تحریر: عاصم علی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تعارف
دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے امام زمانہ علیہ السلام ایک روشن امید کی کرن ہیں۔ امام زمانہ علیہ السلام، جنہیں امام محمد بن الحسن عسکری علیہ السلام بھی کہا جاتا ہے، امام حسن عسکری علیہ السلام اور حضرت نرجس خاتون علیہا السلام کے فرزند ہیں۔ ان کی ولادت نہ صرف اہل بیت کے لیے خوشی کا موقع تھی بلکہ پوری امت کے لیے اللہ کی طرف سے ایک اہم پیغامِ ہدایت اور امید بھی تھی۔
امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت 15 شعبان 255 ہجری کو سامراء (عراق) میں ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب عباسی حکمران اپنی سخت اور ظالمانہ حکومت کے ذریعے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیم اور قیادت کو محدود کر رہے تھے۔ ایسے حالات میں امام کی ولادت ایک معجزاتی اور خوشیوں بھرا واقعہ تھا، جس نے امت کے دلوں میں امید اور یقین پیدا کیا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنے نیک بندوں کے لیے زمین میں خلیفہ مقرر فرمایا" (النساء: 58)
یہ آیت امام زمانہ علیہ السلام کی ہدایت اور رہنمائی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
تاریخی پس منظر
امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت اس زمانے میں ہوئی جب اہل بیت سخت سیاسی اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہے تھے۔ عباسی خلیفہ اپنی حکومت میں اہل بیت علیہم السلام کی تعلیم اور قیادت سے خوفزدہ تھا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کو زیادہ تر اپنے گھر میں محدود رکھا گیا تھا اور عوامی سطح پر ان کی خدمات کو محدود کیا گیا تھا۔
اسی سخت حالات میں امام کی ولادت امت کے لیے امید کی کرن بنی۔ اہل بیت علیہم السلام کی حفاظت اور امام کی پرورش کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص انتظام کیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولی کو دنیا میں لانے کے لیے ہر حال میں حفاظت کرتا ہے۔
والدین اور خاندان کی اہمیت
امام حسن عسکری علیہ السلام
والد کی حیثیت سے امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند کی تربیت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ امام کی زندگی امت کی رہنمائی اور حفاظت کے لیے وقف تھی۔ ان کی تعلیم، نصیحت، اور عملی رہنمائی نے امام زمانہ علیہ السلام کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔
حضرت نرجس خاتون علیہا السلام
حضرت نرجس خاتون علیہا السلام، جو روم کی ایک معزز اور نیک خاتون تھیں، اہل بیت کے ساتھ آئیں اور امام زمانہ علیہ السلام کی پرورش میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی دعا، تربیت اور قربانی نے امام کی شخصیت میں علم، صبر، اور تقویٰ کو نمایاں کیا۔
ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے اہل بیت میں سے ہر دور میں ایک ولی بھیجا ہے، جو لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کرتا ہے۔"
یہ حدیث امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کی اہمیت اور امت کی رہنمائی میں ان کے کردار کو واضح کرتی ہے۔
ولادت کی تفصیلات اور معجزات
امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کئی معجزاتی پہلوؤں کے ساتھ ہوئی۔
خفی ولادت
چونکہ عباسی حکمران اہل بیت کی جان سے خوفزدہ تھے، امام کی ولادت بڑے راز اور حفاظت کے ساتھ ہوئی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولی کو دنیا میں لانے کے لیے خاص انتظام کیا۔
اہل بیت کی خوشی اور جشن
ولادت کے وقت اہل بیت اور مخلص پیروکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خوشی نہ صرف ذاتی خوشی تھی بلکہ امت کے لیے امید اور ہدایت کی علامت بھی تھی۔
معجزاتی واقعات
امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کے وقت زمین و آسمان میں خاص روشنی اور والدین کے لیے روحانی سکون پیدا ہوا۔
ایک روایت میں آتا ہے: "جب امام محمد بن الحسن عسکری علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو زمین اور آسمان کی روشنی میں اضافہ ہوا اور والدین کو ایک عجیب سکون ملا۔"
یہ ظاہر کرتا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کا وجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نعمت ہے۔
امام کی خصوصیات و اخلاقی صفات
امام زمانہ علیہ السلام کی خصوصیات اور اخلاق امت کے لیے نمونہ ہیں۔
علم و حکمت: امام زمانہ علیہ السلام نے دین کی رہنمائی میں علم اور حکمت میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔
صبر و تقویٰ: غیبت کے باوجود امام نے امت کی رہنمائی اور حفاظت کے لیے صبر کا مظاہرہ کیا۔
عدل و انصاف: امام کے ظہور کا مقصد دنیا میں عدل قائم کرنا ہے۔
ہمدردی اور رحمت: امام کا ہر عمل مظلوموں اور انسانیت کے لیے ہمدردی سے بھرا ہوا ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ دوسروں کے ساتھ انصاف اور حسن سلوک کرے" (النساء: 58)
یہ آیت امام زمانہ علیہ السلام کے عدل اور انصاف کے اصول کو بیان کرتی ہے۔
امت کے لیے پیغام
امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت ہمیں کئی اہم پیغامات دیتی ہے۔
امید اور یقین: مشکلات اور غیبت کے باوجود امام کی ولادت نے امت کے دلوں میں یقین پیدا کیا کہ اللہ کی مدد ہمیشہ موجود ہے۔
دعاء اور انتظار: امت کو چاہیے کہ وہ دعا، صبر، اور اخلاقی تربیت کے ساتھ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی تیاری کرے۔
عدل و انصاف کا قیام: امام کے ظہور کے بعد دنیا میں ظلم کی جگہ عدل قائم ہوگا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ایک روایت میں فرماتے ہیں:"جو شخص امام زمانہ علیہ السلام کی دعا اور ظہور کا منتظر ہے، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں نور ڈالے گا اور اس کی ہدایت کرے گا۔"
غیبت اور انتظار
امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کے بعد ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو غیبت ہے۔ غیبت کے دو مراحل ہیں:
غیبت صغریٰ
یہ وہ دور ہے جب امام عوام سے خفیہ رابطے میں تھے اور خاص نمائندوں کے ذریعے امت کی رہنمائی کرتے تھے۔ اس دوران لوگ امام کے نمائندوں کے ذریعے اپنی دینی اور عملی ضروریات پورا کرتے تھے۔
غیبت کبریٰ
یہ وہ دور ہے جب امام مکمل طور پر پوشیدہ ہیں اور امت کو ان کی ظہور کی امید پر ایمان رکھنا ہے۔ اس دور میں امت کو صبر، دعا، اور نیک اعمال کے ذریعے امام کے ظہور کی تیاری کرنی چاہیے۔
قرآن میں اللہ فرماتے ہیں:"اور اللہ کی یاد میں صبر کرنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے" (البقرہ: 153)
یہ آیت ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے انتظار میں صبر اختیار کرنے کی ہدایت دیتی ہے۔
ظہور کی اہمیت
امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا مقصد دنیا میں عدل قائم کرنا، مظلوموں کی حمایت، اور دین کی حقیقی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد دنیا میں ظلم کا خاتمہ ہوگا اور انسانیت کو اللہ کی طرف رہنمائی ملے گی۔ یہ امید امت کے لیے ایک طاقتور محرک ہے کہ وہ صبر، دعا، اور نیک اعمال کے ذریعے ظہور کی تیاری کریں۔
ایک حدیث میں آتا ہے: "جب امام مہدی علیہ السلام ظاہر ہوں گے تو زمین پر عدل قائم ہوگا جیسے پہلے ظلم اور ناانصافی کا راج تھا۔"
امت کے لیے عملی سبق
صبر اور دعا: امام زمانہ علیہ السلام کے انتظار میں امت کو صبر اور دعا کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔
علم و اخلاق کی تعلیم: امام کی تعلیم اور رہنمائی کے اصول پر عمل کر کے دنیا میں عدل اور انصاف کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
*ظلم کے خلاف قیام* امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی تیاری ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، مظلوموں کی حمایت کرنے اور دین کی حفاظت کرنے میں ہے۔
نتیجہ
امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت ایک روشنی ہے جو تاریکی اور مشکلات کے ماحول میں امت کے دلوں کو امید، یقین، اور سکون فراہم کرتی ہے۔ یہ ولادت نہ صرف تاریخی واقعہ ہے بلکہ ایک روحانی پیغام بھی ہے جو امت کے ہر فرد کے لیے درس، ہدایت، اور اخلاقی رہنمائی لاتی ہے۔
15 شعبان کی تاریخ ہر سال یاد دلاتی ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی تیاری، صبر، اور دعاؤں میں یقین رکھنا ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام کی زندگی، ولادت، اور غیبت امت کے لیے ایک مستقل رہنمائی ہے، جو ہمیں امید، علم، اخلاق، اور عدل و انصاف کے راستے پر لے جاتی ہے۔
آخر میں قرآن کی ایک آیت ہمیں یاد دلاتی ہے:"اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ عدل و انصاف کے ساتھ برکت دیتا ہے، اور جو لوگ صبر کرتے ہیں ان کے ساتھ ہے" (القصص: 26)









آپ کا تبصرہ