ہفتہ 31 جنوری 2026 - 17:24
قرآن کریم میں مہدویت (تیسرا حصہ)

حوزہ/ قرآنِ کریم کی بعض آیات مستضعفین کی مستکبرین پر فتح اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بالآخر دنیا شایستہ افراد کے قبضے میں آئے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت امام مہدی عجل‌ اللہ‌ تعالیٰ‌ فرجہ‌ الشریف اور ان کے عالمی انقلاب سے مربوط بعض قرآنی آیات درجِ ذیل ہیں:

دوسری آیت

﴿وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ﴾

(سورۂ قصص (۲۸)، آیت ۵)

ترجمہ:

اور ہم ارادہ رکھتے ہیں کہ زمین میں جن لوگوں کو کمزور سمجھا گیا، ان پر احسان کریں اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں زمین کا وارث قرار دیں۔

یہ آیت، امیرالمؤمنین امام علی علیہ‌السلام کے ارشاد (نہج‌البلاغہ) اور دیگر ائمہ اہل‌بیت علیہم‌السلام سے منقول متعدد روایات کی روشنی میں، مستضعفین کی مستکبرین پر حتمی فتح اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آخرکار دنیا نیک اور شائستہ افراد کے ہاتھ میں آئے گی۔

یہ آیت کسی محدود، عارضی یا مخصوص قومی منصوبے — جیسے بنی اسرائیل کی تاریخ — تک محدود نہیں؛ بلکہ ایک ہمہ گیر اور آفاقی قانون کو بیان کرتی ہے جو تمام ادوار اور تمام صدیوں پر محیط ہے۔ یہ حق کی باطل پر اور ایمان کی کفر پر فتح کی عظیم بشارت ہے۔ اس کا ایک نمایاں اور ابتدائی نمونہ، رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم اور ان کے جانثار صحابہ کی حکومت تھی جو اسلام کے ظہور کے بعد قائم ہوئی۔

اس قانون کا سب سے کامل اور ہمہ گیر مصداق، حضرت مہدی عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف کے ہاتھوں پوری زمین پر حکومتِ عدل و حق کا قیام ہوگا۔

یہ آیت ان قرآنی آیات میں سے ہے جو نہایت وضاحت کے ساتھ ایسی حکومت کے ظہور کی بشارت دیتی ہے؛ اسی بنا پر اہل‌بیت علیهم‌السلام نے اپنی تفاسیر میں اس عظیم ظہور کی جانب اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ‌السلام نہج‌البلاغہ میں فرماتے ہیں:

«لَتَعْطِفَنَّ الدُّنْیَا عَلَیْنَا بَعْدَ شِمَاسِهَا عَطْفَ الضَّرُوسِ عَلَی وَلَدِهَا»

پھر اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ﴾

(نہج‌البلاغہ، حکمت ۲۰۹)

ترجمہ:

دنیا اپنی سرکشی اور بے رخی کے بعد ہماری طرف اس طرح پلٹے گی، جیسے بدخو دودھ دینے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف محبت سے جھک جاتی ہے۔

ایک اور حدیث میں، امام علی علیہ‌السلام اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں:

«هُمْ آلُ مُحَمَّدٍ يَبْعَثُ اللَّهُ مَهْدِيَّهُمْ بَعْدَ جَهْدِهِمْ فَيُعِزُّهُمْ وَ يُذِلُّ عَدُوَّهُمْ»

(شیخ طوسی، کتاب الغیبة، ص ۱۸۴)

ترجمہ:

یہ لوگ آلِ محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم ہیں؛ اللہ تعالیٰ ان کی سختیوں اور مشقتوں کے بعد ان کے مہدی کو مبعوث کرے گا، پھر انہیں عزّت عطا فرمائے گا اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کر دے گا۔

جاری ہے…

ماخوذ از: کتاب «درسنامۂ مہدویت»

تألیف: خدامراد سلیمیان (مختصر ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha