حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور ان کے عالمی انقلاب سے متعلق بعض قرآنی آیات حسبِ ذیل ہیں:
آیتِ چہارم
﴿وَ لِکُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ أَیْنَ مَا تَکُونُوا یَأْتِ بِکُمُ اللّٰهُ جَمِیعًا إِنَّ اللّٰهَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ﴾
(البقرہ ۲: ۱۴۸)
ہر گروہ کے لیے ایک رخ (قبلہ) ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے؛ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاؤ۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے، اللہ تم سب کو جمع کر لے گا؛ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام سے مروی متعدد روایات میں جملہ «أَیْنَ مَا تَکُونُوا یَأْتِ بِکُمُ اللّٰهُ جَمِیعًا» کی تفسیر، ظہور کے وقت حضرت امام مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے اصحاب کے جمع ہونے سے کی گئی ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
«یَعْنِی أَصْحَابَ الْقَائِمِ الثَّلَاثَ مِائَةِ وَ الْبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا… یَجْتَمِعُونَ وَاللّٰهِ فِی سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ کَقَزَعِ الْخَرِیفِ.»
(الکافی، ج ۸، ص ۳۱۳)
یعنی اس سے مراد قائم علیہ السلام کے اصحاب ہیں جو تین سو سے کچھ اوپر ہیں… خدا کی قسم! وہ ایک ہی گھڑی میں جمع ہو جاتے ہیں، جیسے خزاں کے بادل یکایک سمٹ آتے ہیں۔
امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
«وَ ذَلِکَ وَاللّٰهِ أَنْ لَوْ قَدْ قَامَ قَائِمُنَا یَجْمَعُ اللّٰهُ إِلَیْهِ شِیعَتَنَا مِنْ جَمِیعِ الْبُلْدَانِ.»
(بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۲۹۱)
یعنی جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو اللہ ہمارے شیعوں کو تمام شہروں سے اس کی طرف جمع کر دے گا۔
یہ تفسیر آیت کے باطنی مفاہیم میں سے ہے؛ کیونکہ روایات کے مطابق قرآن کی آیات کے متعدد معانی ہوتے ہیں: ایک ظاہری اور دوسرا باطنی، جسے صرف رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ائمۂ معصومین علیہم السلام اور اللہ کے منتخب بندے جانتے ہیں۔
جس خدا کو یہ قدرت حاصل ہے کہ قیامت کے دن انسان کے بکھرے ہوئے ذرات کو دنیا کے مختلف گوشوں سے جمع کر لے، وہ بآسانی حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے یار و انصار کو ایک ہی دن اور ایک ہی ساعت میں جمع کر سکتا ہے، تاکہ عالمی عدل کی حکومت قائم ہو اور ظلم و ستم کا خاتمہ ہو۔
آیتِ پنجم
﴿بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ وَمَا أَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیظٍ﴾
(ہود ۱۱: ۸۶)
روایات میں «بَقِیَّتُ اللّٰهِ» کی تفسیر حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف بلکہ دیگر ائمۂ معصومین علیہم السلام سے بھی کی گئی ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
«أَوَّلُ مَا یَنْطِقُ بِهِ الْقَائِمُ هَذِهِ الْآیَةُ… ثُمَّ یَقُولُ: أَنَا بَقِیَّةُ اللّٰهِ فِی أَرْضِهِ.»
(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۳۳۰)
قائم علیہ السلام کے قیام کے بعد سب سے پہلا کلام یہی آیت ہوگا، پھر فرمائیں گے: میں ہی روئے زمین پر بقیۃ اللہ ہوں۔
اگرچہ آیت کے ظاہری سیاق میں مخاطب قومِ شعیب ہے اور «بقیۃ اللہ» سے مراد حلال نفع یا الٰہی اجر ہے، تاہم ہر وہ نفع بخش ہستی جو اللہ کی طرف سے انسانوں کے لیے باقی رکھی گئی ہو، «بقیۃ اللہ» کہلانے کی مستحق ہے۔ اس اعتبار سے تمام انبیاء اور ائمہ علیہم السلام بقیۃ اللہ ہیں۔
چونکہ حضرت مہدی موعود عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف، بعثتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آخری پیشوا اور عظیم ترین رہبر ہیں، اس لیے وہ اس لقب کے سب سے روشن اور کامل مصداق ہیں۔
آیتِ ششم
﴿هُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدٰی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ﴾
(التوبہ ۹: ۳۳)
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔
یہ آیت انہی الفاظ کے ساتھ سورۂ صف میں اور معمولی فرق کے ساتھ سورۂ فتح میں بھی آئی ہے، جو اس اہم حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام کا عالمی غلبہ ایک یقینی امر ہے۔
بعض مفسرین نے اس غلبے کو محدود اور علاقائی قرار دیا ہے، لیکن چونکہ آیت مطلق ہے اور اس میں کوئی قید نہیں، اس لیے درست مفہوم یہ ہے کہ آخرکار اسلام پوری زمین پر غالب آئے گا۔
اگرچہ یہ وعدہ ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوا، لیکن روایات کے مطابق اس کا نقطۂ عروج حضرت مہدی عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے ظہور کے وقت ہوگا۔ شیخ صدوق رحمہاللہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:
«وَاللّٰهِ مَا نَزَلَ تَأْوِیلُهَا بَعْدُ… حَتّٰی یَخْرُجَ الْقَائِمُ…»
(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۲، ص ۶۷۰)
یعنی اس آیت کا حقیقی تأویل ابھی ظاہر نہیں ہوا اور قائم عجلاللہتعالیٰفرجہالشریف کے ظہور کے وقت اس کی تاویل مکمل ہوگی۔
بعض شیعہ علماء کے مطابق، مہدویت سے متعلق قرآنی آیات کی تعداد ۱۲۰ سے زیادہ ہے؛ تاہم یہاں اسی مقدار پر اکتفا کیا گیا ہے۔
ماخوذ از: «درسنامۂ مهدویت»، تصنیف: خدامراد سلیمیان (مختصر تصرف کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ