حوزہ نیوز ایجنسی | گزشتہ حصے میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ وہ روایات جن میں انتظار کا ذکر آیا ہے، مجموعی طور پر دو بنیادی اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں۔
روایات کی دوسری قسم «انتظارِ فرج بمعنیِ خاص» سے متعلق ہے، جس پر اس حصے میں گفتگو کی جا رہی ہے۔
انتظارِ فرج بمعنیِ خاص
اس مفہوم میں انتظار سے مراد اس مستقبل کا انتظار ہے جو ایک حقیقی الٰہی معاشرے کی تمام خصوصیات کا حامل ہو، اور جس کا واحد مصداق آخری حجت الٰہی، یعنی حضرت ولیِ عصر عجلاللہتعالیفرجہالشریف کی عالمی حکومت کا زمانہ ہے۔
معصومین علیہمالسلام کے بعض ارشادات اس حقیقت کو یوں واضح کرتے ہیں:
حضرت امام محمد باقر علیہالسلام خدا کے منتخب دین کی تعریف بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: «…وَالتَّسْلِیمُ لِاَمْرِنا وَالوَرَعُ وَالتَّواضُعُ وَاِنتِظارُ قائِمِنا…»
(الکافی، جلد ۲، صفحہ ۲۳)
“…اور ہمارے امر کے سامنے تسلیم، پرہیزگاری، فروتنی، اور ہمارے قائم کے ظہور کا انتظار۔”
اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہالسلام فرماتے ہیں
«عَلَیْکُمْ بِالتَّسْلیمِ وَالرَّدِّ اِلَینا وَاِنْتِظارِ اَمْرِنا وَامْرِکُمْ وَفَرَجِنا وَفَرَجِکُمْ.»
(رجال کشی، صفحہ ۱۳۸)
“تم پر لازم ہے کہ تسلیم اختیار کرو، معاملات کو ہماری طرف پلٹاؤ، ہمارے امر کے انتظار میں رہو، اپنے امر کے بھی، اور ہمارے فرج کے ساتھ ساتھ اپنے فرج کے منتظر رہو۔”
حضرت امام مہدی عجلاللہتعالیفرجہالشریف کے ظہور سے متعلق روایات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انتظارِ ظہور صرف موعودہ معاشرے تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ خود یہ انتظار بذاتِ خود ایک مستقل دینی مقام رکھتا ہے۔
یعنی اگر کوئی شخص حقیقی اور شعوری انتظار کی حالت میں ہو، تو اس کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ لازماً اپنے مطلوب تک پہنچے؛ بلکہ محض حالتِ انتظار ہی اس کے لیے باعثِ فضیلت ہے۔
اسی سلسلے میں ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہالسلام سے عرض کیا: «مَا تَقُولُ فِیمَنْ مَاتَ عَلَی هَذَا الْأَمْرِ مُنْتَظِراً لَهُ؟»
“آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو ولایتِ اہلِ بیت علیہمالسلام پر قائم ہو، حکومتِ حق کے ظہور کا منتظر رہے، اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جائے؟”
حضرت امام صادق علیہالسلام نے ارشاد فرمایا:
«هُوَ بِمَنزِلَةِ مَنْ کَانَ مَعَ الْقَائِمِ فِی فُسْطَاطِهِ.»
پھر تھوڑی دیر خاموش رہے، اس کے بعد فرمایا:
«هُوَ کَمَنْ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّهِ صَلَّیاللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.»
(بحارالانوار، جلد ۵۲، صفحہ ۱۲۵)
“وہ شخص اس کے مانند ہے جو حضرت قائم عجلاللہتعالیفرجہالشریف کے خیمے میں ان کے ساتھ موجود ہو۔”
پھر فرمایا: “بلکہ وہ اس شخص کی مانند ہے جو رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہوسلم کے ساتھ ان کی جدوجہد میں شریک رہا ہو۔”
جاری…
ماخوذ از: کتاب «درسنامۂ مہدویت»، تالیف خدامراد سلیمیان (مختصر ترمیم کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ