تحریر: فدا حسین ساجدی
حوزہ نیوز ایجنسی I نسلِ انسانی کے انجام اور عاقبت کے بارے میں مجموعی طور پر دو بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں۔
ایک نظریہ وہ ہے جو عام لوگوں اور غیر الٰہی افکار کے حامل افراد کے درمیان رائج ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسان چونکہ منفعت طلب، خود غرض اور تسلط پسند ہے، اس لیے اس کا انجام خیر پر منتج نہیں ہوتا، بلکہ بالآخر وہ خونریزی، قتل و غارت، جنگ و جدال اور باہمی تصادم میں مبتلا ہو کر خود کو صفحۂ ہستی سے مٹا دے گا۔ یہ حیوانی صفات انسانیت کو بالآخر تباہی کے دہانے تک لے جاتی ہیں۔
اس نظریے کے مقابلے میں دین، معنویت اور الٰہی فکر کے حامل افراد کا کہنا ہے کہ انسان مخلوقات میں سے اشرف و افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ وہ کمالِ نهایی تک پہنچے۔ لہٰذا انسان اپنی فطرت کے مطابق کمال کی طرف گامزن ہے، اور کاروانِ بشر کا انجام خیر ہوگا۔ بالآخر انسان ایک نورانی اور کامل مرحلے تک پہنچ کر اس سفر کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے گا۔
انسان کا حیوانی پہلو
اگر انسان کی ظاہری صفات، حیوانی پہلو اور نفسانی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے تو بظاہر پہلا نظریہ ابتدائی نظر میں درست محسوس ہوتا ہے۔ اسی بنا پر جب اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اسے اپنا خلیفہ بنانے کا ارادہ فرمایا اور یہ بات فرشتوں پر آشکار کی، تو انہوں نے عرض کیا:
قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ
“کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا؟”
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
“میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”
اس جواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جس مخلوق کو تم محض خونریزی اور فساد کا سرچشمہ سمجھتے ہو، اس میں ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو اصلاح، تربیت اور تہذیب کے ذریعے فرشتوں سے بھی آگے بڑھ سکتی ہیں۔
انسان کا انسانی پہلو
حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ کا حقیقی آغاز اس وقت ہوگا جب انسان پوری زمین کا وارث بنے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں صراحت کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
“اور ہم نے زبور میں، نصیحت (تورات) کے بعد لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔”
الٰہی اور معنوی نگاہ رکھنے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جب انسان کا انسانی پہلو نمایاں ہو جاتا ہے تو وہ حقیقی معنوں میں زمین پر اللہ کا خلیفہ بن جاتا ہے۔
لیکن اس انسانی پہلو کو بیدار کرنا، انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کرنا اور اس کی اصلاح و ہدایت کی ذمہ داری انبیائے الٰہی اور ان کے اوصیاء پر عائد ہوتی ہے، جو خود انسانی اقدار کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوتے ہیں اور انسانیت کی تربیت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
نیک بندوں کی بالادستی
جب اللہ تعالیٰ کے نیک بندے زمین کے وارث بنیں گے اور پوری دنیا پر ان کی حکومت قائم ہوگی، تو وہی مرحلہ انسانی تاریخ کا حقیقی آغاز ہوگا۔ اس سے پہلے کے تمام ادوار اور مراحل دراصل اسی دور کے لیے تمہید اور مقدمہ تھے۔
البتہ زمین پر اللہ کے نیک بندوں کی حکومت کا کامل اور حقیقی ظہور امامِ زمانہؑ کے ظہور کے بعد ہوگا۔ تاہم اس سے پہلے بھی مشیتِ الٰہی کے تحت تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا کے بعض خطوں میں نیک بندوں کی حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں، جو نظامِ الٰہی کے نمونے تھیں، اور تاریخ میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
اسلامی انقلاب: زمین پر نیک بندوں کی وراثت کا نمونہ
اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے زمین کا وارث بننے اور بعض خطوں میں ان کی بالادستی و حکومت کی ایک واضح اور اعلیٰ مثال ایران میں قائم ہونے والا اسلامی نظام ہے۔
امام خمینیؒ ایک عظیم اور تاریخ ساز شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں الٰہی نظام کی ضرورت کو گہرائی سے محسوس کیا اور یہ یقین پیدا کیا کہ اسلامی نظام کا نفاذ ممکن ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی پوری بابرکت زندگی اسی مقدس ہدف کے لیے وقف کر دی۔
ایران کے عوام اور علمائے دین کے تعاون سے یہ جدوجہد کامیاب ہوئی، اور ایران کی جغرافیائی حدود میں الٰہی نظام قائم ہوا، اسلامی سماجی قوانین کو عملی جامہ پہنایا گیا، اور گویا اس سرزمین پر اللہ کے نیک بندوں کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ، جو قرآن میں بیان ہوا تھا، عملاً تحقق پذیر ہوا۔
اسلامی انقلاب اور مہدویت کے باہمی اثرات
جیسا کہ بیان ہوا، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے نتیجے میں ایران میں الٰہی نظام نافذ ہوا اور اس خطے پر اللہ کے نیک بندوں کی حکومت قائم ہوئی۔ یہ نظام دراصل اس عظیم اور ہمہ گیر الٰہی نظام کا ایک نمونہ ہے جو آخرکار پوری دنیا پر قائم ہوگا، جب تمام انسان ایک ہی ولیِّ خدا کی قیادت میں ہوں گے، اور یہ مرحلہ امامِ زمانہؑ کے ظہور کے ساتھ مکمل طور پر ظہور پذیر ہوگا۔
چونکہ عالمی مهدوی حکومت کے تحقق سے پہلے جتنے بھی الٰہی نظام قائم ہوں گے، وہ سب تمہید اور مقدمہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اسی لیے:
ایک طرف عقیدۂ مہدویت اور عالمی حکومتِ امامِ زمانہؑ کے تصور نے امام خمینیؒ اور ایران کے عوام کو ظلم و استکبار کے خلاف قیام پر آمادہ کیا۔
امام کے ظہور کے انتظار نے ان میں ہمت، جرأت، استقامت، بے خوفی اور قربانی کا جذبہ پیدا کیا، اور ہر قسم کے خطرات و مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔
دوسری طرف، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جو الٰہی نظام وجود میں آیا، اس نے اسلامِ ناب محمدیؐ کی حکومت کی ایک عملی اور روشن مثال پیش کی، جس کے نتیجے میں:
دنیا کو فکرِ مہدویت سے روشناس کرانے میں مدد ملی
اس نورانی فکر کو مضبوط بنیادیں فراہم ہوئیں
سینکڑوں محققین نے اس میدان میں تخصص حاصل کیا
مہدویت کے موضوع پر سینکڑوں کتب تحریر ہوئیں
ہزاروں کانفرنسیں اور علمی نشستیں منعقد ہوئیں
یوں عقیدۂ مہدویت اور اندیشۂ مہدویت کو عالمی سطح پر غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔









آپ کا تبصرہ