منگل 6 جنوری 2026 - 22:21
دورِ حاضر میں معاشرے کو کردارِ زینبؑ کی اشد ضرورت

حوزہ/ معاشرے کی اصلاح محض نعروں، تقاریر اور وقتی جذبات سے نہیں ہوتی، بلکہ مضبوط کردار، پختہ فکر اور صالح عمل سے ہوتی ہے۔ حضرت زینبؑ نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ اگر کردار مضبوط ہو، علم گہرا ہو اور مقصد پاکیزہ ہو تو قید خانے بھی منبر بن جاتے ہیں، اور مظلوم کی آواز تاریخ کی سب سے توانا صدا بن جاتی ہے۔

تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی، سربراہ مدرسہ بنتُ الہُدیٰ (رجسٹرڈ) ہریانہ

حوزہ نیوز ایجنسی | اگر موجودہ دور کے حالات کا عمیق مطالعہ اور سنجیدہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ہم ایک ایسے عہد سے گزر رہے ہیں جہاں فکری انتشار، اخلاقی بے سمتی اور تہذیبی بحران نے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ قدروں کے چہروں سے نقاب ہٹائے جا رہے ہیں، حیا کو پسماندگی اور بے راہ روی کو ترقی کا خوش نما نام دیا جا رہا ہے، اور حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل دن بہ دن مٹتی جا رہی ہے۔ اس ماحول میں انسان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ وہ اپنی شناخت، مقصد اور سمت کھوتا جا رہا ہے۔

خصوصاً تعلیمی اداروں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہماری بیٹیاں جس فکری اور اخلاقی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، وہ نہایت تشویشناک ہے۔ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص ذہنیت اور طرزِ زندگی مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو رفتہ رفتہ ایمان، حیا اور دینی شعور کو کمزور کر دیتی ہے۔ ظاہری ترقی کے پردے میں باطنی کھوکھلا پن پروان چڑھ رہا ہے، اور عورت کو کبھی آزادی کے نام پر استحصال کا شکار بنایا جاتا ہے تو کبھی روایت کے نام پر اس کی صلاحیتوں کو محدود کر دیا جاتا ہے۔

ایسے نازک اور فیصلہ کن حالات میں اگر کوئی کردار ہماری حقیقی رہنمائی کر سکتا ہے تو وہ حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کا کردار ہے۔ حضرت زینبؑ محض کربلا کے ایک واقعے کی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور ہمہ جہت مکتبِ فکر ہیں۔ آپؑ نے ظلم، جبر، اسیری اور تنہائی کے عالم میں بھی جس بصیرت، تدبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ آج کی عورت کے لیے ایک کامل اور عملی نمونہ ہے۔ کربلا کے بعد اسیرانِ اہلِ بیتؑ کی قیادت کرتے ہوئے آپؑ نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر عورت صاحبِ ایمان اور صاحبِ شعور ہو تو وہ تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔

یزیدی دربار میں حضرت زینبؑ کا خطبہ محض احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک فکری اور اخلاقی انقلاب تھا۔ وہ الفاظ جو زنجیروں میں جکڑے جسم سے ادا ہوئے، تخت و تاج والوں کے لیے زلزلہ بن گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کردارِ زینبؑ خوف کے اندھیروں میں بھی حق کی شمع روشن رکھتا ہے، اور ظاہری کمزوری کے عالم میں بھی طاقتِ حق کا بے مثال اظہار کرتا ہے۔

کردارِ زینبؑ ہمیں یہ شعور عطا کرتا ہے کہ خاموشی ہر حال میں صبر نہیں اور بولنا ہر حال میں بغاوت نہیں۔ جہاں حق پامال ہو رہا ہو، جہاں اقدار کو روند دیا جا رہا ہو، وہاں حکمت، وقار اور اخلاق کے ساتھ کلمۂ حق بلند کرنا عین دینداری اور عین ذمہ داری ہے۔ آج جب میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور طاقتور بیانیے سچ کو مسخ کرنے میں مصروف ہیں، ہمیں زینبی بصیرت کی اشد ضرورت ہے—ایسی بصیرت جو فریب اور حقیقت میں فرق کر سکے، اور دباؤ کے باوجود حق کا ساتھ دینے کا حوصلہ عطا کرے۔

آج کی عورت، بالخصوص طالبات، کو اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ وہ خود کو فکری طور پر مضبوط بنائیں۔ حضرت زینبؑ کا کردار انہیں یہ سکھاتا ہے کہ وہ حالات سے مرعوب ہونے کے بجائے حالات کا سامنا کریں، اور اپنی عزت، شناخت اور مقصد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کریں۔ زینبی کردار عورت کو یہ اعتماد دیتا ہے کہ وہ علم، حیا، شعور اور عمل کے امتزاج سے نہ صرف اپنی ذات کی حفاظت کر سکتی ہے بلکہ ایک صالح اور باوقار معاشرے کی تشکیل میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

معاشرے کی اصلاح محض نعروں، تقاریر اور وقتی جذبات سے نہیں ہوتی، بلکہ مضبوط کردار، پختہ فکر اور صالح عمل سے ہوتی ہے۔ حضرت زینبؑ نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ اگر کردار مضبوط ہو، علم گہرا ہو اور مقصد پاکیزہ ہو تو قید خانے بھی منبر بن جاتے ہیں، اور مظلوم کی آواز تاریخ کی سب سے توانا صدا بن جاتی ہے۔ آج کے اساتذہ، والدین، مبلّغین اور بالخصوص مدارسِ نسواں پر یہ عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طالبات میں زینبی شعور، اخلاقی جرأت اور فکری اعتماد پیدا کریں۔

آخر میں یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہوگا کہ کردارِ زینبؑ محض ماضی کی ایک داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کا مکمل منشور ہے۔ اگر ہمارا معاشرہ انصاف، حیا، حق گوئی اور استقامت کی راہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے تو اسے زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کے مکتبِ فکر سے وابستہ ہونا ہوگا۔ یہی وابستگی ہماری بیٹیوں کو باوقار، ہمارے گھروں کو پُرامن، ہمارے اداروں کو بااعتماد اور ہمارے معاشرے کو انسانیت کا حقیقی گہوارہ بنا سکتی ہے۔

سلام ہو اس عظیم بی بی پر

جس نے اسیری کو عزت،

خاموشی کو پیغام،

صبر کو شعور

اور شعور کو انقلاب بنا دیا۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha