حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت (ع) فاؤنڈیشن کے نائب سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے ۱۵ رجب بسلسلہ وفات ام المصائب عقیلۂ بنی ہاشم ثانی زہرا سلام اللہ علیہا، تمام عالم اسلام کو تسلیت و تعزیت عرض کرتے ہوئے کہا کہ : دورِ حاضر میں جناب زینب کبری علیہاالسلام کی سیرت ہمارے لئے خصوصاً ہماری خواتین کیلئے باعثِ فخر و تقلید نمونہ عمل ہے۔
مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا کہ : حضرت زینب سلام اللہ علیہا (۵ یا ۶ھ- ۶۲ھ) امام علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کی صاحبزادی ہیں۔آپؑ کے نانام رسول خدا ہیں آپ نے بچپن سے ہی ایسے پرنور ماحول میں پرورش پائی جو مرکز نزول وحی اور نزول برکات کا محور تھا۔ اکثر اپنے نانا رسول خدا(ص)، بابا علی مرتضیٰؑ اور ماں فاطمہ زہراؑ اور بھائی حسنؑ و حسین ؑ سے درس آموزی ۔مسائل دینی سے آگاہی، عبادت و زہد و تقویٰ اور تحمل و برداشت کے ساتھ ساتھ فرض شناسی اور صراط مستقیم کے اصولوں سے بہرہ مند ہوئیں لہذا آپؑ کا ہر روپ، چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی تمام عورتوں کیلئے باعثِ فخراور قابلِ تقلید اسوۂ حسنہ ہے۔
زینب بنت علی و فاطمہ سلام اللہ علیہا نے صنفِ نسواں کو اس کے ہر جائز رنگ و روپ میں بہترین کردار بخشا ہے لہذا ہماری خواتین کو خاندانی نظام کی شکست و ریخت اور میکے و سسرال کی باہمی رنجشوں کے اس پر آشوب دور میں اپنی زندگی خوشگوار بنانے کے لئے سیرت جناب زینب کبری علیہا السلام پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے ۔
مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا کہ جناب زینب کبری علیہا السلام نے بیٹی کے روپ میں ایسا کردار ادا کیا کہ آپ کو زینب یعنی باپ کی زینت کہا گیا ۔ایک بہترین بیٹی بننے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اپنے والدین کا احترام کرنا، ان کی خدمت کرنا، ان کی دعائیں لینا، فرمانبردار رہنا، اور ان کی خوشیوں کا خیال رکھنا ہے ہر مثالی بیٹی کی اہم ذمہ داری ہے، آپؑ نے بہن کے رشتہ کو اس اسلوب و خوبصورتی سے نبھایا کہ وقت کا امام (حسین ابن علیؑ ) جیسی عظیم المرتبت ہستی آپ کے احترام و تعظیم میں کھڑے ہوجایا کرتے تھے ۔آپؑ نے اپنے بھائی کے لئے اپنا پورا کنبہ قربان کردیا۔یقیناً بہن بھائی کا رشتہ وہ خوبصورت رشتہ ہے جس کی محبت لازوال ہوتی ہے۔آپ ایک وفادار بیوی اور ایک بہترین ماں کی حیثیت سے ایک رول ماڈل ہیں۔
اہل بیت فاؤنڈیشن کے نائب سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا : حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کی سیرت سے ہمیں عفت و حیا، فہم و فراست، علم و معرفت، دین کی پاسداری، حلم و بردباری، تربیت اولاد میں ہوشیاری، مسائل دینی سے آگاہی، تقوی و پرہیزگاری صبرو ثبات، جرأت و شجاعت، شہامت و استقامت، حق پر ڈٹے رہنے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، اور گھر و خاندان اورمعاشرتی اقدار کی پاسداری اور وقت کے امام کی اطاعت و فرنمابرداری جیسے اہم دروس ملتے ہیں جن پر عمل کرکے ہماری خواتین اپنی زندگی کامیاب و خوشگوار بنا سکتی ہیں ۔خداوندعالم ہمیں خاص کر ہماری خواتین کو شریکۃ الحسینؑ، ثانی زہرا، عقیلة النساء، عالمه غیر معلمه، کربلا کی شیر دل خاتون ام المصائب حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی سیرت کے ان گوشوں پرعمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ اگر زینبؑ نہ ہوتیں تو کربلا، کربلا نہ ہوتی! اس لئے کہ اگر حضرت زینب (س) نہ ہوتیں تو واقعہ کربلا کی اصل روح اور پیغام، جو کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور حق کا دفاع کرنا تھا، ممکنہ طور پر دنیا تک نہ پہنچ پاتا؛ وہ خود اسیرانِ کربلا میں ایک اہم ستون بنیں، خطبے دیے، اور امام حسین (ع) کے مشن کو زندہ رکھا، جس سے کربلا ایک معمولی جنگ کی بجائے ایک لازوال تحریک بن گئی، اے کربلا کی شیر دل خاتون! آپ کے صبر و استقامت کو سلام۔"









آپ کا تبصرہ