حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سیوان/ 4 جنوری 2026 عیسوی، 14 رجب 1447ھ کو بعد از نمازِ مغربین حوزہ علمیہ آیت اللہ خامنہ ای میں شہزادیٔ اسلام حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شہادت کے سلسلے میں ایک پُراثر مجلسِ عزا منعقد ہوئی۔

اس مجلس میں نظامت کے فرائض سید انتظار حسین رضوی نے انجام دیے، جبکہ سوز خوانی سید غلام نجف رضوی نے کی۔ پیش خوانی کے لیے شاعرِ محترم سید ریاض علی رضوی موجود تھے۔ خطابت کے فرائض مولانا سید صادق حسین رضوی نے انجام دیے، جبکہ نوحہ خوانی انجمن رضویہ بھیک پور کی جانب سے پیش کی گئی۔
اس پروگرام کے منتظم و بانیِ حوزہ علمیہ بھیک پور حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید شمع محمد رضوی قبلہ تھے۔

خطاب کرتے ہوئے مولانا سید صادق حسین رضوی نے فرمایا کہ 15 رجب وہ عظیم اور المناک دن ہے جب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی لاڈلی بیٹی حضرت زینب سلام اللہ علیہا اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ حضرت زینبؑ تاریخِ اسلام کی اُن عظیم ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے علم، صبر اور جرأت کے ذریعے آنے والی صدیوں کے لیے حق و باطل کا معیار قائم کیا۔ واقعۂ کربلا کے بعد اسلام کی بقا اور پیغامِ حسینیؑ کو عام کرنے میں حضرت زینبؑ کا کردار مرکزی اور فیصلہ کن رہا، اسی وجہ سے آپ کو شریکۃ الحسینؑ کہا جاتا ہے۔

مولانا موصوف نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی لاڈلی کا احترام آج پوری دنیا میں اس لیے کیا جاتا ہے کہ آپ نے دینِ اسلام کی خاطر اپنی ذات اور اپنے لختِ جگر تک قربان کر دیے۔ آپ اُس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جسے قرآنِ مجید نے اہلِ بیت قرار دے کر عصمت کی گواہی دی۔ آپ کے نانا رسولِ خدا ﷺ، والد امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور بھائی امام حسنؑ و امام حسینؑ ہیں۔ آپ کا نام خود رسولِ اسلام ﷺ نے رکھا، اور بچپن ہی سے آپ میں فہمِ دین اور روحانی وقار نمایاں تھا۔ تاریخ میں آپ کو عالِمہ غیر معلَّمہ کہا جاتا ہے، یعنی ایسی عالمہ جنہوں نے بغیر کسی ظاہری استاد کے علم حاصل کیا۔

آپ کے شوہر حضرت عبداللہ ابن جعفر طیار تھے جو سخاوت، شجاعت اور شرافت میں مشہور تھے۔ جب 28 رجب کو کاروانِ حسینی کربلا کے لیے روانہ ہوا تو حضرت عبداللہ ابن جعفر نے نہ صرف حضرت زینبؑ کو رخصت کیا بلکہ اپنے فرزندوں کو بھی ساتھ بھیجا، تاکہ دینِ اسلام کی عظمت اور قربانی کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
مولانا نے مزید کہا کہ جب یزیدیوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ “تم نے خدا کا کام کیسا دیکھا؟” تو حضرت زینبؑ نے فرمایا: "ما رأیتُ اِلّا جمیلاً"۔ آپ کے انقلابی خطبوں سے کوفہ کا ماحول بدل گیا، لوگ ندامت کے عالم میں سر جھکائے رہے۔ کربلا کے بعد مسلسل مصائب اور صدمات برداشت کرنے کے بعد آپ دمشق میں ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوئیں، مگر کربلا کی تحریک کو کبھی ماند نہیں پڑنے دیا۔

انہوں نے کہا کہ تاریخِ اسلام کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی تحریک ہے، اور اس تحریک کی محافظ حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہیں۔ تاریخ میں بعض شخصیات فرد نہیں بلکہ مکمل مکتب اور زندہ ملت ہوتی ہیں، حضرت زینبؑ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت ہیں، جو دخترِ علیؑ ہونے کے ساتھ ساتھ صفاتِ پنجتن کا عملی نمونہ ہیں۔
آخر میں مولانا نے حضرت زینبؑ کے مصائب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ پر پتھر برسائے گئے، آگ کے انگارے پھینکے گئے، چادر چھینی گئی، بے چادری کے عالم میں اونٹوں پر سوار کیا گیا اور نیزوں کے سائے میں سفر کروایا گیا، مگر آپ کی جرأت اور استقامت ایسی تھی کہ باطل کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا اور حق کو ہمیشہ کے لیے سربلند کر دیا۔









آپ کا تبصرہ