اتوار 4 جنوری 2026 - 16:35
حضرت زینب بنت (ع): حیات، جدوجہد اور وفات

حوزہ/حضرت زینب بنت علی علیہا السلام تاریخِ اسلام کی اُن عظیم ترین خواتین میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اپنے کردار، علم، صبر اور جرأت کے ذریعے نہ صرف اپنے عہد بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے بھی حق و باطل کے معیار قائم کیے۔ آپؑ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ کی نواسی، حضرت علی ابن ابی طالبؑ اور سیدہ فاطمہ الزہراؑ کی لختِ جگر، اور امام حسنؑ و امام حسینؑ کی ہمشیرہ تھیں۔ واقعۂ کربلا کے بعد اسلام کی بقا اور پیغامِ حسینی کی ترسیل میں حضرت زینبؑ کا کردار اتنا مرکزی اور فیصلہ کن ہے کہ آپؑ کو “شریکۃ الحسینؑ” کہا گیا ہے۔

تحریر: عاصم علی

حوزہ نیوز ایجنسی| حضرت زینب بنت علی علیہا السلام تاریخِ اسلام کی اُن عظیم ترین خواتین میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اپنے کردار، علم، صبر اور جرأت کے ذریعے نہ صرف اپنے عہد بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے بھی حق و باطل کے معیار قائم کیے۔ آپؑ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نواسی، حضرت علی ابن ابی طالبؑ اور سیدہ فاطمہ الزہراؑ کی لختِ جگر، اور امام حسنؑ و امام حسینؑ کی ہمشیرہ تھیں۔ واقعۂ کربلا کے بعد اسلام کی بقا اور پیغامِ حسینی کی ترسیل میں حضرت زینبؑ کا کردار اتنا مرکزی اور فیصلہ کن ہے کہ آپؑ کو “شریکۃ الحسینؑ” کہا گیا ہے۔ آپؑ کی وفات بھی اسی جدوجہدِحق کا تسلسل ہے جس نے آپؑ کی پوری زندگی کو ایک عظیم مقصد سے وابستہ رکھا۔

نسب اور خاندانی پس منظر

حضرت زینبؑ کا تعلق اس گھرانے سے ہے جسے قرآنِ مجید نے اہلِ بیت قرار دے کر طہارت و عصمت کی گواہی دی۔ آپؑ کے نانا رسولِ خدا ﷺ، والد امیرالمؤمنین حضرت علیؑ، والدہ سیدہ فاطمہ الزہراؑ اور بھائی امام حسنؑ و امام حسینؑ ہیں۔ اس خانوادے کی تربیت علم، تقویٰ، عبادت، عدل اور شجاعت کے اعلیٰ نمونوں پر مشتمل تھی۔

آپؑ کا نام خود رسولِ اکرم ﷺ نے رکھا اور بچپن ہی سے آپؑ میں غیر معمولی ذہانت، فہمِ دین اور روحانی وقار نمایاں تھا۔

تربیت اور علمی مقام

حضرت زینبؑ نے اپنی تربیت براہِ راست وحی کے گھر میں پائی۔ سیدہ فاطمہؑ کی آغوش، حضرت علیؑ کی علمی صحبت اور رسولِ خدا ﷺ کی شفقت نے آپؑ کو علم و حکمت کا سرچشمہ بنا دیا۔

آپؑ کو عالمہ غیر معلمہ کہا گیا ہے، یعنی ایسی عالمہ جنہوں نے بغیر کسی ظاہری استاد کے علم حاصل کیا۔ تفسیرِ قرآن، حدیث، فقہ اور کلام میں آپؑ کا مقام مسلم تھا۔ کوفہ اور مدینہ میں خواتین کے لیے آپؑ کے علمی حلقے قائم تھے جن میں دینی مسائل بیان کیے جاتے تھے۔

ازدواجی زندگی

حضرت زینبؑ کا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر طیارؑ سے ہوا جو سخاوت، شرافت اور ایمان میں معروف تھے۔ ازدواجی زندگی میں بھی آپؑ نے تقویٰ اور صبر کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ کربلا کے سفر میں حضرت عبداللہؑ نے آپؑ کو امام حسینؑ کے ساتھ جانے کی اجازت دی بلکہ اس راہ میں قربانی کے لیے اپنے بیٹوں کو بھی ہمراہ کیا، جو کربلا میں شہید ہوئے۔

واقعۂ کربلا میں حضرت زینبؑ کا کردار

واقعۂ کربلا تاریخِ انسانیت کا عظیم ترین المیہ اور حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ ہے۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد اگر کوئی شخصیت اس تحریک کی محافظ اور ترجمان بنی تو وہ حضرت زینبؑ تھیں۔ کربلا میں آپؑ نے نہ صرف خواتین اور بچوں کی سرپرستی کی بلکہ امام حسینؑ کے پیغام کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ شبِ عاشورا اور روزِ عاشورا آپؑ کی عبادت، دعا اور استقامت قابلِ دید تھی۔

صبر، استقامت اور شجاعت کی مثال

حضرت زینبؑ کی سب سے نمایاں صفت صبرِ جمیل ہے۔ *بھائی، بیٹوں اور عزیزوں کی شہادت، خیموں کا جلایا جانا اور اسیری ان سب آزمائشوں کے باوجود آپؑ نے نہ شکوہ کیا اور نہ کمزوری دکھائی۔

جب ابنِ زیاد نے طنزیہ انداز میں پوچھا: “تم نے خدا کا کام کیسا دیکھا؟” تو آپؑ نے فرمایا:“ما رأیتُ إلا جمیلاً” یہ جملہ صبر و رضا کی اعلیٰ ترین مثال کے طور پر نقل ہوا ہے۔

کوفہ میں خطبہ

کوفہ میں حضرت زینبؑ کا خطبہ تاریخ کا ایک عظیم باب ہے۔ آپؑ نے اہلِ کوفہ کی بےوفائی، منافقت اور ظلم کو بےنقاب کیا۔ آپؑ کے الفاظ میں قرآن کی گونج، علیؑ کی فصاحت اور فاطمیؑ غیرت نمایاں تھی۔

اس خطبے نے کوفہ کے ماحول کو بدل دیا اور بہت سے لوگ ندامت کا شکار ہوئے۔

یزید کے دربار میں خطبہ

دمشق میں یزید کے دربار میں حضرت زینبؑ کا خطبہ تاریخِ اسلام کی سب سے جرأت مند تقاریر میں شمار ہوتا ہے۔ قید و بند، ظاہری بےسروسامانی اور دشمن کے جبر کے باوجود آپؑ نے یزید کو للکارا اور اس کے ظلم کو آشکار کیا۔

آپؑ نے فرمایا کہ یزید وقتی فتح پر مغرور نہ ہو، کیونکہ حق کبھی مٹ نہیں سکتا۔ یہ خطبہ باطل کے خلاف ابدی اعلانِ جنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسیری کے دوران خدمات

اسیری کے دوران حضرت زینبؑ نے امام سجادؑ کی حفاظت، یتیم بچوں کی دیکھ بھال اور قافلے کی قیادت کی۔ اگر آپؑ نہ ہوتیں تو شاید واقعۂ کربلا کا پیغام دب جاتا۔ کربلا کے بعد اسلام کی بقا میں حضرت زینبؑ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

کربلا کے بعد کی زندگی

اسیری کے بعد حضرت زینبؑ مدینہ واپس آئیں۔ وہاں آپؑ نے مجالسِ عزا کے ذریعے واقعۂ کربلا کو زندہ رکھا۔ یہی مجالس بعد میں عزاداری کی بنیاد بنیں جو ایک اہم دینی و سماجی عمل ہے اور آج تک قائم ہے۔

مدینہ میں آپؑ کی تقاریر اور مجالس سے بنی امیہ کو خطرہ محسوس ہوا، جس کے باعث بعض روایات کے مطابق آپؑ کو مدینہ چھوڑنا پڑا۔

حضرت زینبؑ کی وفات

حضرت زینبؑ کی وفات کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں۔ بعض کے مطابق آپؑ کی وفات مدینہ میں ہوئی، بعض کے نزدیک دمشق میں، جبکہ ایک قول کے مطابق مصر میں آپؑ کا وصال ہوا۔

آپؑ کی وفات غموں، مصائب اور مسلسل جدوجہد کے بعد ہوئی۔ کربلا کے صدمات نے آپؑ کے جسم و روح پر گہرا اثر ڈالا، اور آپؑ چند ہی برس بعد اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔

مزار سے متعلق روایات

دمشق، مصر اور مدینہ میں حضرت زینبؑ کے مزارات منسوب ہیں۔ ہر مقام پر زائرین عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔ یہ اختلافِ مقام تاریخ میں معروف ہے، مگر اس سے آپؑ کے مقام و عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

حضرت زینبؑ کی وفات سے ملنے والے اسباق

حضرت زینبؑ کی وفات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی راہ میں مصائب سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

عورت بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے

صبر، شعور اور مزاحمت باطل کو شکست دے سکتی ہے۔

ظلم کے سامنے خاموشی جرم ہے

امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

حضرت زینبؑ کی زندگی اور وفات امتِ مسلمہ کے لیے بیداری کا پیغام ہے۔ آپؑ نے ثابت کیا کہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی تحریک ہے، اور اس تحریک کی محافظ حضرت زینبؑ ہیں۔

نتیجہ

حضرت زینب بنت علی علیہا السلام کی وفات ایک عظیم مجاہدہ کی تکمیل ہے۔ آپؑ نے اپنی پوری زندگی اسلام، اہلِ بیتؑ اور حق کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر کربلا میں امام حسینؑ نے خون دیا تو کربلا کے بعد حضرت زینبؑ نے اس خون کو آواز دی۔

آپؑ کی وفات اگرچہ ایک جسمانی جدائی ہے، مگر آپؑ کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha