بدھ 7 جنوری 2026 - 22:00
مقالہ نگاری سے تجزیاتی اور تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہے، ڈاکٹر شیخ شاہد علی

حوزہ/مکتبِ زینبیہ اورنگ آباد مہاراشٹر ہندوستان میں علمی و فکری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مقالہ نگاری کا ایک عظیم مقابلہ منعقد ہوا؛ جس میں 50 مقالات موصول ہوئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اورنگ آباد مہاراشٹر میں علمی و فکری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مقالہ نگاری مقابلے کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا؛ جس میں 50 مقالات موصول ہوئے۔

قرآنی آیت “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا…”(سورۃ آلِ عمران: 103) کے پیغامِ اتحاد و اخوت کو عملی جامہ پہنانے کی غرض اور مسلسل علمی و تعلیمی جدوجہد کے لیے شہرِ اورنگ آباد مہاراشٹر میں متعدد اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں مکتبِ زینبیہ کا قیام، بابُ العلم لائبریری کی بنیاد اور تعلیمی ایکسپو میں مکتبِ اہلِ بیتؑ کی کتب کا اسٹال قابلِ ذکر ہیں۔

مقالہ نگاری سے تجزیاتی اور تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہے، ڈاکٹر شیخ شاہد علی

اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 15 دسمبر 2025، بروز پیر علمی، تحقیقی اور فکری صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کے لیے مقالہ نگاری کا ایک اہم مقابلہ منعقد ہوا۔

اس مقابلے میں 50 مقالات موصول ہوئے، جن کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ ٹیم مقرر کی گئی اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انعامات و اسناد سے نوازا گیا۔

اس موقع پر الکساء ایجوکیشنل فاؤنڈیشن، پونے کے سربراہ ڈاکٹر شیخ شاہد علی پردھان نے نہ صرف رہنمائی کی، بلکہ طلبہ میں انعامات تقسیم کر کے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ بابُ العلم حیدرآباد کی جانب سے محمد صادق حسین نے انعامات اور قیمتی کتب کا تحفہ پیش کیا۔

مکتبِ زینبیہ کی پرنسپل محترمہ یاسمین علوی صاحبہ نے دوسرے انعام کی اسپانسرشپ کی، جبکہ مکتبِ زینبیہ کے طلبہ نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس موقع پر مقالہ نگاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر شیخ شاہد علی صاحب نے کہا کہ تقریر کے مقابلے میں تحریر زیادہ دیرپا اور مؤثر ہوتی ہے، مطالعہ انسانی فکری صلاحیتوں کو وسعت دیتا ہے، جبکہ مقالہ نگاری سے تجزیاتی اور تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہے۔

مقالہ نگاری سے تجزیاتی اور تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہے، ڈاکٹر شیخ شاہد علی

اس پروگرام میں دہلی سے تشریف لانے والے ایران قونصلیٹ کے رکن اور المصطفیٰ یونیورسٹی کے پروفیسر آغا محمد حسین صورت والا صاحب نے بھی خصوصی شرکت کی۔

آغا محمد حسین نے سورۃ آلِ عمران کی آیات کی روشنی میں موجودہ دور کی اہم ضرورتوں پر گفتگو کرتے ہوئے انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات کو یاد کرنے کی تلقین کی اور نہایت گہرے اور فکرانگیز نکات کی طرف حاضرین کی توجہ مبذول کروائی۔

پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری سیدہ زارہ نے نہایت حسن و خوبی سے نبھائی۔ بابُ العلم لائبریری اورنگ آباد کی انچارج محترمہ شفقت جہاں نے تمام شرکاء اور بالخصوص ایگزیبیشن آرگنائزر جناب باسط صدیقی صاحب کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے تمام نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر مکتبِ اہلِ بیتؑ کی ترویج کے لیے یہ موقع فراہم کیا۔ پروگرام بچوں کی دعائے امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف سے اختتام پذیر ہوا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha