حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وٹوا-احمد آباد/ اگر کوئی شخص صرف صاحب علم ہو اور فضل خدا کا حامل نہ ہو تو ایسا شخص صحیح معنی میں عالم کہے جانے کا حقدار نہیں ہے، علم یعنی جاننا اور فضل یعنی جو خدا شناسی اور معرفت الہی کی طرف لے جاے۔ اس لحاظ سے کوئی کتنا ہی بڑا پڑھا لکھا مشہور کیوں نہ ہو اگر وہ وجود خدا کا معتقد نہ ہو تو ایسا شخص ملحد کہا جاتا ہے جو خود اپنی غرض خلقت سے بغاوت کرتا ہے، غرض کہ طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب فضل ہونا بھی لازمی ہے۔

ان خیالات کا اظہار محقق و مورخ اور معروف مصنف و مولف مولانا ابن حسن املوی (صدرالافاضل،واعظ) بانی و سرپرست حسن اسلامک ریسرچ سینٹر املوی مبارکپور ضلع اعظم گڑھ نے بتاریخ ۴جنوری ۲۰۲۶ء بروز اتوار بوقت ۸بجے شب جامعة الفضہ وٹوا احمدآباد گجرات ہندوستان کی طالبات و اساتید کی جانب سے منعقد اعزازی جلسہ کو خطاب کے دوران کیا۔
مولانا نے مزید کہا کہ دینی مدارس اور حوزات علمیہ کے طلباء و طالبات کے لیے ضروری ہے کہ مدرسہ میں داخلہ کے وقت اپنے ذوق طبع و علمی استعداد و صلاحیت کے مطابق علمی مضامین و موضوعات کا انتخاب اور تعین کریں اور پھر اس میں تخصص و مہارت حاصل کریں جیسے ڈاکٹر کا کسی خاص بیماری کا ماہر معالج ہونا یا عالم دین کا کسی خاص علم و فن میں جیسے علم حدیث،علم تفسیر،علم تاریخ،علم کلام،علم اخلاق وغیرہ میں مہارت حاصل کرنا۔
مولانا نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرہ میں صاحبان علم کی کمی نہیں ہے مگر صاحبان قلم کا ذبردست فقدان ہے۔ ماشاءاللہ سے خواتین میں بھی عالمہ و فاضلہ و ذاکرہ کی اچھی خاصی تعداد ہے مگر مصنفہ و ادیبہ اور اہل قلم خواہران کی کافی قلت ہے گویا ناپید ہیں، جب کہ قلم کی ضرورت و اہمیت پر قرآن کی تاکید موجودہے."علم با لقلم

مولانا ابن حسن املوی واعظ نے طلباء و طالبات کے لیے چند ضروری رہنما اصولوں کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ میں عالمی تحقیقی ادارہ انٹرنیشنل نور مایکرو فلم سینٹر ایران کلچر ہاوس دہلی سے وابستہ رہ کر تاریخ کے موضوع پر قدیم شیعہ مدارس کی تاریخ کی تالیف و تدوین کا کام کرتا ہوں اور شبلی نیشنل اسکول املو مبارکپور جیسے سنی مسلم اسکولوں و کالجوں میں لکچر دینے کے لیے تقسیم انعامات وغیرہ کے جلسوں میں مدعو کیا جاتا ہوں تو وہاں بھی جاتا ہوں اور فخریہ انداز میں مولا علی علیہ السلام کے قول کا حوالہ دیتا ہوں کہ"رسول خدا ایک باب علم کا مجھے تعلیم فرماتے تھے تو ایک ہزار باب میں خود سے پیدا کر لیتا تھا"، مدرسوں اور اسکولوں کے طلباء و طالبات کے لیے اس سے اعلی و بہتر رہنما اصول کہاں مل سکتا ہے جو علم و فضل کی جانب ہدایت آمیز اور فکر انگیز ہو۔
اس موقع پر جامعة الفضہ کے موسس و مدیر محترم حجت الاسلام و المسلمین سید حیدر مہدی نے کہا کہ ہم نے سنہ ۲۰۱۲ء میں یہاں پر جامعة الفضہ کی بنیاد رکھی تب سے الحمد للہ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اس وقت یہاں ۳۰خواب گاہی اور ستر ۷۰ غیر خواب گاہی طالبات تحصیل علم میں مصروف ہیں جو ہندوستان کے مختلف صوبہ جات سے تعلق رکھتی ہیں، یہاں کمپیوٹر کلاس،سلائی مشین کلاس،خطاطی اور عصری تعلیم کا معقول انتظام ہے.یہاں جامعة المصطفی العالمیہ ایران (شاخ ہندوستان) کے نصاب تعلیم کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔

جامعة الفضہ کی پرنسپل محترمہ خانم خیزران خاتون بنت علامہ عابد حسین کراروی طاب ثراہ اہلیہ مولانا سید حیدر مہدی نے بتایاکہ یہاں ۱۶رجب لغایت ۲۵ شعبان تعطیل کلاں ہوتی ہے اس کے بعد جدید تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے اور جدید داخلے ہوتے ہیں جس کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، یہاں تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ طالبات کے قیام و طعام رہن سہن اور تہذیب و ثقافت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔









آپ کا تبصرہ