حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی/ اہلِ بیتؑ فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب سربراہ حجت الاسلام تقی عباس رضوی نے میڈیا پر بددیانتی اور افواہ سازی کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں میڈیا جذبات کو کیسے بھڑکاتا ہے، رائی کو پہاڑ کیسے بناتا ہے اور روزمرہ کے مسائل سے عوام کو دھرم یا نظریاتی تصورات کے نام پر کیسے گمراہ کرتا ہے، یہ سب گھر بیٹھے سیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس بے لگام میڈیا پر قابو پانا ضروری ہو گیا ہے۔
حجت الاسلام تقی عباس رضوی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران کے حوالے سے افواہوں اور منفی پروپیگنڈا کی بھرمار کی جا رہی ہے، جیسے کہ ایران میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور آیت اللہ خامنہ ای فرار ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی غلط خبریں عوام کے ذہن و دل پر منفی اثر ڈال رہی ہیں اور انہیں روکنے کے لیے قوانین کا مسودہ جاری ہونا چاہیے۔
انہوں نے صحافت کے اصل اصولوں کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ پہلے صحافت دیانت، سچائی اور عوام کی رہنمائی کا ذریعہ تھی، لیکن آج سیاست اور مالی مفادات کی وجہ سے اس کی شفافیت متاثر ہو گئی ہے۔ بدقسمتی سے بیشتر میڈیا گھرانے صرف پیسہ کمانے کے لیے سرگرم ہیں اور فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور سیاسی وابستگی کے فروغ میں مصروف ہیں۔
حجت الاسلام تقی عباس رضوی نے ایران کی موجودہ صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ مہنگائی اور اقتصادی مشکلات کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن آیت اللہ خامنہ ای کے لیے بھونڈے الفاظ کا استعمال نہ صرف غلط بلکہ سنگین جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ترقی، استحکام اور قومی اتحاد آیت اللہ خامنہ ای کی حکمت عملی اور تدبیر کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ میڈیا کو مسخ شدہ حقائق اور جھوٹ پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنے پیشے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر صحافت حق، عدل اور فلاح کے لیے کام کرے تو یہ انسانیت کے لیے سب سے مفید طاقت ہے، لیکن اگر کذب اور فساد کے فروغ میں سرگرم ہو جائے تو یہ نوع انسانی کے لیے مہلک قوت بن جاتی ہے۔









آپ کا تبصرہ