منگل 3 فروری 2026 - 14:41
ایران کی عزت و آبرو اور عالمی طاقت میں اس کا رُعب؛ رہبرِ معظم کی قیادت کا اثر

حوزہ/کسی بھی قوم کی ترقی اور زوال کا دارومدار اس کی قیادت پر ہوتا ہے۔ قیادت قوم کی تقدیر کا تعین کرتی ہے؛ صالح قیادت قوم کو بلندیوں تک پہنچاتی ہے، جبکہ فاسد قیادت تباہی و بربادی کی طرف لے جاتی ہے۔ قیادت اور قوم کا تعلق روح اور جسم کی مانند ہوتا ہے؛ جیسا کہ روح جسم کو حرکت دیتی ہے، ویسا ہی قائد قوم کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر قیادت مضبوط اور زندہ ہو تو قوم عالمی سطح پر کامیاب ہوتی ہے، اور اگر قیادت کمزور یا بے جان ہو تو قوم ذلت و رسوائی کا شکار ہو جاتی ہے۔

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

ایرانی عوام کے لیے فخر کا مقام: رہبرِ معظم کی قیادت میں ایران کی عالمی حیثیت

کسی بھی قوم کی ترقی اور زوال کا دارومدار اس کی قیادت پر ہوتا ہے۔ قیادت قوم کی تقدیر کا تعین کرتی ہے؛ صالح قیادت قوم کو بلندیوں تک پہنچاتی ہے، جبکہ فاسد قیادت تباہی و بربادی کی طرف لے جاتی ہے۔ قیادت اور قوم کا تعلق روح اور جسم کی مانند ہوتا ہے؛ جیسا کہ روح جسم کو حرکت دیتی ہے، ویسا ہی قائد قوم کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر قیادت مضبوط اور زندہ ہو تو قوم عالمی سطح پر کامیاب ہوتی ہے، اور اگر قیادت کمزور یا بے جان ہو تو قوم ذلت و رسوائی کا شکار ہو جاتی ہے۔ قیادت میں قوم کا درد، اس کی تکالیف کا حل اور اس کے مسائل کا مداوا ہونا ضروری ہے، کیونکہ قیادت کا اصل مقصد اپنی قوم کی خدمت اور اسے کامیابی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای میں عرفانِ الہٰی کا وصف کمال

قیادت کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ عرفانِ الہٰی سے مالا مال ہو، جو اسے صحیح سمت پر رہنے کی رہنمائی فراہم کرے اور اسے دنیوی و اخروی کامیابی کی راہ دکھائے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت میں یہ وصف مکمل طور پر موجود ہے، جہاں ان کا عرفان الہٰی کا چراغ ان کی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی کو عبادت، ریاضت اور محنت کے ذریعے معرفت کی راہوں پر استوار کیا، جس کے نتیجے میں ان میں ایک ناقابل شکست قوت پیدا ہوئی۔ ان کی زندگی میں معرفت کا یہ چراغ ہمیشہ روشن رہا، اور اس کی برکت سے انہوں نے علمِ ظاہر اور علمِ باطن میں غیر معمولی قوت حاصل کی، جو انہیں ہر دور میں قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ مزید کامیاب بناتا ہے۔

ایران کی عزت و آبرو اور خامنہ ای کا کردار

ایران کی عزت و آبرو کے حوالے سے، آیت اللہ علی خامنہ ای کا نام ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کردار نہ صرف ایرانی سیاست بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ خامنہ ای کے رہبر بننے کے بعد سے، ایران نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف چیلنجز کا سامنا کیا ہے، اور اس دوران خامنہ ای نے نہ صرف داخلی سیاست میں بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی اپنی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔

سیاسی استحکام کی علامت

آیت اللہ خمینیؒ کی وفات کے بعد، ایران میں رہبری کے عہدے کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ آیا۔ اس وقت خامنہ ای، جو کہ اس سے پہلے ایران کے صدر تھے (1981–1989)، کو سپریم لیڈر منتخب کرنے کے لیے خبرگانِ رہبری (Assembly of Experts) نے منتخب کیا۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 50 سال تھی، اور انہوں نے ایران کی سیاست، دین، اور بین الاقوامی تعلقات میں اہم تبدیلیوں کی قیادت کی۔

آیت اللہ خامنہ ای کا رہبر بننا ایران کے سیاسی استحکام کا ضامن بن گیا۔ ایران کی انقلاب کے بعد کی سیاست میں کئی اتار چڑھاؤ آئے، لیکن خامنہ ای نے اپنی قیادت سے نہ صرف ملک کو داخلی بحرانوں سے نکالا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایران کو ایک مضبوط مقام دلایا۔ ان کی حکمت عملی اور سیاسی بصیرت نے ایران کو ان مشکلات سے نکالا، جنہوں نے کئی بار عالمی سطح پر ایران کو تنہا کر دیا تھا۔

انقلاب کی اقدار کا تحفظ

آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کے انقلاب 1979 کے اصولوں اور اقدار کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران کی عزت و آبرو اسی انقلاب کی کامیابی میں پوشیدہ ہے، اور ان اصولوں کی بنیاد پر ایران کی داخلی اور خارجی پالیسی تشکیل دی گئی۔ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھا اور اسے عالمی سطح پر ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کرایا۔

بین الاقوامی تعلقات میں عزت کا تحفظ

آیت اللہ خامنہ ای کا کردار صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہا، بلکہ ان کی قیادت میں ایران نے عالمی سطح پر بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھا۔ چاہے وہ شام میں حکومت کی حمایت ہو، یمن میں یمنیوںاور فلسطین میں فلسطینی مظلموں کی مدد ہو یا عراق میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی، خامنہ ای نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے ایران کو ایک اہم طاقت کے طور پر ظاہر کیا۔

مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات

مغربی دنیا، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات ایک پیچیدہ معاملہ ہیں۔ خامنہ ای نے ہمیشہ ایران کی خودمختاری کو مقدم رکھا اور امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے دباؤ کا مقابلہ کیا۔ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر خامنہ ای نے انتہائی ثابت قدم موقف اختیار کیا اور اسے قومی عزت کا معاملہ قرار دیا۔ ان کی قیادت میں ایران نے عالمی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنے اقتصادی و سیاسی مفادات کا تحفظ کیا۔

داخلی چیلنجز اور بحرانوں کا مقابلہ

خامنہ ای کے دور میں ایران نے داخلی طور پر بھی کئی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اقتصادی بحران، بے روزگاری اور معاشی دشواریاں ایران کے عوام کے لیے روزمرہ کی مشکلات بن چکی ہیں، مگر خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے ان بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی حکمت عملی میں ایرانی عوام کو مشکلات کے باوجود اپنی آزادی اور خودمختاری کے اصولوں پر قائم رہنے کی ترغیب دی گئی۔

دینی اور ثقافتی حیثیت

خامنہ ای نے ایران کو ایک مذہبی اور ثقافتی طاقت کے طور پر عالمی سطح پر پیش کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران کی عزت اس کے اسلامی اصولوں میں ہے اور ان اصولوں کو اپنانا نہ صرف ایران کے لیے بلکہ پورے اسلامی دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔ ان کی قیادت میں ایران نے اسلامی دنیا کے اندر اپنی اہمیت کو تسلیم کرایا، اور کئی علاقائی مسائل میں اپنا مؤثر کردار ادا کیا۔

ملت کو تیرے عزم قیادت پہ ناز ہے

نتیجہ

خامنہ ای کا نام ایران کی عزت و آبرو کی ایک نمایاں علامت بن چکا ہے۔ ان کی قیادت میں ایران نے نہ صرف داخلی چیلنجز کو عبور کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنے مقام کو مستحکم کیا۔ ان کے نظریات اور حکمت عملی نے ایران کو ایک طاقتور، خودمختار اور عزت دار ملک کے طور پر سامنے لایا۔ ان کی پالیسیوں نے نہ صرف ایران کی بلکہ پورے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگر موجودہ عصر میں خامنہ ای نہ ہوتے، تو ایران کی سیاسی استحکام اور عالمی پوزیشن پر اثر پڑ سکتا تھا، اور اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا تھا کہ دشمن قوتیں ایران پر زیادہ آسانی سے حملہ آور ہو جاتیں۔ لیکن خامنہ ای کی مضبوط قیادت نے ایران کو ایسی پوزیشن پر پہنچا دیا جہاں دشمنوں کو ایران پر حملہ کرنا زیادہ خطرناک اور پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔پس، ایرانی عوام کو اپنی عظیم قیادت پر فخر کرنا چاہیے اور اپنے قائد اپنے لیڈر اپنے مرشد حضرت آیت اللہ خامنہ ای پر خود کو قربان و نثارکرنا چاہئیے اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ ان کی بصیرت، ثابت قدمی اور جرات مندانہ رہبری نے ایران کو عالمی سطح پر ایک مضبوط، خودمختار اور عزت دار ملک کے طور پر قائم کیا ہے۔ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نہ صرف اپنی اندرونی مشکلات سے نکلا بلکہ عالمی سطح پر اپنے رعب و دبدبے کو مستحکم کر کے دشمنوں کے سامنے ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن چکا ہے۔

عشق یعنی یک خمینی سادگی عشق یعنی با علی دلدادگی

عشق یعنی لا فتی الا علی عشق یعنی رهبرم سید علی

ہمیں آپ پر فخر ہے، آپ کی قیادت پر ناز ہے اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha