پیر 5 جنوری 2026 - 05:00
اسوۂ انسانیت؛ حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا

حوزہ/ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہ رہا ہے کہ طاقت حق کو جنم دیتی ہے یا حق طاقت کو؟ دنیا کے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور ثقافتوں نے اس سوال کا جواب اپنے اپنے انداز میں دیا، مگر حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا نے اسے عملی تاریخ میں تبدیل کر دیا۔ آپؑ نے یہ ثابت کیا کہ اصل طاقت نہ تلوار میں ہوتی ہے، نہ تخت میں، بلکہ سچائی، اخلاقی جرات اور انسانی وقار میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زینبؑ کا کردار کسی ایک مذہب یا فقہی دائرے تک محدود نہیں، بلکہ وہ عالمی انسانی ورثہ بن چکا ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہ رہا ہے کہ طاقت حق کو جنم دیتی ہے یا حق طاقت کو؟ دنیا کے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور ثقافتوں نے اس سوال کا جواب اپنے اپنے انداز میں دیا، مگر حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا نے اسے عملی تاریخ میں تبدیل کر دیا۔ آپؑ نے یہ ثابت کیا کہ اصل طاقت نہ تلوار میں ہوتی ہے، نہ تخت میں، بلکہ سچائی، اخلاقی جرات اور انسانی وقار میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زینبؑ کا کردار کسی ایک مذہب یا فقہی دائرے تک محدود نہیں، بلکہ وہ عالمی انسانی ورثہ بن چکا ہے۔

بلا تفریق رنگ و نسل اور بلا تفریق ملک و ملت بشری نقطۂ نظر سے حضرت زینبؑ کو سمجھنا دراصل انسانیت کی مشترکہ اخلاقی آواز کو سمجھنا ہے۔ کیونکہ اگر دنیا کے بڑے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ تمام مذاہب اخلاقی اقدار میں یکجا اور ظالمانہ رویّوں میں یکساں طور پر ناپسندیدہ ہیں۔ عدل، سچ، صبر، ایثار، انسانی احترام اور مظلوم کی حمایت، یہ وہ اصول ہیں جو اسلام اور دیگر انسانی آئین میں مشترک ہیں۔

حضرت زینبؑ کی زندگی انہی مشترکہ اخلاقی اصولوں کی عملی تصویر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کو صرف ایک مذہبی خاتون نہیں بلکہ انسانی اخلاقیات کی مجسم تصویر کہا جاتا ہے۔

جیسا کہ فلسفۂ اخلاق میں ایک معروف نظریہ ہے کہ "اخلاقی قوت ظاہری طاقت سے کہیں زیادہ دیرپا اور مؤثر ہوتی ہے۔" حضرت زینبؑ اس نظریہ کی زندہ مثال ہیں۔

کربلا کے بعد حضرت زینبؑ کے پاس کوئی لشکر نہ تھا، کوئی سیاسی اقتدار نہ تھا، کوئی عسکری طاقت نہ تھی مگر اس کے باوجود ظالم حکمران دفاعی پوزیشن میں آ گیا، دربارِ اقتدار سوالیہ نشان بن گیا اور تاریخ نے فاتح اور مفتوح کا فیصلہ بدل دیا اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت جمع ہوتی ہے۔

اسلام سمیت دنیا کے اکثر مذاہب صبر کو نیکی سمجھتے ہیں، مگر حضرت زینبؑ نے صبر کو انقلابی شعور عطا کیا۔

آپؑ کا مشہور جملہ "ما رأیتُ إلا جمیلاً" (میں نے خدا کو خوبصورتی کے سوا نہیں دیکھا۔) یہ جملہ صرف ایک عقیدے کا اظہار نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور اخلاقی فلسفہ کا بلند ترین رتبہ ہے۔

یہ وہی صبر ہے جو کسی آئین میں ظلم سہہ کر بھی حق پر قائم رہنے کی علامت ہے، کہیں اندرونی بیداری اور عدمِ شکستگی کا راستہ ہے تو کہیں کرم اور دھرم کی پابندی کی اعلیٰ صورت ہے۔

حضرت زینبؑ کا صبر انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ حالات انسان کو شکست نہیں دیتے، بلکہ اصولوں سے دستبرداری شکست ہوتی ہے۔

دنیا کا ہر مذہب ظلم کے خلاف آواز کو ایک اخلاقی فریضہ سمجھتا ہے۔ حضرت زینبؑ نے اسی فریضہ کو تاریخ کا رخ بدلنے والا عمل بنا دیا۔

یزید کے دربار میں آپؑ کی خطابت محض ایک مذہبی احتجاج نہیں بلکہ انسانی ضمیر کا عالمی اعلان تھا۔ یہ اعلان تھا کہ ظلم کو مذہبی لبادہ اوڑھنے کی اجازت نہیں، یہ اعلان تھا کہ طاقت اخلاق سے خالی ہو تو رسوا ہو جاتی ہے، یہ اعلان تھا کہ قید میں کھڑا سچ، تخت پر بیٹھے جھوٹ سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

یہی پیغام موسیٰؑ کا فرعون کے سامنے، عیسیٰؑ کا مذہبی جبر کے خلاف اور امام حسین علیہ السلام کا تانا شاہی نظام سے انکار میں نظر آتا ہے۔

غیر اسلامی ادیان و مذاہب میں عورت کا کردار ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے۔ حضرت زینبؑ نے حقیقی اسلامی نظریہ پیش کرتے ہوئے عورت کو اخلاقی قیادت کا معیار بنا دیا۔

آپؑ نے ثابت کیا کہ قیادت جسمانی قوت کی محتاج نہیں، عورت صرف گھر کی نہیں، سماج کی بھی معمار ہے، حیا اور مزاحمت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ہم معنی ہیں۔

یہ پیغام تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے لئے یکساں اہم ہے، خصوصاً آج کے دور میں جہاں عورت یا تو نظرانداز ہوتی ہے یا تجارتی شے بنا دی جاتی ہے۔

اس نکتہ کی جانب بھی توجہ ضروری ہے کہ حضرت زینبؑ کی انسان دوستی کسی نعروں میں نہیں بلکہ عملی رویّوں میں ظاہر ہوئی: یتیم بچوں کی دلجوئی، بیمار امام سجادؑ کی حفاظت، خوفزدہ خواتین کی حوصلہ افزائی، قافلۂ اسرا کی فکری و اخلاقی قیادت اور یہی وہ انسانی اقدار ہیں جنہیں ہر مذہب نجات کا راستہ سمجھتا ہے۔

دور حاضر میں جب دنیا مذہبی انتہا پسندی، طاقت کی سیاست اور اخلاقی زوال کا شکار ہے تو حضرت زینبؑ کے پیغام پر توجہ اور اس پر عمل پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔

آپ کا پیغام ہے: مذہب اگر انسانیت سے خالی ہو تو وہ ظلم بن جاتا ہے، خاموش ضمیر سب سے بڑا اخلاقی جرم ہے، حق کا ساتھ دینا انسان ہونے کی بنیادی شرط ہے۔

المختصر عالمی انسانی نقطۂ نظر سے حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا ایک زندہ اخلاقی معیار ہیں۔ آپؑ نہ صرف اسلام کی عظمت بلکہ انسانیت کی سربلندی کا استعارہ ہیں۔

حضرت زینبؑ کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ وہ ہر اس انسان کے لئے اسوہ و قدوہ ہیں جو ظلم کے سامنے کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے اور حق کے لئے جینے کا شعور رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha