ہے۔
ماہرین نفسیات کہتے ہیں:
انسان ہر دکھ سہہ سکتا ہے، بشرطیکہ اسے معنی دے سکے۔
حضرت زینبؑ نے کربلا کو شکست نہیں بلکہ رضائے الٰہی اور بقائے دین کا راستہ قرار دیا۔
سو ہماری خواتین کے لیے یہ درس نہایت اہم ہے:
غربت کو ذلت نہیں، آزمائش سمجھو
طلاق کو زندگی کاخاتمہ نہیں، نیا مرحلہ جانو
بیماری کو سزا نہیں، تطہیر سمجھو
یہی زاویۂ نظر انسان کو دوبارہ کھڑا کرتا ہے۔
4-: مظلومیت نہیں، وقا
اکثر بحران زدہ خواتین خود کو قربانی (Victim) سمجھنے لگتی ہیں۔ مگر حضرت زینبؑ نے اسیری میں بھی وقار، نہیں چھوڑا خود کو شہنشاہی چمک دمک میں نہیں کھویا بلکہ توحیدی آن بان کو باقی رکھا ۔ دربارِ یزید میں آپ کا خطاب ایسا تھا جیسے قیدی نہیں، حاکم بول رہا ہو۔
یہ تمام ہی شیعہ خواتین خاص کر ہمارے معاشرے کے لیے ایک انقلابی پیغام ہے:
اسیر ہو جانا بے بسی نہیں
قیدی بن جانا غلامی نہیں
بیوہ ہونا جانا کمزوری نہیں
تنہا ماں ہونا شرمندگی نہیں
حالات کا شکار ہو جانا شناخت کے چھننے کا سبب نہیں
زینبی خاتون وہ ہے جو مصائب و آلام میں گھرنے کے باوجود آنکھوں میں آنسو اور قدموں میں استقامت رکھتی ہے۔
5-: دوسروں کے لیے سہارا بننا
حضرت زینبؑ خود سب سے زیادہ داغدار تھیں، مگر:
بچوں کو سنبھالا
خواتین کو تسلی دی امام سجاد ع کی تیمارداری کی اہل حرم کا سہارا بنیں
تحقیقات بتاتی ہیں کہ دوسروں کی مدد غم کو کم کرتی ہے۔ ایسے گھرانے اور خاندان جو مصیبت کے بعد ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں، وہ بکھر جاتے ہیں؛ اور جو ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں، وہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔
زینب سلام اللہ علیہا اور شیعہ تہذیب
مجالس و محافل کا نظام ہو
خواتین کی دینی سرگرمیوں سے متعلق امور ہوں یاگھر میں مذہبی تربیت یہ سب دراصل زینبی وراثت ہے۔ بر صغیر خاص کر ہندوستان کی خواتین نے محدود وسائل میں بھی دین، وقار اور شعور کو زندہ رکھا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے وسائل سے زیادہ خصائل پر توجہ ہو تو نیک خصلتوں کی بنیاد پر انسان وسائل کی محرومی کا رونا نہیں روتا بلکہ حق کی راہ میں قدم بڑھاتے ہوئے وسائل بھی فراہم کرتا ہوا چلتا ہے
نقطۂ صفر، ہرگز زندگی کا اختتام نہیں:
حضرت زینب سلام اللہ علیا کی وفات یا بعض علماء کے بقول شہادت ایک شکست خوردہ خاتون کے سلسلہ حیات کا منقطع ہونا نہیں بلکہ ایک کامیاب انتظامی امور کی سربراہی کرنے والی خاتون کا بحرانوں کے سمندر سے گزر کر سر افرازیوں کے ساحل پر پہنچ جانے کا معجزاتی انجام ہے جس کا پیغام واضح ہے:
نقطۂ صفر، آخری لکیر نہیں بلکہ ایک نئی ابتدا ہے
اگر زینبؑ جلے ہوئے خیموں سے ابدی فتح کا پرچم بلند کر سکتی ہیں،
تو ہم بھی اپنے ٹوٹے ہوئے حالات سے نئی زندگی تعمیر کر سکتے ہیں
بشرطیکہ ہم صبر، توکل اور تدبیرِ زینبی کو اپنا شعار بنائیں۔









آپ کا تبصرہ