جمعہ 30 جنوری 2026 - 15:49
منتظرین امام زمانہ (عج) کی ذمہ داریاں اور فرائض

حوزہ/ منتظرین امام زمانہ (عج) کے فرائض اور ذمہ داریاں صرف دورۂ غیبت سے مخصوص نہیں ہیں؛ غالباً انہیں فرائضِ دورۂ غیبت میں شمار کرنے کا مقصد ان کی اہمیت پر مزید تاکید کرنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | منتظرین امام زمانہ علیہ السلام کے فرائض و ذمہ داریوں کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے؛ تاہم اختصار کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس دور میں انسانوں کی ذمہ داریاں دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں

عمومی فرائض:

یہ وہ فرائض ہیں جنہیں معصومین علیہم‌السلام نے دورۂ غیبت کی تکالیف میں شمار فرمایا ہے، لیکن یہ صرف اسی دور سے مخصوص نہیں بلکہ ہر زمانے میں ان کی انجام دہی لازم ہے۔ ممکن ہے انہیں دورۂ غیبت کے فرائض میں ذکر کرنے کا مقصد محض تاکید ہو۔

ان میں سے چند اہم فرائض درج ذیل ہیں:

۱۔ ہر زمانے کے امام کی معرفت

ہر دور میں — بالخصوص عصرِ غیبت میں — اسلامی تعلیمات کے پیروکاروں کے لیے اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کرنا نہایت اہم اور موردِ تاکید ہے۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام فرماتے ہیں:«إِعْرِفْ إِمَامَکَ فَإِنَّکَ إِذَا عَرَفْتَ لَمْ یَضُرَّکَ تَقَدَّمَ هَذَا الْأَمْرُ أَوْ تَأَخَّرَ.»

(الکافی، ج ۱، ص ۳۷۱)

ترجمہ:

اپنے امام کو پہچانو؛ کیونکہ جب تم اپنے امام کو پہچان لو گے تو اس امر کا آگے پیچھے ہونا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

یقیناً امام کی معرفت، خداوندِ متعال کی معرفت سے جدا نہیں بلکہ اسی کا ایک پہلو ہے؛ جیسا کہ دعائے معرفت میں ہم خداوندِ متعال سے عرض کرتے ہیں:«اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِیَّکَ، اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَکَ، اللَّهُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَإِنَّکَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی.»

(الکافی، ج ۱، ص ۳۴۲)

ترجمہ:

اے اللہ! مجھے اپنی معرفت عطا فرما، کہ اگر تو نے مجھے اپنی معرفت نہ دی تو میں تیرے نبی کو نہیں پہچان سکوں گا۔ اے اللہ! مجھے اپنے رسول کی معرفت عطا فرما، کہ اگر تو نے مجھے اپنے رسول کی معرفت نہ دی تو میں تیری حجت کو نہیں پہچان سکوں گا۔ اے اللہ! مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا فرما، کہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت نہ دی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاؤں گا۔

معصومین علیہم‌السلام کی روایات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ بندگیِ خدا میں تمام فضیلتیں اور قدریں، امام علیہ‌السلام کی معرفت اور اس پر التزام سے وابستہ ہیں۔

۲۔ اہلِ بیت علیہم‌السلام سے محبت

ہر زمانے میں ہماری ایک بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ اہلِ بیتِ رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم سے — بحیثیت اولیائے الٰہی — محبت اور دوستی رکھیں۔ آخری معصوم کے دورۂ غیبت میں، امام کی غیبت کے باعث بعض عوامل انسان کو اس اہم فریضے سے دور کر سکتے ہیں؛ اسی لیے روایات میں اس محبت پر ثابت قدم رہنے کی خاص تاکید کی گئی ہے۔

یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ اہلِ بیت علیہم‌السلام سے محبت، خود خداوندِ متعال کا حکم ہے۔ اس سے پہلے کہ آنحضرت دنیا میں تشریف لائیں، پاکیزہ انسان ان سے اظہارِ محبت کر چکے تھے۔ رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم، جب اپنے آخری وصی کا ذکر فرماتے ہیں تو انتہائی تعظیم اور محبت کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں: «بِأَبِی وَ أُمِّی سَمِیِّی وَ شَبِیهِی وَ شَبِیهُ مُوسَی بْنِ عِمْرَانَ عَلَیْهِ جُیوبُ النُّور...»

(کفایة‌الاثر، ص ۱۵۶)

ترجمہ:

میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں! وہ میرا ہم نام، میرا شبیہ اور موسیٰ بن عمران کا شبیہ ہے، جس کے گرد نور کے ہالے ہیں۔

اسی طرح امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام، آخری امام کے زمانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «فَانْظُرُوا أَهْلَ بَیتِ نَبِیکُمْ فَإِنْ لَبَدُوا فَالْبُدُوا، وَ إِنِ اسْتَنْصَرُوکُمْ فَانْصُرُوهُمْ... بِأَبِی ابْنُ خِیرَةِ الْإِمَاءِ.»

(بحارالانوار، ج ۳۴، ص ۱۱۸)

ترجمہ:

اپنے نبی کے اہلِ بیت کی طرف نگاہ رکھو؛ اگر وہ خاموش ہو جائیں اور گھروں میں بیٹھ جائیں تو تم بھی خاموش رہو، اور اگر وہ تم سے مدد طلب کریں تو ان کی مدد کرو۔ بے شک خداوندِ متعال ہمارے اہلِ بیت میں سے ایک مرد کے ذریعے گشائش عطا کرے گا۔ میرے باپ اس پر قربان ہوں! جو بہترین کنیز کا فرزند ہے۔

خلاّد بن صفّار کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ‌السلام سے پوچھا گیا:

“کیا قائم پیدا ہو چکے ہیں؟”

فرمایا: «لَا، وَ لَوْ أَدْرَکْتُهُ لَخَدَمْتُهُ أَیَّامَ حَیاتِی.»

(بحارالانوار، ج ۵۱، ص ۱۴۸)

ترجمہ:

نہیں؛ اور اگر میں انہیں پا لیتا تو اپنی پوری زندگی ان کی خدمت میں گزار دیتا۔

اسی طرح امام محمد باقر علیہ‌السلام فرماتے ہیں: «أَمَا إِنِّی لَوْ أَدْرَکْتُ ذَلِکَ لَأَبْقَیتُ نَفْسِی لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْر.»

(بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۲۴۳)

ترجمہ:

اگر میں اس زمانے کو درک کرتا تو اپنی جان صاحبِ امر کے لیے وقف کر دیتا۔

ان روایات کی روشنی میں اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ دورۂ غیبت میں اہلِ بیت علیہم‌السلام — بالخصوص آخری حجتِ الٰہی — سے محبت اور وابستگی نہایت اہم اور قیمتی فریضہ ہے۔

۳۔ تقوائے الٰہی اور پرہیزگاری

تقوائے الٰہی ہر زمانے میں لازم ہے، لیکن دورۂ غیبت میں خصوصی حالات کے باعث اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے؛ کیونکہ اس زمانے میں گمراہی کے اسباب زیادہ ہو جاتے ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام فرماتے ہیں: «إِنَّ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ غَیْبَةً فَلْیَتَّقِ اللَّهَ عَبْدٌ وَ لْیَتَمَسَّکْ بِدِینِهِ.»

(کمال‌الدین، ج ۲، ص ۳۴۳)

ترجمہ:

یقیناً صاحبِ امر کے لیے غیبت ہے؛ پس بندے کو چاہیے کہ تقوائے الٰہی اختیار کرے اور اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے۔

۴۔ ائمہ علیہم‌السلام کی ہدایات کی پیروی

تمام ائمہ علیہم‌السلام نورِ واحد ہیں، اور ان کی ہدایات ایک ہی مقصد کی طرف رہنمائی کرتی ہیں؛ لہٰذا ایک امام کی اطاعت، درحقیقت سب کی اطاعت ہے۔ جب ایک امام تک براہِ راست رسائی نہ ہو، تو دیگر ائمہ کی تعلیمات ہدایت کا چراغ بنتی ہیں۔

یونس بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں امام موسیٰ کاظم علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: «یَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَنْتَ الْقَائِمُ بِالْحَقِّ؟»

آپ علیہ‌السلام نے فرمایا: «أَنَا الْقَائِمُ بِالْحَقِّ، وَلَكِنَّ الْقَائِمَ الَّذِي یُطَهِّرُ الْأَرْضَ... فَطُوبَى لَهُمْ، وَهُمْ وَاللَّهِ مَعَنَا فِي دَرَجَاتِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.»

(کمال‌الدین و تمام‌النعمة، ج ۲، ص ۳۶۱)

ترجمہ:

میں قائم حق ہوں؛ لیکن وہ قائم جو زمین کو دشمنانِ خدا سے پاک کرے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا، وہ میرے فرزندوں میں سے پانچواں ہوگا۔ اس کے لیے طویل غیبت ہوگی، اس میں کچھ لوگ منحرف ہو جائیں گے اور کچھ ثابت قدم رہیں گے۔

پھر فرمایا:

خوشا حال ہیں ہمارے وہ شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت میں ہماری ریسمان کو تھامے رکھتے ہیں، ہماری ولایت پر ثابت قدم اور ہمارے دشمنوں سے بیزار رہتے ہیں؛ وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں۔ وہ ہمیں امام مانتے ہیں اور ہم انہیں شیعہ مانتے ہیں۔ پس ان کے لیے خوش خبری ہو، اللہ کی قسم! وہ قیامت کے دن ہمارے درجات میں ہمارے ساتھ ہوں گے۔

جاری ہے…

ماخوذ از: کتاب «درسنامۂ مہدویت»، تألیف: خدامراد سلیمیان (مختصر ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha