حوزہ نیوز ایجنسی | معصومین علیہمالسلام کی گراں قدر تعلیمات میں حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے حقیقی منتظرین کے لیے اس قدر بلند مقام و منزلت بیان کی گئی ہے کہ حقیقتاً انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے، اور یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ محض انتظار جیسی کیفیت آخر اس قدر عظیم قدر و قیمت کی حامل کیسے ہو سکتی ہے؟
ذیل میں ہم معصومین علیہمالسلام کی روایات کی روشنی میں منتظرینِ حقیقی کی بعض فضیلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
سب سے افضل انسان
زمانہ غیبت اور عصرِ انتظار کے انسانوں پر حاکم خصوصی حالات کے باعث، اگر وہ حقیقی منتظر ہوں تو وہ نہایت بلند مقام کے حامل ہوتے ہیں۔
امام زین العابدین علیہالسلام اس بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: «إِنَّ أَهْلَ زَمَانِ غَیْبَتِهِ وَ الْقَائِلِینَ بِإِمَامَتِهِ وَ الْمُنْتَظِرِینَ لِظُهُورِهِ عجلاللهتعالیٰفرجهالشریف أَفْضَلُ مِنْ أَهْلِ کُلِّ زَمَانٍ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَی ذِکْرُهُ أَعْطَاهُمْ مِنَ الْعُقُولِ وَ الْأَفْهَامِ وَ الْمَعْرِفَةِ مَا صَارَتْ بِهِ الْغَیْبَةُ عَنْهُمْ بِمَنْزِلَةِ الْمُشَاهَدَةِ».
(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۳۱۹)
ترجمہ:
زمانۂ غیبت میں اس امام کے ماننے والے، ان کی امامت پر ایمان رکھنے والے اور ان کے ظہور کے منتظر، ہر زمانے کے لوگوں سے افضل ہیں؛ اس لیے کہ خداوندِ متعال نے انہیں ایسی عقل، فہم اور معرفت عطا کی ہے کہ غیبت ان کے نزدیک مشاہدے کے مانند ہو گئی ہے۔
ظہور کے وقت خیمۂ قیادت میں حاضر ہونے والوں کے مانند
تمام نیک بندوں کی سب سے بڑی آرزو یہ ہے کہ وہ ایسے دور میں زندگی کریں جہاں فساد، ظلم اور تباہی کا نام و نشان نہ ہو۔ یہ فضیلت اس وقت اپنے کمال کو پہنچتی ہے جب انسان ظہور کے وقت خیمۂ حضرت میں موجود ہو۔
امام جعفر صادق علیہالسلام ان حقیقی منتظرین کے بارے میں جو زمانۂ ظہور کو درک نہیں کر پاتے، فرماتے ہیں: «مَنْ مَاتَ مِنْکُمْ عَلَی هَذَا الْأَمْرِ مُنْتَظِراً، كَانَ كَمَنْ هُوَ فِي الْفُسْطَاطِ الَّذِي لِلْقَائِمِ».
(الکافی، ج ۵، ص ۲۲)
ترجمہ:
تم میں سے جو شخص اس امر پر ایمان رکھتے ہوئے، انتظار کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جائے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو قائم آلِ محمد عجلاللہفرجہ کے خیمے میں موجود ہو۔
نماز گزار اور روزہ دار کے برابر اجر
نماز اور روزہ افضل ترین عبادات میں سے ہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اپنی زندگی کو ظہور کے انتظار میں بسر کرے، وہ گویا ہمیشہ نماز و روزے کی حالت میں ہے۔
امام محمد باقر علیہالسلام فرماتے ہیں: «وَاعْلَمُوا أَنَّ الْمُنْتَظِرَ لِهَذَا الْأَمْرِ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ».
(الکافی، ج ۲، ص ۲۲۲)
ترجمہ:
آگاہ رہو! اس امر کے منتظر کا اجر روزہ دار اور شب زندہ دار کے برابر ہے۔
امت کے سب سے معزز افراد اور رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہوسلم کے رفیق
انسانوں میں سب سے زیادہ باعظمت ذات رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہوسلم کی ہے، جو اشرف الانبیاء اور خدا کے محبوب ترین بندے ہیں۔ پس جو شخص عصرِ انتظار میں صحیح اور شایانِ شان طرزِ زندگی اختیار کرے، وہ امتِ رسول کا سب سے معزز فرد اور آنحضرت کا رفیق ہوگا۔
خود رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہوسلم نے فرمایا: «… أُولٰئِكَ رُفَقَائِي، وَأَكْرَمُ أُمَّتِي عَلَيَّ».
(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۲۸۶)
ترجمہ:
یہی لوگ میرے رفیق اور میری امت کے سب سے معزز افراد ہیں۔
راہِ خدا کے مجاہد، رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہوسلم کے ہم رکاب
راہِ خدا میں جہاد کرنے والے انسانوں میں سب سے زیادہ بافضیلت ہیں، اور یہ فضیلت اس وقت اپنے کمال کو پہنچتی ہے جب یہ جہاد رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہوسلم کے ساتھ ہو۔
امام حسین علیہالسلام فرماتے ہیں: «إِنَّ الصَّابِرَ فِي غَيْبَتِهِ عَلَى الْأَذَى وَالتَّكْذِيبِ، بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ بِالسَّيْفِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صلّىاللهعليهوآله».
(عیون أخبار الرضا علیہالسلام، ج ۱، ص ۶۸)
ترجمہ:
جو شخص زمانۂ غیبت میں اذیت، آزار اور تکذیب پر صبر کرے، وہ اس مجاہد کی مانند ہے جو رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہوسلم کے ساتھ تلوار کے ذریعے جہاد کر رہا ہو۔
صدرِ اسلام کے ہزار شہداء کے برابر اجر
اہلِ بیت علیہمالسلام کی ولایت پر ثابت قدم رہنے والے حقیقی منتظرین کے لیے ایسا عظیم اجر بیان ہوا ہے جو صدرِ اسلام کے ہزار شہداء کے برابر ہے
امام زین العابدین علیہالسلام فرماتے ہیں: «مَنْ ثَبَتَ عَلَى مُوَالَاتِنَا فِي غَيْبَةِ قَائِمِنَا، أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ أَجْرَ أَلْفِ شَهِيدٍ مِنْ شُهَدَاءِ بَدْرٍ وَأُحُدٍ».
(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۳۲۳)
ترجمہ:
جو شخص ہمارے قائم علیہالسلام کی غیبت کے زمانے میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہے، اللہ تعالیٰ اسے بدر و اُحد کے ہزار شہداء کا اجر عطا فرماتا ہے۔
جاری ہے…
ماخوذ از: کتاب «درسنامۂ مہدویت»، تألیف: خدامراد سلیمیان (مختصر ترمیم کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ