بدھ 7 جنوری 2026 - 23:17
وینزویلا پر کارروائی؛ عالمی غنڈہ گردی اور بین الاقوامی قانون کی پامالی، مولانا کرامت حسین جعفری

حوزہ/ روزنامہ صداقت کے چیف ایڈیٹر نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے کسی دوسرے ملک منتقل کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور طاقت کے بے لگام استعمال کی نشانی ہے، اور اس سے بین الاقوامی امن، انصاف اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روزنامہ صداقت کے چیف ایڈیٹر مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو فوجی یا خفیہ کارروائی کے ذریعے گرفتار کر کے کسی دوسرے ملک منتقل کرنا محض ایک سیاسی یا سیکیورٹی معاملہ نہیں بلکہ عالمی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی اور طاقت کے بے لگام استعمال کی علامت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید عالمی نظام کی بنیاد ریاستوں کی خودمختاری، عوام کے حقِ انتخاب اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت جیسے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ جب ان اصولوں کو نظرانداز کر کے طاقت کو قانون پر فوقیت دی جائے تو دنیا ریاستوں کے منظم معاشرے سے نکل کر ایسی فضا میں داخل ہو جاتی ہے جہاں فیصلے انصاف کی بجائے زورِ بازو سے ہوتے ہیں، اور یہی کیفیت امن، اخلاق اور بین الاقوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

مولانا کرامت حسین شعور جعفری کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس ادارے کے کردار اور افادیت پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کے بقول اقوام متحدہ کا قیام اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ طاقتور ممالک کمزور ریاستوں کے حقوق پامال نہ کر سکیں اور عالمی تنازعات قانون اور مکالمے کے ذریعے حل ہوں۔ لیکن جب عالمی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر کسی ملک کے حکمران کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے اور بین الاقوامی برادری خاموشی اختیار کرے تو یہ خاموشی خود ایک اخلاقی بحران کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دنیا کے تمام ذمہ دار حلقوں—ریاستوں، عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور باشعور عوام—کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی، تدبر اور اصولی موقف کے ساتھ توجہ دیں۔ یہ توجہ کسی محاذ آرائی یا اشتعال انگیزی کا تقاضا نہیں کرتی، بلکہ اس بنیادی اصول کی یاد دہانی ہے کہ عالمی نظم طاقت کے بل پر نہیں بلکہ قانون، انصاف اور باہمی احترام کے ذریعے قائم رہتا ہے۔

مولانا کرامت حسین شعور جعفری نے انتباہ کیا کہ اگر آج وینزویلا کے ساتھ روا رکھے گئے اس طرزِ عمل کو نظرانداز کیا گیا تو مستقبل میں یہ مثال کسی اور ملک کے لیے بھی دہرائی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول عالمی ضمیر کا بیدار رہنا، اصولوں کی پاسداری اور خاموشی کے بجائے ذمہ دارانہ اور متوازن مؤقف اختیار کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ یہ دیکھتی ہے کہ نازک لمحوں میں انسانیت نے انصاف اور قانون کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا یا نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha