حوزہ نیوز ایجنسی I بی بی زینب بنتِ علی علیہما السلام اسلامی تاریخ کی اُن عظیم المرتبت خواتین میں سے ہیں جن کی شخصیت علم، تقویٰ، شجاعت، صبر، فصاحت اور حق گوئی کا جامع نمونہ ہے۔ آپ نہ صرف خانوادۂ نبوت کی فرد تھیں بلکہ کربلا کے بعد اسلام کی بقا اور پیغامِ حسینی کی حفاظت میں مرکزی کردار ادا کرنے والی وہ عظیم خاتون ہیں جنہیں تاریخ نے “شریکۃ الحسین” کے لقب سے یاد کیا۔ آپ کی سیرت ایک ایسی فکری و عملی دستاویز ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔علمی مقام و فکری بصیرت
بی بی زینب علیہا السلام کا شمار اہلِ بیتؑ کی اُن خواتین میں ہوتا ہے جو علمی اعتبار سے بلند مقام رکھتی تھیں۔ تاریخ میں آپ کو “عالِمۃ غیر معلَّمۃ” کہا گیا، یعنی ایسی عالمہ جنہوں نے کسی سے باضابطہ تعلیم حاصل کیے بغیر علم حاصل کیا۔ مدینہ میں خواتین کے لیے آپ کے دروس معروف تھے، جن میں تفسیرِ قرآن اور دینی معارف بیان کیے جاتے تھے۔آپ کا علم محض الفاظ تک محدود نہ تھا بلکہ ایک زندہ شعور تھا جو حالات کے ادراک، حق و باطل کی تمیز اور باطل کے مقابلے میں حکمتِ عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہی علمی بصیرت کربلا کے بعد کے مراحل میں پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوئی۔واقعۂ کربلا بی بی زینب علیہا السلام کی زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے۔ اگرچہ میدانِ جنگ میں تلوار امام حسین علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی، مگر اس تلوار کے پیغام کی حفاظت اور اس کے خون کی ترجمانی بی بی زینبؑ نے کی۔ عاشورا کے دن آپ نے اپنے بھائیوں، بیٹوں اور عزیزوں کو قربان ہوتے دیکھا، مگر صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔جب امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے تو بظاہر یزید کی فتح نظر آتی تھی، مگر حقیقت میں یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے بی بی زینبؑ کی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ آپ نے امام سجاد علیہ السلام کی امامت کی حفاظت کی اور قافلۂ اسیران کی قیادت سنبھالی۔صبر و استقامت کی معراج بی بی زینب علیہا السلام کا صبر کوئی عام انسانی صبر نہ تھا بلکہ وہ صبر تھا جو معرفتِ الٰہی سے جنم لیتا ہے۔ آپ کا وہ تاریخی جملہ:ما رأیتُ إلا جمیلاً”(میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا)اسلامی فکر میں صبر کی اعلیٰ ترین تعبیر بن چکا ہے۔ یہ جملہ اس بات کا اعلان تھا کہ قربانی اگر خدا کی راہ میں ہو تو وہ حسن بن جاتی ہے، چاہے ظاہراً کتنی ہی دردناک کیوں نہ ہو۔دربارِ کوفہ اور دربارِ یزید میں خطبات بلکل امام علی کے لب لہجہ میں بی بی زینب علیہا السلام کی فصاحت و بلاغت کا نقطۂ عروج آپ کے وہ خطبات ہیں جو آپ نے دربارِ کوفہ اور دربارِ یزید میں دیے۔ کوفہ میں آپ کا خطاب ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا تھا، جس میں آپ نے اہلِ کوفہ کی بے وفائی کو بے نقاب کیا۔ صرف یہ نہیں بلکہ دربارِ یزید میں دیا گیا خطبہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم انقلابی اعلان ہے۔ قیدی ہونے کے باوجود آپ کا لہجہ حاکمانہ تھا اور الفاظ میں وہی جلال تھا جو علی علیہ السلام کے خطبات میں نظر آتا ہے۔ آپ نے یزید کو اس کے اقتدار کی ناپائیداری کا احساس دلایا اور واضح کیا کہ تم سمجھتے ہو کہ ہم ذلیل ہو گئے؟ نہیں، عزت تو صرف خدا، اس کے رسول اور اہلِ ایمان کے لیے ہے۔”یہ خطبہ دراصل کربلا کے خون کی سب سے توانا آواز تھا۔عورت، قیادت اور بی بی زینبؑ بی بی زینب علیہا السلام کی سیرت اسلامی تصورِ عورت کی بہترین ترجمان ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ عورت عفت و حیا کے دائرے میں رہتے ہوئے سماجی، فکری اور سیاسی قیادت کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ آپ نہ صرف ایک مثالی بیٹی، بہن اور ماں تھیں بلکہ ایک عظیم رہنما، مبلغہ اور محافظِ دین بھی تھیں۔آج کے دور میں، جب عورت کے کردار پر مختلف نظریاتی مباحث جاری ہیں، بی بی زینبؑ کی شخصیت ایک متوازن اور باوقار نمونہ پیش کرتی ہے، جس میں خودداری، شعور اور ذمہ داری یکجا نظر آتی ہے۔بی بی زینب بنتِ علی علیہا السلام کی سیرت ایک ایسی روشن مشعل ہے جو صدیوں سے انسانیت کو روشنی فراہم کر رہی ہے۔ اگر امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں دین کو خون دیا، تو بی بی زینبؑ نے اس خون کو زبان دی، اسے پیغام بنایا اور تاریخ کے سینے پر ثبت کر دیا۔
آپ کا کردار ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کی حفاظت صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی بلکہ فکر، زبان، صبر اور استقامت سے بھی کی جاتی ہے۔ بی بی زینبؑ رہتی دنیا تک مظلوموں کی آواز، حق کی علمبردار اور باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کرنے والی عظیم ہستی رہیں گی۔سلام ہو آپ پر اے دخترِ علیؑ، اے پیامبرِ کربلا، اور اے صبر و شجاعت کی ابدی مثال۔
مجلس وحدت المسلمين شعبہ اصفھان مسئول شعبہ تحقیق و تعلیم حجت الاسلام والمسلمین محمد نديم عباس علوی









آپ کا تبصرہ