اتوار 1 فروری 2026 - 21:18
کربلائے عصر میں خامنہ ای رگِ باطل کے لیے نشتر!

حوزہ/کربلائے عصر میں اگر کوئی حسین ابن علی ؑ کی نصرت و مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ سید علی خامنہ ای کا ساتھ دے اور ایران کی حمایت کرے کہ ایران ہی دورِ حاضر میں یزیدِ عصر کے مدمقابل پوری استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی| کربلائے عصر میں اگر کوئی حسین ابن علی ؑ کی نصرت و مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ سید علی خامنہ ای کا ساتھ دے اور ایران کی حمایت کرے کہ ایران ہی دورِ حاضر میں یزیدِ عصر کے مدمقابل پوری استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔

سر اٹھاتے ہیں یہاں بھی عصر حاضر کے یزید

کل یہ خطہ بھی محاذ کربلا ہو جائے گا

کربلا کا واقعہ تاریخ انسانیت کا ایک سنگ میل ہے، جس نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کو حق اور باطل کے درمیان فرق دکھایا۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا معرکہ صرف ایک سیاسی لڑائی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ابدی جنگ تھی جس میں ایک طرف ظلم و فساد کا نمائندہ یزید تھا، اور دوسری طرف حق و صداقت کا علمبردار حسین ابن علی ؑ تھے۔ حسین ؑ ابن علی ؑنے دنیا کو یہ درس دیا کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا اور اپنا ایمان بیچنا کسی بھی قیمت پر گوارا نہیں کرنا چاہیے۔

یہ واقعہ آج تک ہماری روحوں میں زندہ ہے، اور ہم میں سے ہر فرد کربلا کی قربانیوں اور امام حسین ؑ کی استقامت کو دل سے تسلیم کرتا ہے۔ لیکن جب ہم موجودہ دور پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ کربلا کی جنگ آج بھی جاری ہے، اور اس کا ایک نیا روپ ہمارے سامنے ہے۔

آج کی دنیا میں جہاں عالمی طاقتیں اپنی سلطنتوں کے لئے ایک دوسرے سے لڑ رہی ہیں، وہاں ایک طرف وہ ایران ہے جو استقامت کی ایک مثال بن کر کھڑا ہے۔ ایران، جس کی قیادت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کر رہے ہیں، وہی حسین ؑ کے مشن کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی حکومت اور قیادت نے یزیدِ عصر کے مقابلے میں جو موقف اختیار کیا ہے، وہ آج کے دور میں حسین ؑ کی جدو جہد کی ایک جدید شکل ہے۔

وہ انقلاب جس کی جہاں میں نہیں نظیر وہ انقلاب جس نے بشر کو دیا ضمیر

وہ انقلاب ظلم کے توڑے ہیں جس نے تیر رکھانہ امتیاز شہنشاہ اور فقیر

باب سیاہ تھا جو ورق وہ الٹ دیا جس نے یزید وقت کا تختہ پلٹ دیا

ایران کا کردار اور سید علی خامنہ ای کی قیادت

ایران، سید علی خامنہ ای کی قیادت میں، آج کربلا کے اس روحانی اور سیاسی پیغام کو دنیا بھر میں پھیلا رہا ہے۔ ان کی قیادت نے ایران کو اس راستے پر گامزن کیا ہے جہاں وہ صرف اپنے داخلی معاملات میں نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ایران کا موقف یزیدِ عصر یعنی عالمی سامراج، استعماری طاقتوں، اور ان کے حامیوں کے خلاف کھڑا ہے۔

فکر ِحق سوز یہاں کاشت نہیں کرسکتی

کربلا تاج کو برداشت نہیں کر سکتی

سید علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے ہر وہ راستہ اختیار کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی خودمختاری، آزادی، اور اصولوں کی حفاظت کی۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیساامام حسین ؑ نے کربلا میں کیا تھا۔ حسین ابن علی ؑ کا یہ پیغام تھا کہ اگر زندگی کی قیمت پر بھی حق کا دفاع کرنا پڑے، تو وہ کر گزرنا چاہیے۔

کربلا سر سے کفن باندھ کے جب آتی ہے

وسعتِ ارض و سماوات پہ چھا جاتی ہے

آج ایران میں اسی پیغام کا پرچم بلند ہے، اور سید علی خامنہ ای اسی راہ پر چل کر دنیا کو بتا رہے ہیں کہ حقیقی آزادی اور خودمختاری صرف وہی قوم حاصل کر سکتی ہے جو ظلم کے سامنے اپنی سرنڈر کرنے کے بجائے استقامت دکھائے۔

یزیدِ عصر کے مقابلے میں ایران کی استقامت

آج کی دنیا میں یزیدِ عصر کا مفہوم صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس نظام کی نمائندگی کرتا ہے جو طاقت کے بل پر دنیا کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتا ہے۔ یہ سامراجی قوتیں، جن کی قیادت امریکہ، اسرائیل، اور دیگر عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے، اپنے مفادات کے لیے عالمی سیاست کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ کمزور ممالک کو دبایا جا سکے۔ ایران ان طاقتوں کے خلاف کھڑا ہے اور یہ وہی کردار ادا کر رہا ہے جوامام حسین ؑ نے کربلا میں ادا کیا تھا۔

ایران کی استقامت نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب ایک قوم اپنے اصولوں اور حقوق کا دفاع کرنے کی پختہ ارادہ رکھتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے اپنی مرضی سے نہیں جکڑ سکتی۔ ایران نے نہ صرف اپنے داخلی مسائل میں استقامت دکھائی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس نے باطل قوتوں کے سامنے سر نہ جھکانے کا عہد کیا ہے۔

حسین ؑ ابن علی ؑکی نصرت کا مفہوم آج کے دور میں

اگر ہم واقعی حسین ؑ کے مشن کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف ان کی قربانیوں کی یاد دہانی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہمیں ان کی استقامت اور ان کے اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ حسین ؑ کا پیغام صرف اس وقت کے یزید تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ تمام ظالم قوتوں کے خلاف تھا۔ آج جب ہم دنیا میں ظلم کے نظام کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں حسین ؑ کے پیغام کو اپنانا ہوگا۔

ایران کی قیادت میں سید علی خامنہ ای نے حسین ؑ کی طرح ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا عہد کیا ہے۔ ایران نے عالمی سامراج کے خلاف ایک مضبوط موقف اپنایا ہے اور اس موقف پر استقامت کے ساتھ قائم رہا ہے۔ اسی طرح، اگر ہم امام حسین ؑ کے مشن کو حقیقت میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایران کی حمایت کرنی ہوگی، کیونکہ وہی آج کربلا کی طرح باطل کے سامنے کھڑی ہے۔

میڈیا اسلام اور ایران کے خلاف مغرب کا موثر ہتھیار

عصرِ حاضر میں اسلام، مسلمانوں اورایران پر مغربی ذرائع ابلاغ کی جو یلغار ہے، وہ ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے۔ موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔ غو رکیاجائے تو محسوس ہوگا کہ مغرب محض مؤثر اور طاقتور میڈیا کے ذریعے ہی دنیا پراور لوگوں کے ذہنوں پر حکومت کررہاہے۔اورمشرق میں ہندوستان و پاکستان جیسےعظیم ممالک بھی اس میں شامل ہیں جہاں سیاسی شعور کافقدان ہے۔ جہالت عروج پر ہے اور مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ہرقسم کی رہنمائی کے لیے مغرب کی جانب للچائی نگاہوں سے دیکھتاہے۔اوران ملکوں کی میڈیا کا لگام بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے اوروہ ان کے اشارے ہی پرروزانہ اسلام ،مسلمان اور ایران کے خلاف نت نئے شوشے چھوڑتا رہتا ہے جن کا مقصدلوگوں کی سوچ کو متاثر کرنا اوران کی فکر کو ایک خاص رُخ پر ڈالنا ہے۔اور یہ سب کچھ محض اس لئے ہے کہ مغرب اسلام اور ایران کی اُبھرتی ہوئی مذہبی لہر سے خوف زدہ ہے جس کامقابلہ کرنے کے لیے میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے موجودہ دور میں دشمن کا سب سے مؤثر ہتھیار گولی نہیں، بلکہ خبر ہے۔ میڈیا اب محض اطلاع رسانی کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ نظریاتی جنگ کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔

آج جنگیں صرف میدانِ کارزار میں نہیں لڑی جاتیں، بلکہ ذہنوں، شعور اور بیانیوں کے محاذ پر لڑی جاتی ہیں۔ میڈیا اب محض اطلاع پہنچانے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ نظریاتی جنگ کا سب سے بڑا اور خطرناک میدان بن چکا ہے۔ سچ کو مسخ کرنا، باطل کو حق بنا کر پیش کرنا، اور مظلوم کو مجرم ثابت کرنا—یہ سب جدید یزیدی نظام کے وہ ہتھیار ہیں جو خاموشی سے وار کرتے ہیں، مگر اثر نسلوں تک جاتا ہے۔

اسی لیے کربلائے عصر میں معرکہ صرف بندوق اور میزائل کا نہیں، بلکہ بیانیے کا معرکہ ہے۔ ایک طرف وہ میڈیا ہے جو ظلم کو جواز دیتا ہے، قاتل کو ہیرو بناتا ہے، اور حق کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے؛ اور دوسری طرف وہ موقف ہے جو سچ پر کھڑا ہے، چاہے دنیا اسے تنہا ہی کیوں نہ چھوڑ دے۔جیساکہ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا سے وابستہ ہر صاحب فہم اس بات سے واقف ہے کہ ۱۲ روزہ جنگ کے بعد ایران اور ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف کس طرح کے نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے اور ان کی امیج کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی

یہی وہ مقام ہے جہاں سید علی خامنہ ای کا کردار صرف ایک سیاسی رہنما کا نہیں رہتا، بلکہ وہ رگِ باطل کے لیے نشتر بن کر سامنے آتے ہیں۔ وہ اس جھوٹے عالمی بیانیے کو چیرتے ہیں جو یزیدِ عصر نے میڈیا، پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے قائم کیا ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں ایران نہ صرف عسکری محاذ پر، بلکہ فکری اور ابلاغی محاذ پر بھی استقامت کی علامت بن چکا ہے۔

ہماری ذمہ داری

یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری سمجھیں اورامام حسین ؑ کے مشن کو عملی طور پر اپنائیں۔ ہمیں اپنے ضمیر کی آواز سننی ہوگی اور دنیا میں ظلم و فساد کے خلاف ایک جرات مندانہ موقف اختیار کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم سید علی خامنہ ای کی حمایت کریں، بلکہ ہمیں ان کی قیادت میں ایران کی حمایت کرنی ہوگی،ہمیں سوشل نیٹ ورک پر علم و استدلال کے ذریعے دنیا میں بہتر کار کر دگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا صرف تیر و تفنگ اور بندوق کے میدان میں دشمن کا مقابلہ کر نا مطلوب نہیں بلکہ قرطاس و قلم اور نشرواشاعت کی دنیا میں بھی اس کا مقابلہ ضروری ہے اور اس طرح سے ہر چیلنج کا جواب دینا ضروری ہے جو اسلام اور ایران کو درپیش ہے۔ کیونکہ وہی آج کربلا کی جدو جہد کا پرچم بلند کر رہا ہے۔

اگر ہمیں حسین ؑ کے مشن کو زندہ رکھنا ہے، تو ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم صرف حسین ؑ کی یاد میں نہیں بلکہ ان کے راستے پر چل کر باطل کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ اور یہ ہماری تاریخی ذمہ داری ہے کہ ہم سید علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی حمایت کریں، کیونکہ وہی آج کے دور میں حسین ؑ کی استقامت کی ایک زندہ مثال ہیں۔

اے انقلاب تجھ سے جہاں میں بہار ہے

تیرا ہی نام گردش لیل ونہار ہے

تو اک نئی حیات کا آئینہ دار ہے

تیرے ہی ساتھ مرضی پروردگار ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha